واشنگٹن (رائٹرز) برطانوی شاہی خاندان کی بہو اور ڈچز آف سسیکس میگھن مارکل کے 82 سالہ والد تھامس وین مارکل کو امریکا میں بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق تصاویر رکھنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ امریکی وفاقی حکام کے مطابق ان کے خلاف ایک مقدمہ درج کیا گیا ہے، جس میں الزام ہے کہ انہوں نے کم عمر بچیوں کی فحش تصاویر اپنے پاس محفوظ کر رکھی تھیں، جن میں بعض تصاویر میں وہ خود بھی دکھائی دیتے ہیں۔
امریکی محکمہ انصاف کے مطابق تھامس مارکل کو جمعہ 6 نومبر کو ریاست فلوریڈا کے شہر لیک لینڈ سے گرفتار کیا گیا۔ ان پر بچوں سے متعلق فحش مواد رکھنے کی ایک وفاقی فردِ جرم عائد کی گئی ہے۔ انہیں فلوریڈا کے شہر ٹمپا کی وفاقی عدالت میں ابتدائی پیشی کے لیے پیش کیے جانے کا امکان تھا۔
امریکی حکام کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ادارے کے اہلکاروں نے لاس اینجلس کے علاقے میں واقع دو گوداموں کی تلاشی لی، جنہیں تھامس مارکل نے 2008ء سے کرائے پر لے رکھا تھا۔ ان گوداموں سے تقریباً 78 اشیا قبضے میں لی گئیں، جن میں تصویری سلائیڈز، فلم نیگیٹو اور کتابیں شامل تھیں۔ حکام کے مطابق ان اشیا میں بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق مشتبہ مواد موجود تھا۔
عدالتی دستاویزات میں شامل بیانِ حلفی کے مطابق بعض تصاویر میں ایک بالغ شخص کم عمر بچیوں کے ساتھ قابلِ اعتراض حالت میں دکھائی دیتا ہے، جس کی شناخت ایک گواہ نے تھامس مارکل کے طور پر کی۔ تفتیشی حکام کے مطابق دیگر تصاویر میں بھی بچوں کو مختلف حالتوں میں دکھایا گیا ہے۔
امریکی محکمہ انصاف کے مطابق تحقیقات کا آغاز اکتوبر 2026ء میں اس وقت ہوا جب حکام کو اطلاع ملی کہ فلپائن میں تھامس مارکل کے سامان میں بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق مشتبہ مواد موجود ہے۔ اس کے بعد ایک دوسرے گواہ نے تفتیش کاروں کو لاس اینجلس کے علاقے میں ان کے زیرِ استعمال گوداموں کے بارے میں بتایا، جس کے نتیجے میں امریکی حکام نے عدالتی اجازت سے وہاں تلاشی لی۔
اس معاملے پر فلپائن میں بھی تحقیقات جاری تھیں۔ وہاں پولیس کو تھامس مارکل کی سابق رہائش گاہ سے مشتبہ مواد ملنے کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں، جس کے بعد متعلقہ آلات اور ریکارڈ کا جائزہ لیا جا رہا تھا۔ امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے نے بھی اس معاملے کی تحقیقات میں فلپائنی حکام سے تعاون کیا۔
تھامس مارکل اس سے قبل الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد اور جھوٹا قرار دے چکے ہیں۔ ان کے خلاف درج شکایت میں شامل الزامات ابھی عدالت میں ثابت نہیں ہوئے اور قانون کے مطابق انہیں اس وقت تک بے گناہ تصور کیا جائے گا جب تک جرم ثابت نہ ہو جائے۔ امریکی محکمہ انصاف کے مطابق جرم ثابت ہونے کی صورت میں انہیں زیادہ سے زیادہ 20 سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
میگھن مارکل نے گزشتہ ماہ اپنے والد کے خلاف سامنے آنے والے الزامات پر شدید تشویش کا اظہار کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں 2018ء میں لندن پولیس کی جانب سے ایک خط کے ذریعے اپنے والد کے بارے میں تشویش ناک الزامات سے آگاہ کیا گیا تھا اور انہیں یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ معاملے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
میگھن مارکل نے یہ بھی کہا تھا کہ اپنے والد سے دوری اختیار کرنے اور انہیں اپنے بچوں سے رابطے کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ بچوں کے تحفظ کے لیے کیا گیا تھا۔ تھامس مارکل اور ان کی بیٹی کے درمیان کئی برس سے تعلقات منقطع ہیں۔

