امریکہ ،کینیڈا ٹیرف کی جنگ

قارئین، میں ان دنوں کینیڈا میں ہوں اور گریٹر ٹورنٹو کے ایک شہر آشوا میں اپنے بھتیجے احمد رضا گورایہ کے گھر بیٹھ کر امریکہ اور کینیڈا کے درمیان جاری تجارتی کشیدگی کا جائزہ لینا خاصا دلچسپ ہے، آپ ان دنوں جہاں جائیں یہی بحث دکھائی دیتی ہے کہ اس ٹیرف سے کینیڈا یا امریکہ میں سے کس کا زیادہ نقصان ہوگا ،چودھری منیر رنگا ہمارے بھائیوں جیسے دوست ہیں گزشتہ دنوں ان کے بڑے بھائی چودھری سلیم کا بفلو امریکہ میں انتقال ہو گیا تھا جن کے ایصال ثواب کیلئےہفتہ کے روز منیر صاحب کے گھر مارکھم میں دوست احباب اکٹھے ہوئے تو وہاں بھی دعا کے بعد یہی بحث جاری تھی ،فاروق ارشد چودھری،عرفان بھنگو، میجر عابد،ڈاکٹر طارق،عامر منیر، قاسم علی کے علاوہ سکھ برادری سے تعلق رکھنے والے منموھن دوگل،بلوندر سنگھ،رنجیو جھنگرا اور پال سنگھ نے اپنے اپنے خیالات کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ کے اقدامات پر سخت تنقید کرتے ہوئے کینیڈین وزیر اعظم مارک کارنی کو ڈٹے رہنے کا مشورہ دیا ،مجھے لگا کہ کینیڈا کے لوگوں کی اکثریت اپنے وزیر اعظم کے ساتھ کھڑی ہے، دونوں ملک جغرافیائی طور پر ایک دوسرے کے سب سے قریبی پڑوسی ہیں لیکن اس وقت ان کے درمیان سب سے زیادہ زیرِ بحث چیز سرحد نہیں بلکہ ٹیرف ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کینیڈین مصنوعات پر بھاری محصولات عائد کیے جانے کے جواب میں وزیراعظم مارک کارنی نے بھی ’’ترکی بہ ترکی‘‘ جواب دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے تقریباً 27.6 ارب کینیڈین ڈالر مالیت کی کینیڈین مصنوعات پر عائد نئے ٹیرف کے جواب میں امریکی مصنوعات پر بھی نئے جوابی ٹیرف عائد کیے جائیں گے، جو 8 ستمبر 2026 سے نافذ ہوں گے۔

امریکہ اور کینیڈا دنیا کے ان ممالک میں شامل ہیں جن کی معیشت ایک دوسرے سے غیر معمولی حد تک جڑی ہوئی ہے، دونوں ملکوں کے درمیان ہر روز اربوں ڈالر کی اشیا، خام مال، توانائی، صنعتی پرزہ جات اور تیار مصنوعات سرحد پار کرتی ہیں،آٹو موبائل، اسٹیل، ایلومینیم، توانائی، زراعت اور خوراک سمیت کئی شعبوں میں ایک ملک کی صنعت دوسرے ملک کی سپلائی چین کا حصہ ہے،ایسے میں ایک دوسرے پر ٹیرف لگانا بظاہر مخالف ملک کو سزا دینے کا اقدام ہے مگر اس کا کچھ نقصان اپنے ملک کے کاروبار اور صارفین کو بھی برداشت کرنا پڑتا ہے۔وزیراعظم مارک کارنی نے اس معاملے میں ایک نسبتاً واضح مؤقف اختیار کیا ہے کہ کینیڈا امریکہ کے ساتھ معاہدہ ضرور چاہتا ہے لیکن کسی قیمت پر نہیں،کارنی کے مطابق امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت ہوئی تھی، لیکن بعض امریکی مطالبات ایسے تھے جنہیں کینیڈا اپنے قومی مفاد کے خلاف سمجھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اوٹاوا نے مذاکرات کو ایک طرف رکھتے ہوئے امریکی اقدامات کا جواب دینے کا فیصلہ کیا۔یہاں کارنی کی حکمت عملی کو سمجھنا ضروری ہے، وہ صرف امریکہ کو جواب دینے کی کوشش نہیں کررہے بلکہ کینیڈا کو یہ پیغام بھی دے رہے ہیں کہ ملک کی معیشت کا مستقبل صرف امریکی منڈی سے وابستہ نہیں ہونا چاہیے، کینیڈا کی جانب سے اعلان کردہ جوابی اقدامات میں مختلف امریکی مصنوعات شامل ہیں، بعض اشیا پر 15 فیصد، بعض پر 25 فیصد جبکہ کچھ مصنوعات پر 50 فیصد تک ٹیرف عائد کیا جائے گا،اس فہرست میں اسٹیل، ایلومینیم، گھریلو آلات، زرعی مصنوعات، کاغذ، الیکٹرانکس، فرنیچر اور دیگر اشیا شامل ہیں،لیکن سوال یہ ہے کہ اس جنگ کا اصل نقصان کس کو ہوگا؟عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ اگر حکومت کسی غیر ملکی مصنوعات پر 50 فیصد ٹیرف لگا دے تو اس کا 50 فیصد نقصان دوسرے ملک کو ہوگا، حقیقت اس سے مختلف ہے،ٹیرف عام طور پر درآمد کنندہ ادا کرتا ہے اور درآمد کنندہ اس اضافی لاگت کو اکثر قیمت میں شامل کردیتا ہے، یوں آخرکار بوجھ صارف تک پہنچ سکتا ہے۔

