امریکی سائنسدان کی پراسرار موت، آخری پیغامات نے معمہ گہرا کر دیا

واشنگٹن(امریکی و برطانوی میڈیا)امریکا میں ایک خاتون سائنسدان کی پراسرار موت سے قبل بھیجے گئے پیغامات نے معاملے کو مزید مشکوک بنا دیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق 34 سالہ محقق ایمی ایسکریج 11 جون 2022 کو گولی لگنے سے ہلاک ہوئیں، جسے حکام نے بظاہر خودکشی قرار دیا، تاہم ان کے قریبی افراد کو بھیجے گئے پیغامات نے اس مؤقف پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

برطانوی سابق پیرا ٹروپر اور انٹیلی جنس افسر فرانک مل برن کی جانب سے جاری گفتگو کے کچھ حصوں میں ایمی ایسکریج نے لکھا تھا کہ اگر ان کی موت کو خودکشی یا حادثہ قرار دیا جائے تو اسے مشکوک سمجھا جائے۔رپورٹس کے مطابق ایمی نے بارہا کہا تھا کہ وہ کبھی خودکشی نہیں کریں گی اور اگر ان کے ساتھ کچھ ہوتا ہے تو اسے سنجیدگی سے لیا جائے۔

ایمی ایسکریج اینٹی گریویٹی ٹیکنالوجی پر تحقیق کر رہی تھیں اور انہوں نے اپنی لیبارٹری بھی قائم کر رکھی تھی، ان کی تحقیق کو خلائی سفر اور توانائی کے شعبے میں ممکنہ انقلابی پیش رفت قرار دیا جا رہا تھا۔دوسری جانب امریکی حکام نے حالیہ عرصے میں متعدد سائنسدانوں کی اموات اور گمشدگیوں کے پس منظر میں تحقیقات کا عندیہ دیا ہے، جبکہ اس معاملے کی چھان بین ایف بی آئی کی جانب سے کی جا رہی ہے۔