ٹرمپ کے مواخذے کیلئے 7 دفعات کا مسودہ تیار، نئی کانگریس میں پیش کرنے کی تجویز

واشنگٹن (امریکی میڈیا) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی کارروائی کے لیے 7 دفعات پر مشتمل 17 صفحات کا قانونی مسودہ تیار کر لیا گیا ہے، جسے نئی آنے والی 120ویں امریکی کانگریس کے آغاز پر پیش کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ امریکی قانونی فرم بایازو لا کی جانب سے مرتب کیے گئے اس مسودے میں ٹرمپ کی دوسری صدارتی مدت کے دوران کیے گئے اقدامات کو بنیاد بنا کر مختلف آئینی اور قانونی خلاف ورزیوں کے الزامات شامل کیے گئے ہیں۔

120ویں امریکی کانگریس کا پہلا اجلاس 3 جنوری 2027ء کو شروع ہونا ہے۔ قانونی فرم نے یہ مسودہ ایوانِ نمائندگان کے ارکان، ان کے عملے اور متعلقہ کمیٹیوں کے قانونی مشیروں کے لیے تیار کیا ہے تاکہ وہ اسے استعمال کرتے ہوئے مواخذے کی قرارداد پیش کر سکیں۔ تاہم یہ مسودہ تاحال کانگریس میں باضابطہ طور پر پیش نہیں کیا گیا اور نہ ہی اس کی بنیاد پر مواخذے کی کارروائی شروع ہوئی ہے۔

قانونی فرم کے مطابق مسودے میں ٹرمپ کی دوسری صدارتی مدت کے آغاز، 20 جنوری 2025ء سے 3 نومبر 2026ء تک کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس میں 7 بنیادی دفعات کے تحت صدر پر مختلف الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ یہ مسودہ کانگریس کے ارکان کے لیے ایک قانونی خاکہ ہے، جسے وہ اپنی ضرورت کے مطابق مکمل یا جزوی طور پر استعمال کرنے کے علاوہ اس میں ترمیم بھی کر سکتے ہیں۔

مسودے کی پہلی دفعہ میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ وفاقی قانون نافذ کرنیوالے اداروں کو صدر کے سیاسی مخالفین، ناقدین اور ذرائع ابلاغ کیخلاف استعمال کیا گیا۔ اس سلسلے میں قانونی اداروں کے خلاف انتظامی اقدامات، وفاقی تحقیقات اور وائٹ ہاؤس میں صحافیوں کی رسائی سے متعلق معاملات اور عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیا گیا ہے۔

دوسری دفعہ میں عدالتی احکامات پر عمل درآمد اور شہریوں کے قانونی حقوق کے تحفظ سے متعلق سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ اس میں کلمار ابریگو گارسیا کے مقدمے، پیدائشی شہریت سے متعلق صدارتی حکم اور ریاست مینیسوٹا میں فائرنگ کے واقعات کے بعد شواہد تک رسائی کے تنازع کو بنیاد بنایا گیا ہے۔

تیسری دفعہ میں کانگریس کی منظوری کے بغیر بیرونِ ملک اور امریکا کے اندر فوجی طاقت استعمال کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ اس میں ایران اور وینزویلا میں فوجی کارروائیوں، سمندر میں بحری اہداف پر حملوں اور لاس اینجلس میں نیشنل گارڈ کی تعیناتی جیسے معاملات کا حوالہ دیا گیا ہے۔

چوتھی دفعہ میں وفاقی انتخابات کے انتظامی معاملات میں مداخلت کا الزام شامل ہے۔ اس کے تحت ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈالنے اور ان کی ترسیل کے قواعد، کیلیفورنیا میں ڈاک کے ذریعے ڈالے گئے ووٹوں اور وسط مدتی انتخابات سے قبل سرکاری اخراجات سے تشہیری مہم چلانے کے معاملات کا ذکر کیا گیا ہے۔

پانچویں دفعہ میں صدر کے ذاتی ٹیکس مقدمے کے تصفیے اور ایک ارب 77 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے مجوزہ فنڈ کا معاملہ اٹھایا گیا ہے۔ مسودے میں الزام ہے کہ سرکاری اختیارات اور مالی وسائل کے استعمال سے مفادات کے ٹکراؤ کے خدشات پیدا ہوئے۔

چھٹی دفعہ میں غیر ملکی تحائف، بیرونی اور اندرونی مالی مفادات اور خارجہ پالیسی کے معاملات میں ممکنہ مفادات کے ٹکراؤ کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس ضمن میں قطر کی جانب سے بوئنگ 747-8 طیارہ قبول کرنے اور صدر کے کاروباری و مالی مفادات سے متعلق معاملات بھی شامل کیے گئے ہیں۔

ساتویں اور آخری دفعہ میں ہنگامی اختیارات استعمال کرتے ہوئے درآمدی محصولات عائد کرنے کا معاملہ اٹھایا گیا ہے۔ اس ضمن میں امریکی سپریم کورٹ کے 20 فروری 2026ء کے فیصلے کا حوالہ دیا گیا ہے، جس میں عدالت نے قرار دیا تھا کہ بین الاقوامی ہنگامی اقتصادی اختیارات سے متعلق قانون صدر کو محصولات عائد کرنے کا اختیار نہیں دیتا۔

قانونی فرم کا کہنا ہے کہ مسودے کی تیاری میں وفاقی عدالتوں کے فیصلوں، سرکاری ریکارڈ اور کانگریس کی سابقہ مواخذے کی کارروائیوں کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ تاہم اس میں شامل بعض معاملات عدالتی اپیل یا کارروائی کے مختلف مراحل میں ہیں، اس لیے باضابطہ مواخذے کی قرارداد پیش کرنے سے پہلے متعلقہ شواہد اور قانونی نکات کا جائزہ لینا ضروری ہوگا۔

