مولانا فضل الرحمن، ناراضی مناسب نہیں؟

جمعیت علماء اسلام(ف) کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمن تو ہمیشہ توجہ کا مرکز رہے تاہم ان دِنوں مختلف حوالے سے شہرت پا رہے ہیں قومی اسمبلی میں ایک تقریر کے دوران وہ تھوڑا موضوع سے ہٹے اور ایک بات ایسی کہہ گئے جو اُن کو یوں بھی زیب نہیں دیتی تھی۔ وہ گفتگو میں حاضر جواب اور بذلہ سنج ہیں،خود مسکراتے رہتے تو دوسروں کو بھی ہنسنے پر مجبور کر دیتے ہیں لیکن آج کل وہ کچھ جلال میں ہیں اور حزبِ اقتدار سے ان کی دوری ہو گئی اور اپوزیشن کے ساتھ مل گئے ہیں جہاں ان کو ہاتھوں ہاتھ لیا گیا اور اب ان کا مشورہ صائب مانا جا ر ہا ہے،حالات بتاتے ہیں کہ وہ خود سے نہیں گئے،بلکہ ان کو دھکیل دیا گیا کیونکہ حزبِ اقتدار اور حزبِ اختلاف کی کشمکش کے دوران تو ان کو مصلح اور ثالث کا درجہ بھی دیا جاتا رہا ہے، سب کے لئے معتبر ٹھہرے تھے، اب ایک چُوک کی وجہ سے وہ اقتدار والوں سے دور اور حزبِ اختلاف کے قریب ہو گئے ہیں۔

مولانا فضل الرحمن ایک تجربہ کار پارلیمنٹیرین ہیں اور اسمبلی کے قواعد سے بھی واقف ہیں، ان کو اسی دوران احساس کر لینا چاہئے تھا اور معذرت کر کے الفاظ واپس لے لینا چاہئیں تھے، لیکن یہ اُن کی عادت کے خلاف ہے اور وہ اکڑ گئے ہیں۔اس صورت میں قدرتی طور پر ان کو اپوزیشن ہی کی طرف جانا تھا اور وہ چلے گئے اب تو ان کا امتحان شروع ہو گیا ہے، فائلیں کھل گئیں اور عمل کا بھی آغاز ہو گیا، کہا جاتا ہے کہ ان کے صاحبزادے کے خلاف غیر قانونی بھرتیوں کا کھیل کھل گیا اور نوٹس بھی جاری ہو گیا ہے، اس کے علاوہ خود مولانا کے حوالے سے خیبرپختونخوا میں کچھ عمل شروع ہوا ہے اور بعض الزام سامنے آئے ہیں۔ مولانا کو جاننے والوں کو علم ہے کہ وہ ایسے معاملات سے دبتے نہیں اور کسی شرمندگی کے بغیر سامنا کرتے ہیں۔

مولانا کی تقریر ہی کے حوالے سے ان کی طرف سے دیئے گئے الزام کے بعد ریاست ماں ہے، کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے اور اس کو غلط طور پر مقتدر ادارے سے منسوب کیا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں محترم مجیب الرحمن شامی صاحب نے ایک کالم میں وضاحت کر دی تھی جس سے میں سو فیصد متفق ہوں کہ ہمارے یہاں اب ریاست کا مفہوم مقتدر ادارہ لیا جا رہا ہے،حالانکہ ریاست اس مجموعہ کا نام ہے جس میں سارے ستون شامل ہوتے ہیں اس میں عدلیہ، مسلح افواج،حکومت اور پارلیمان بھی شامل ہیں۔یوں ریاست تو ہمارا ملک پاکستان ہے، لیکن یہاں ریاست کو ماں کا درجہ دیتے ہوئے مقتدر ادارے کو ریاست سمجھ لیا گیا ہے اور یوں خلط مبحث والا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔بہرحال اب تو مولانا سے وضاحت اور معذرت کا مطالبہ کیا جا رہا ہے اور اس حوالے سے ماضی کے پرت بھی کھولے جا رہے اور مولانا کی صفات کا ذکر ہو رہا ہے۔

میں ذاتی طور پر جن مولانا فضل الرحمن سے واقف ہوں، وہ اپنی کہی بات پر قائم رہنے کی عادت کے خوگر ہیں، اقتدار کے ایوانوں سے واقف ہیں تو کبھی مقتدر ادارے سے بھی دور نہیں رہے،بلکہ پسندیدہ رہنما گردانے جاتے رہے ہیں، مجھے ذاتی طور پر بھی علم اور یقین ہے جبکہ وہ تو خود اعتراف کر چکے کہ پشاور چوک والا دھرنا سابق چیف آف آرمی سٹاف قمر باجوہ کے کہنے پر ختم کیا تھا،باجوہ صاحب نے ان کو باقاعدہ کھانے پر مدعو کر کے تلخی ختم کی تھی یوں بھی عام سیاسی رہنماؤں کے حوالے سے وہ مقتدر حلقوں کے قریب اور ایک حد تک معاونت بھی کرتے رہے ہیں۔عرصہ ہوا میں نے ان کو اپنے اخبار کے دفتر انٹرویو کے لئے مدعو کیا وہ چلے آئے اور آن دی ریکارڈ انٹرویو کے علاوہ بہت سی آف دی ریکارڈ باتیں بھی ہوئیں۔ واپسی پر جب ان کو رخصت کرنے جا رہا تھا تو انہوں نے دھیمے لہجے میں مجھے بتایا ”وہ ہو آئے اور مل آئے ہیں“ میں نے پوچھا کون تو انہوں نے اپنے باباء جمہوریت نوابزادہ نصر اللہ خان(مرحوم) کا نام لے دیا۔ اشارہ مقتدر ادارے کے حساس شعبہ کے سربراہ کی طرف تھا اِس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ خود بھی مقتدر ادارے کے قریب رہے اور ان سے مشاورت بھی کرتے رہے ہیں اس لئے ان کو بالکل ہی ”کورا“ سمجھ لینا بھی درست نہیں کہ ان میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ بدلتے حالات میں بچ نکلیں۔

میں سمجھتا ہوں کہ ملک کے لئے یہ بڑا مشکل وقت ہے، کئی مسائل درپیش ہیں ان کے دوران مولانا کو ناراض کر لینا بھی درست نہیں کہ مہنگائی، بیروز گاری اور معاشی حالات نے عوام کو پریشان کر رکھا ہے،ایسے میں ملک کے اندر سکون کی ضرورت ہے لیکن یہاں ایک اور محاذ کھول لیا گیا ہے۔ مولانا فضل الرحمن کی اپنی اہمیت ہے اور وہ فیلڈ کے بھی ماہر ہیں ان کا برسر اقتدار طبقات سے ہمیشہ رابطہ رہتا ہے۔ اگر موافق اور سازگار موسم نہیں رہا تو ان کو بھی ناراض کر لینا مناسب نہیں، لہٰذا خود متعلقہ وزیر کو یہ معاملہ دیکھنا چاہئے۔ملک میں اقتصادی ہی نہیں سیاسی استحکام کی بھی ضرورت ہے جو اس وقت نہیں ہے اس لئے وسیع تر اتفاق رائے لازم ہے۔یہ نہیں کہ اگر ترمیم یا کسی اور مسئلہ میں ضرورت ہے تو ایسے میں یہ طریقہ کامیاب نہ ہوگا بلکہ مشکل ہو گی کہ مولانا کے پاس کارکنوں کی اچھی کھیپ ہے اب بھی رانا ثناء اللہ کو ذمہ داری سونپی جائے کہ وہ نازک اور احساس امور کو طے کرانے کی کوشش کریں۔