امریکی صدر کو شکست ، پاکستان کو دھچکا؟

یہ نہ سمجھیں کہ امریکا میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پارٹی ریپبلیکن کو شکست ہوگئی ہے تو اس سے امریکی صدر کے اقتدار کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے،،، جی ہاں! حالیہ الیکشن میں ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں ایوانوں میں شکست کے باوجود اگلے دو سال تک ٹرمپ ہی امریکا کے صدر رہیں گے،،، اس کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ اُنہیں عام ”صدارتی“ انتخابات میں کسی اور نے نہیں بلکہ عوام نے منتخب کیا ہے،،، لہٰذااب ڈونلڈ ٹرمپ جیسے بھی ہیں، اُن کے فیصلے دنیا یا امریکا پر بھاری پڑ رہے ہیں،،، تو اس سے کسی کو کوئی مسئلہ نہیں،،، نہ ہی وہاں کی اسٹیبلشمنٹ کو اور نہ ہی کسی اور کو۔۔۔ البتہ صدر کا مواخذہ ضرور ہوسکتا ہے،،، مگر وہ کیسے؟ اس حوالے سے آگے چل کر بتاﺅں گا،،،لیکن اُس سے پہلے حالیہ الیکشن پر اگر ایک نظر ڈالی جائے تو اس وقت امریکا میں وسط مدتی انتخابات میں سینیٹ اور ایوان نمائندگان پر مشتمل امریکی پارلیمان یعنی کانگریس کے وسط مدتی انتخابات ہو چکے ہیں،،، جن کے نتائج آخری مراحل میں ہیں،،،دراصل امریکی کانگریس دو ایوانوں پر مشتمل ہے۔ پہلا ایوانِ نمائندگان (House of Representative) اور دوسرا سینیٹ (Senate) ہے۔ ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 نشستوں پر ہر دو سال بعد انتخاب ہوتا ہے، جبکہ سینیٹ کی 100 نشستوں میں سے تقریباً ایک تہائی نشستوں پر انتخابات ہوتے ہیں۔ سینیٹرز کی مدت چھ سال ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ مختلف ریاستوں میں گورنروں اور ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات بھی ہو تے ہیں۔ یعنی صدر کے عہدے کے دوسال کی تکمیل پر ہونیوالے انتخابات ”وسط مدتی“ کہلاتے ہیں۔

خیر امریکا کے حالیہ انتخابات جنہیں کسی بھی لمحے کم تر نہیں سمجھنا چاہیے نے ایک مرتبہ پھر ثابت کر دیا ہے کہ امریکی جمہوریت میں صدر کے پاس بے پناہ اختیارات ضرور ہیں، لیکن عوام کے پاس بھی یہ اختیار موجود ہے کہ وہ دو سال بعد ہی صدر کی سیاسی طاقت کو محدود کر دیں۔ لہٰذااسی اثناءمیں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جماعت ریپبلکن پارٹی کو بڑا سیاسی دھچکا لگا ہے اور ڈیموکریٹک پارٹی نے امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں، ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ، میں اکثریت حاصل کر لی ہے۔یہاں دلچسپ بات یہ ہے کہ وسط مدتی انتخابات میں صدر کا نام بیلٹ پیپر پر نہیں ہوتا، لیکن عوام کے ووٹوں کو اکثر صدر کی دو سالہ کارکردگی پر ریفرنڈم کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اگر صدر کی جماعت کامیاب ہو تو اسے اپنی پالیسیوں کے لیے عوامی حمایت کا اشارہ سمجھا جاتا ہے، لیکن اگر مخالف جماعت کامیاب ہو جائے تو یہ صدر کے لیے سیاسی انتباہ ہوتا ہے۔2026 کے انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت سے محروم ہونا پڑا ہے۔ ابتدائی نتائج کے مطابق ڈیموکریٹس نے سینیٹ میں بھی برتری حاصل کی ہے اور ایوانِ نمائندگان میں بھی اکثریت حاصل کر لی ہے۔ یوں ٹرمپ کو اپنی صدارت کے آخری دو برسوں میں ایک ایسی کانگریس کا سامنا کرنا ہوگا جس کے دونوں ایوانوں میں ان کی مخالف جماعت کا کنٹرول ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب ٹرمپ کے لیے اپنی مرضی کے قوانین منظور کروانا آسان نہیں ہوگا۔ بجٹ، ٹیکس، امیگریشن، دفاعی اخراجات اور دیگر اہم معاملات میں ڈیموکریٹس کی حمایت حاصل کرنا ضروری ہو سکتا ہے۔یہاں یہ بات بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ امریکا میں صدر اور کانگریس الگ الگ آئینی حیثیت رکھتے ہیں۔ صدر انتظامیہ کا سربراہ ہوتا ہے جبکہ کانگریس قانون سازی کرتی ہے۔ اس نظام کو ”چیکس اینڈ بیلنس“ کہا جاتا ہے، یعنی اختیارات کا توازن اور ایک دوسرے پر نگرانی۔اس لیے اگر صدر کی جماعت کانگریس میں اکثریت کھو دے تو صدر کے اختیارات ختم نہیں ہوتے، لیکن اس کے فیصلوں پر پارلیمانی نگرانی بڑھ جاتی ہے۔

