کینیا میں 190 بچوں سمیت 191 افراد کے قتل کا مجرم مذہبی پیشوا، 200 سال قید کی سزا

ممباسا (رائٹرز) کینیا کی عدالت نے مذہبی فرقے کے سربراہ پال میکنزی کو 190 بچوں سمیت 191 افراد کے قتل کے جرم میں مجموعی طور پر 200 سال قید کی سزا سنا دی۔ ملزم نے اپنے پیروکاروں کو بچوں سمیت بھوکا رہنے کا حکم دیا تھا، جس کے نتیجے میں وہ ہلاک ہوگئے اور ان کی لاشیں جنگل میں دفن کر دی گئیں۔

عدالت نے جمعہ 6 نومبر کو فیصلہ سناتے ہوئے پال میکنزی کو بھوکا رکھ کر قتل کرنے کے جرم میں 100 سال اور براہِ راست قتل کے جرم میں مزید 100 سال قید کی سزا دی۔ جج ڈیانا کیوڈزوا موچاچے کے مطابق دونوں سزائیں یکے بعد دیگرے کاٹی جائیں گی، اس طرح مجرم کو مجموعی طور پر 200 سال جیل میں گزارنا ہوں گے۔

استغاثہ کے مطابق پال میکنزی ’’گڈ نیوز انٹرنیشنل چرچ‘‘ کا سربراہ تھا اور اس نے اپنے پیروکاروں کو یقین دلایا تھا کہ دنیا کے خاتمے سے پہلے بھوکا رہنے سے وہ جنت میں پہنچ کر حضرت عیسیٰؑ سے ملاقات کر سکیں گے۔ اس نے اپنے پیروکاروں کو اپنے بچوں کو بھی کھانے پینے سے روکنے کا حکم دیا تھا۔

مقدمے میں بتایا گیا کہ میکنزی کے ساتھیوں نے ان احکامات پر عمل نہ کرنے والوں کو دھمکیاں دیں اور تشدد کا نشانہ بنایا۔ ہلاک ہونے والوں کی لاشیں کینیا کے ساحلی علاقے میں واقع شاکاہولا جنگل میں اتھلی قبروں اور بیت الخلا کے گڑھوں سے برآمد ہوئیں، جبکہ بعض افراد کو زندہ دفن کیے جانے کے شواہد بھی سامنے آئے۔

عدالت نے گزشتہ ماہ پال میکنزی اور اس کے 28 ساتھیوں کو قتل کے مقدمے میں مجرم قرار دیا تھا۔ جمعہ کو دیگر ملزمان کو بھی مختلف مدت کی قید کی سزائیں سنائی گئیں۔ میکنزی نے الزامات مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ اس نے کسی کو بھوکا رہنے پر مجبور نہیں کیا، تاہم عدالت نے اس کا دفاع قبول نہیں کیا۔

یہ معاملہ اپریل 2023ء میں اس وقت سامنے آیا جب پولیس کو شاکاہولا جنگل میں اجتماعی قبروں کی موجودگی کی اطلاع ملی۔ اس کے بعد کئی ہفتوں تک لاشیں نکالنے کا عمل جاری رہا۔ کینیا کے حکام کے مطابق جنگل سے مجموعی طور پر 448 لاشیں برآمد کی جا چکی ہیں، جبکہ انسانی حقوق کے اداروں نے بھی اس واقعے کی تحقیقات اور ذمہ داروں کے احتساب پر زور دیا ہے۔

پال میکنزی کو اس مقدمے کے علاوہ ایک دوسرے مقام پر 52 افراد کی ہلاکتوں سے متعلق بھی الزامات کا سامنا ہے۔ یہ لاشیں شاکاہولا جنگل سے تقریباً 30 کلومیٹر دور ایک گاؤں سے ملی تھیں۔ اس مقدمے میں بھی اس نے صحتِ جرم سے انکار کیا ہے۔

اس واقعے نے کینیا میں مذہبی تنظیموں کی نگرانی اور حکومتی اداروں کی ذمہ داریوں سے متعلق بحث کو جنم دیا ہے۔ تحقیقات کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ میکنزی کو ماضی میں دو مرتبہ گرفتار کیا گیا تھا، تاہم وہ رہا ہوگیا تھا۔ حکام اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی جانب سے مذہبی تنظیموں کے لیے سخت نگرانی اور ضابطوں کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