پاکستان آنے والے ایل این جی جہاز پر حملے کی دفتر خارجہ نے تصدیق کردی

اسلام آباد (نامہ نگار) ترجمان دفتر خارجہ نے قطر سے کراچی آنے والے مائع قدرتی گیس کے جہاز پر حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ جہاز خلیج فارس میں بین الاقوامی پانیوں سے گزر رہا تھا کہ اسے نامعلوم اشیا سے نشانہ بنایا گیا۔ واقعے کے نتیجے میں جہاز پر معمولی آگ لگی، تاہم عملے کے تمام 25 ارکان محفوظ رہے اور کوئی زخمی نہیں ہوا۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے جمعہ 6 نومبر کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران بتایا کہ پاکستان نے ایل این جی بردار جہاز ’’المایدہ‘‘ سے متعلق اطلاعات کا جائزہ لیا ہے۔ مارشل آئی لینڈز میں رجسٹرڈ یہ جہاز قطر انرجی کے زیرِ انتظام تھا اور اس پر لدی ایل این جی کراچی بندرگاہ پہنچائی جانی تھی۔

ترجمان کے مطابق جہاز گزشتہ جمعہ کی شب خلیج فارس میں مشرق کی جانب سفر کرتے ہوئے بین الاقوامی پانیوں سے گزر رہا تھا کہ اسے نامعلوم اشیا سے نشانہ بنایا گیا۔ جہاز پر مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے 25 افراد سوار تھے، جن میں پاکستانی عملے کے ارکان بھی شامل تھے۔ خوش قسمتی سے کسی کو چوٹ نہیں آئی، تاہم واقعے کے دوران جہاز میں معمولی آگ لگ گئی۔

انہوں نے بتایا کہ حملے کے بعد جہاز بحفاظت واپس قطر پہنچ گیا ہے، جبکہ متعلقہ پاکستانی حکام واقعے کی مزید تفصیلات معلوم کرنے کے لیے متعلقہ فریقوں سے رابطے اور رابطہ کاری کر رہے ہیں۔

اس سے قبل امریکی خبر رساں ادارے بلوم برگ نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ پاکستان نے جہاز کو آبنائے ہرمز سے محفوظ راستہ فراہم کرنے کے لیے ایرانی حکام سے رابطہ کیا تھا اور حملے سے چند گھنٹے پہلے اسے گزرنے کی اجازت ملنے کی اطلاعات تھیں۔ تاہم یہ تفصیل نام ظاہر نہ کرنے والے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کی گئی تھی۔

قطر کی وزارت خارجہ نے بھی یکم نومبر کو المایدہ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے واقعے کی تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ قطری حکام کے مطابق جہاز قطر کی گیس ٹرانسپورٹ کمپنی ناقلات کی ملکیت تھا اور اسے خلیج فارس میں نامعلوم اشیا سے نشانہ بنایا گیا۔ قطر نے حملے کے ذمہ داروں کی شناخت اور واقعے کے حالات معلوم کرنے کے لیے تحقیقات کا آغاز کیا تھا۔

دفتر خارجہ کی بریفنگ میں جہاز پر حملے کی تصدیق کے ساتھ یہ بھی واضح کیا گیا کہ پاکستانی حکام واقعے کے حوالے سے مزید معلومات حاصل کر رہے ہیں۔ تاحا