اگر امریکہ کینیڈین اسٹیل پر بھاری ٹیرف عائد کرتا ہے تو امریکی صنعتوں کیلئےاسٹیل مہنگا ہوسکتا ہے،اسی طرح اگر کینیڈا امریکی گھریلو مصنوعات یا الیکٹرانکس پر ٹیرف لگاتا ہے تو کینیڈین صارف کو ان مصنوعات کیلئے زیادہ قیمت ادا کرنا پڑ سکتی ہے،یعنی ٹیرف جنگ میں دونوں حکومتیں ایک دوسرے کو نشانہ بناتی ہیں لیکن گولی کا کچھ اثر اپنے گھر میں بھی ہوتا ہے،عام کینیڈین شہری پر اثر دیکھا جائے تو کینیڈا میں پہلے ہی مہنگائی اور زندگی گزارنے کے اخراجات ایک بڑا مسئلہ ہیں، گھر، کرایہ، خوراک، گاڑی، انشورنس اور دیگر ضروریات عام خاندان کے بجٹ پر دباؤ ڈال رہی ہیں،ایسے میں اگر امریکی مصنوعات مہنگی ہوتی ہیں تو صارف کے پاس دو راستے ہوں گے، زیادہ قیمت ادا کرے یا کینیڈین اور دوسرے ملکوں کی مصنوعات کا متبادل تلاش کرے،یہاں موجودہ بحران کینیڈا کیلئے خطرہ بھی ہے اور موقع بھی،خطرہ اس لیے کہ مہنگائی میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے،موقع اس لیے کہ کینیڈین صنعت کو مقامی مارکیٹ میں اپنی جگہ مضبوط کرنے کا موقع مل سکتا ہے،لیکن اس کیلئے صرف ،،کینیڈین اشیا خریدو،، کا نعرہ کافی نہیں ہوگا، کینیڈین مصنوعات کو معیار، قیمت اور دستیابی کے لحاظ سے بھی مقابلہ کرنا ہوگا۔دوسری طرف کینیڈا کی تجارت طویل عرصے سے امریکی مارکیٹ پر بہت زیادہ منحصر رہی ہے،کارنی حکومت اب اسی انحصار کو کم کرنے کی بات کررہی ہے،یورپ، ایشیا، بھارت، مشرق وسطیٰ اور بحرالکاہل کے ممالک کے ساتھ تجارت بڑھانا کینیڈا کیلئےایک طویل المدتی حکمت عملی ہوسکتی ہے جو آسان کام نہیں، امریکہ کینیڈا کیلئے صرف ایک مارکیٹ نہیں بلکہ سب سے قریب، سب سے بڑی اور سب سے زیادہ مربوط مارکیٹ ہے، اس لیے اسے مکمل طور پر تبدیل کرنا ممکن نہیں لیکن انحصار کم کرنا ضرور ممکن ہے۔اس تجارتی جنگ کو صرف کینیڈا کا مسئلہ سمجھنا بھی درست نہیں،کینیڈا اور امریکہ کی صنعتیں اس قدر ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں کہ ایک ملک کی پالیسی دوسرے ملک کے کاروبار کو بھی متاثر کرتی ہے،خصوصاً آٹو موبائل صنعت اس کی بڑی مثال ہے، ایک گاڑی کے مختلف پرزے کئی مرتبہ امریکہ اور کینیڈا کی سرحد عبور کرکے آخرکار تیار گاڑی کا حصہ بنتے ہیں،اسی طرح امریکی صنعت کینیڈین توانائی، خام مال اور صنعتی مصنوعات پر انحصار کرتی ہے۔اسلئے اگر تجارتی جنگ طویل ہوتی ہے تو اس کے اثرات دونوں ملکوں میں محسوس ہوں گے۔

امریکہ کے ساتھ موجودہ کشیدگی کینیڈا کو مجبور کرسکتی ہے کہ وہ مقامی صنعت مضبوط کرے، نئی برآمدی منڈیاں تلاش کرے، بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کرے اور اپنی قدرتی دولت کو زیادہ مؤثر انداز میں عالمی منڈیوں تک پہنچائے،اگر کینیڈا ایسا کرنے میں کامیاب ہوگیا تو آج کی ٹیرف جنگ کل اس کی معاشی خودمختاری کیلئے ایک اہم موڑ ثابت ہوسکتی ہے،لیکن اگر معاملہ صرف ایک دوسرے پر ٹیرف لگانے تک محدود رہا، مقامی صنعت کو مسابقت کے قابل نہ بنایا گیا اور نئی منڈیاں تلاش نہ کی گئیں تو اس جنگ کی قیمت بالآخر عام کینیڈین صارف اور کاروبار کو ادا کرنا پڑے گی،امریکہ کینیڈا کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور دونوں ایک دوسرے کو نظرانداز نہیں کرسکتے،لیکن موجودہ بحران نے کینیڈا کو ایک اہم سبق ضرور دیا ہے،دوستی اورتجارت اپنی جگہ، لیکن قومی مفاد سب سے پہلے ہونا چاہیے۔