اور رہی بات کہ ہمارے ہاں بہت سے لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ صدر ٹرمپ اب امریکی صدر نہیں رہیں گے،، تو اُن کی اطلاع کے لیے بتاتا چلوں کہ امریکی صدر کو ہٹانا اتنا آسان نہیں ہوتا،،، اس کے لیے صدر کو مدت مکمل ہونے سے پہلے عہدے سے ہٹانے کا طریقہ موجود ہے، اس طریقہ کار کو Impeachment یعنی مواخذہ کہا جاتا ہے۔یعنی اگر ڈونلڈ ٹرمپ کو ہٹانا مقصود ہوا تو سب سے پہلے ایوانِ نمائندگان میں مواخذے کی کارروائی شروع ہوتی ہے،،، اگر ارکان کی سادہ اکثریت مواخذے کے حق میں ووٹ دے دے تو صدر پر باضابطہ الزامات عائد ہو جاتے ہیں۔جس کے بعد معاملہ سینیٹ میں جاتا ہے، جہاں صدر کے خلاف الزامات پر باقاعدہ کارروائی ہوتی ہے۔ اگر موجود ارکان میں سے دو تہائی ارکان صدر کو مجرم قرار دے دیں تو صدر کو عہدے سے ہٹا دیا جاتا ہے۔ صدر کے ٹرائل کی صدارت امریکی سپریم کورٹ کا چیف جسٹس کرتا ہے۔ اب دلچسپ صورتحال یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی مخالف جماعت ڈیموکریٹس نے کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کر لی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اب ڈیموکریٹس کے پاس ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف تحقیقات شروع کرنے، انتظامیہ سے جواب طلب کرنے اور مواخذے کی کارروائی آگے بڑھانے کے لیے زیادہ سیاسی طاقت موجود ہے۔لیکن ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ڈونلڈ ٹرمپ پہلے بھی دو مرتبہ مواخذے کا سامنا کر چکے ہیں۔ پہلی مرتبہ 2019 میں اور دوسری مرتبہ 2021 میں ایوانِ نمائندگان نے ان کے خلاف مواخذے کی منظوری دی تھی، لیکن دونوں مرتبہ سینیٹ میں انہیں مطلوبہ دو تہائی اکثریت کے ساتھ سزا نہیں دی جا سکی اور وہ عہدے پر برقرار رہے۔ ویسے اس مرتبہ صورتحال مختلف ضرور ہے کیونکہ ڈیموکریٹس کو دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل ہو گئی ہے، لیکن اس کے باوجود یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ ٹرمپ کی رخصتی یقینی ہے۔ مواخذے کے لیے صرف ایوانِ نمائندگان کی اکثریت کافی نہیں، سینیٹ میں بھی دو تہائی ووٹ درکار ہیں۔لہٰذا ٹرمپ کو انتخابات میں شکست ضرور ہوئی ہے، لیکن وہ اپنی چار سالہ آئینی مدت پوری کر سکتے ہیں۔ ان کی موجودہ مدت جنوری 2029 میں ختم ہونی ہے۔یعنی ٹرمپ اب بھی وائٹ ہاو¿س میں رہیں گے، ان کی کابینہ بھی کام کرتی رہے گی، فوج کے کمانڈر انچیف بھی وہی ہوں گے اور خارجہ پالیسی کے کئی اہم فیصلے بھی صدر ہی کریں گے۔ لیکن کانگریس میں ڈیموکریٹس کی اکثریت ان کے لیے کئی معاملات مشکل بنا سکتی ہے۔مثلاً اگر ٹرمپ کوئی نیا قانون منظور کروانا چاہیں تو انہیں کانگریس میں ڈیموکریٹس کی حمایت حاصل کرنا ہوگی۔ اگر وہ دفاعی یا انتظامی اخراجات کے لیے بجٹ چاہتے ہیں تو کانگریس کا کردار اہم ہوگا۔ اگر انتظامیہ کے کسی معاملے پر تحقیقات شروع ہوئیں تو وائٹ ہاو¿س کو کانگریس کے سامنے جواب دینا پڑ سکتا ہے۔اسی طرح سینیٹ میں ڈیموکریٹس کی اکثریت صدر کی جانب سے نامزد کیے جانے والے متعدد اہم عہدیداروں اور ججوں کی تقرریوں پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ امریکی صدر کے لیے صرف وائٹ ہاو¿س جیتنا کافی نہیں ہوتا، بلکہ کانگریس میں اپنی جماعت کی اکثریت برقرار رکھنا بھی بہت اہم ہوتا ہے۔