دوسری جانب امریکی ایوانِ نمائندگان کے رکن اسٹیو کوہن 24 ستمبر 2026ء کو صدر ٹرمپ کے خلاف 26 دفعات پر مشتمل ایک الگ مواخذے کی قرارداد پیش کر چکے ہیں، جسے ایوان کی عدلیہ کمیٹی کے سپرد کیا گیا تھا۔ 7 دفعات پر مشتمل نیا مسودہ اس سابقہ قرارداد سے الگ ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی کامیابی کے بعد صدر ٹرمپ کے خلاف مواخذے اور حکومتی اقدامات کی تحقیقات کا معاملہ دوبارہ زیرِ بحث آگیا ہے۔ دی گارڈین میں شائع ہونے والے اپنے تجزیے میں امریکی قانون کی پروفیسر کلیئر فنکل اسٹائن نے ڈیموکریٹس کو مشورہ دیا ہے کہ وہ نئی کانگریس میں انتظامیہ کے احتساب اور کانگریس کے نگرانی کے آئینی اختیارات کی بحالی کو ترجیح دیں۔

فنکل اسٹائن کے مطابق ڈیموکریٹس کو ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ میں کامیابی کے باوجود بڑی قانون سازی میں مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے، کیونکہ پارٹی کے اندر اختلافات، ریپبلکنز کی جانب سے قانون سازی روکنے کی حکمتِ عملی اور صدر ٹرمپ کے ویٹو کا اختیار اہم رکاوٹیں بن سکتے ہیں۔ ان کے بقول حکومتی اداروں کی نگرانی اور انتظامیہ سے جواب طلبی کے ذریعے زیادہ مؤثر پیش رفت ممکن ہے۔

تجزیہ نگار نے ٹرمپ کے 2019ء کے پہلے مواخذے کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ اس وقت الزام عائد کیا گیا تھا کہ صدر نے یوکرین کے لیے امریکی امداد روک کر وہاں کی قیادت پر دباؤ ڈالا تاکہ وہ سابق صدر جو بائیڈن کے بیٹے ہنٹر بائیڈن کے خلاف تحقیقات کا اعلان کرے۔ اس کارروائی کے دوران وائٹ ہاؤس نے انتظامی استحقاق اور گواہی سے استثنیٰ کے مؤقف کے تحت کئی اہم عہدیداروں کو کانگریس کے سامنے پیش ہونے سے روکنے کی کوشش کی۔

ان شخصیات میں اس وقت کے نائب صدر مائیک پنس، وزیر خارجہ مائیک پومپیو، قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن اور صدر کے وکیل روڈی جولیانی شامل تھے۔ سابق وائٹ ہاؤس مشیر ڈان میک گان کو طلب کرنے کے معاملے پر بھی طویل قانونی جنگ جاری رہی۔

ٹرمپ کو 6 جنوری 2021ء کو کانگریس کی عمارت پر حملے کے بعد دوسری مرتبہ مواخذے کا سامنا کرنا پڑا تھا، تاہم سینیٹ نے اس کارروائی کے دوران گواہوں کو طلب نہیں کیا اور صدر عہدے سے ہٹائے جانے سے بچ گئے۔ فنکل اسٹائن کے مطابق ڈیموکریٹس کو ماضی کے تجربات سے سبق سیکھتے ہوئے نئی تحقیقات میں گواہوں اور متعلقہ ریکارڈ کے حصول کے لیے مؤثر اقدامات کرنے چاہییں۔

انہوں نے امریکی سپریم کورٹ کے 2020ء کے مقدمے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کانگریس کو صدر کے مالی ریکارڈ سمیت اہم دستاویزات حاصل کرنے کے لیے اپنی تحقیقات کا واضح قانونی اور قانون ساز مقصد پیش کرنا ہوگا۔ تجزیے میں ریپبلکن رکنِ کانگریس تھامس میسی کی جانب سے وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے خلاف مواخذے کی قرارداد پیش کیے جانے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ فنکل اسٹائن کے خیال میں کابینہ کے کسی رکن کے خلاف تحقیقات کا آغاز کرنے سے کانگریس کے نگرانی کے اختیارات مضبوط بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔

ڈیموکریٹک رہنما حکیم جیفریز بھی کہہ چکے ہیں کہ اگر ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹس کو دوبارہ اکثریت حاصل ہوئی تو مواخذے کے امکان پر غور کیا جا سکتا ہے، تاہم پارٹی قیادت نے ٹرمپ کے تیسرے مواخذے کی باضابطہ حمایت نہیں کی تھی۔

امریکی آئین کے تحت صدر کے مواخذے کی کارروائی ایوانِ نمائندگان سے شروع ہوتی ہے۔ ایوان سادہ اکثریت سے مواخذے کی منظوری دے تو معاملہ سینیٹ میں ٹرائل کے لیے بھیجا جاتا ہے۔ صدر کو عہدے سے ہٹانے کے لیے سینیٹ میں موجود ارکان کے دو تہائی ووٹ درکار ہوتے ہیں۔

نئی 120ویں کانگریس کا اجلاس 3 جنوری 2027ء کو شروع ہوگا۔ 7 دفعات پر مشتمل نیا مسودہ ٹرمپ کے خلاف ممکنہ مواخذے کی کارروائی کے لیے قانونی بنیاد فراہم کرنے کی کوشش ہے، تاہم اس کا کانگریس میں باضابطہ طور پر پیش ہونا اور منظوری حاصل کرنا ابھی باقی ہے۔