بہرحال اگر ہم موجودہ امریکی انتخابات کو پاکستان کے تناظر میں دیکھیں تو ویسے تو یہ انتخابات امریکا کا اندرونی معاملہ لگتے ہیں،،، لیکن حقیقت یہ ہے کہ واشنگٹن میں ہونے والی سیاسی تبدیلیاں دنیا کے بیشتر ممالک کو متاثر کرتی ہیں اور پاکستان بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔اس لیے پاکستان کے حوالے سے بھی کانگریس کی اہمیت کم نہیں ہے۔مثلاً اگر پاکستان کے لیے امریکی مالی یا سکیورٹی معاونت سے متعلق کوئی معاملہ سامنے آتا ہے تو کانگریس اس پر سوالات اٹھا سکتی ہے۔ اسی طرح پاکستان میں جمہوریت، انسانی حقوق، انتخابات اور سیاسی آزادیوں سے متعلق امریکی کانگریس میں بحث اور سماعتیں ہو سکتی ہیں۔پاکستان میں سیاسی قیدیوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک روا رکھنے پر بھی بات ہو سکتی ہے،،، پاکستان میں ایک مخصوص جماعت پر پابندیوں کے حوالے سے بات ہو سکتی ہے،،، پھر بھارتی لابی پاکستان کے خلاف مزید سرگرم ہو سکتی ہے،،، اور ڈیموکریٹکس کا پاکستان کے حوالے سے رویہ بھی کبھی خاص اہم نہیں رہا،،، اور ویسے بھی ڈیموکریٹکس کے لیے امریکی خارجہ پالیسی میں بھارت کو خطے کی ایک اہم طاقت سمجھا جاتا ہے۔اسی طرح افغانستان کا معاملہ بھی پاکستان اور امریکا دونوں کے لیے اہم ہے۔ دہشت گردی، سرحدی سلامتی، طالبان حکومت اور علاقائی استحکام ایسے موضوعات ہیں جن پر دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے ساتھ رابطے کی ضرورت رہتی ہے۔اس لیے پاکستان کے لیے اصل اہمیت اس بات کی ہوگی کہ نئی کانگریس ان معاملات پر کیا موقف اختیار کرتی ہے اور ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ اس کے اختلافات کس حد تک پالیسی فیصلوں کو متاثر کرتے ہیں۔

بہرکیف امریکی تاریخ میں ایسے کئی مواقع آئے جب صدر کی جماعت وسط مدتی انتخابات میں اپنی اکثریت کھو بیٹھی، لیکن صدر نے اپنی مدت مکمل کی۔مثلاً جیسا کہ میں نے پہلے بتایا کہ 2018 کے وسط مدتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی پہلی صدارت کے دوران ڈیموکریٹس نے ایوانِ نمائندگان میں اکثریت حاصل کر لی تھی۔ اس کے باوجود ٹرمپ جنوری 2021 تک صدر رہے۔اسی طرح 1994 میں صدر بل کلنٹن کی ڈیموکریٹک پارٹی کو بھی وسط مدتی انتخابات میں بڑی شکست کا سامنا کرنا پڑا اور ریپبلکنز نے کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کر لی۔ کلنٹن نے بھی اپنی مدت مکمل کی۔ان مثالوں سے واضح ہوتا ہے کہ امریکی جمہوری نظام میں وسط مدتی انتخابات صدر کے لیے سیاسی احتساب کا ایک اہم ذریعہ ضرور ہیں، لیکن ان کے نتائج خودبخود صدارتی مدت ختم نہیں کرتے۔کیوں کہ یہ عہدہ عوام نے اُنہیں سونپا ہوتا ہے،،، اس لیے یہاں پاکستان کے لیے بھی ایک سبق موجود ہے کہ جمہوریت صرف انتخابات منعقد کروانے کا نام نہیں بلکہ عوام کو یہ اختیار دینا بھی ہے کہ وہ حکمرانوں کی کارکردگی پر اپنی رائے کا اظہار کر سکیں۔ انتخابات کے بعد حکومتیں بنتی ہیں، لیکن حکومت بن جانے کا مطلب یہ نہیں کہ حکمران اگلے انتخابات تک عوام کے سامنے جواب دہ نہیں رہیں گے۔اس لیے آخر میں ایک بات ضرور یاد رکھنی چاہیے کہ امریکی عوام نے ٹرمپ کو صدر منتخب کرنے کے دو سال بعد ان کی جماعت کو کانگریس میں اکثریت سے محروم کر دیا ہے۔ یہ امریکی نظام کا وہ پہلو ہے جو حکمرانوں کو مسلسل یاد دلاتا ہے کہ اقتدار عوام کی امانت ہے، مستقل ملکیت نہیں!اور یہی بات ہمارے حکمرانوں کو بھی سمجھنی چاہیے!