ایران کی نئی جنگ چھڑنے پر یورپ تک میزائل حملوں کی دھمکی

تہران (ایرانی میڈیا) ایرانی رکن پارلیمنٹ حسین علی حاجی دلیگانی نے خبردار کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائی کی صورت میں ایرانی میزائلوں کی پہنچ یورپ تک ہوسکتی ہے، جبکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرسکتی ہے۔

ایرانی رکن پارلیمنٹ نے خبر رساں ادارے تسنیم سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے کسی بھی تخریبی کارروائی یا فوجی جارحیت کا جواب دیا جائے گا اور ایران کے جوابی میزائل یورپ میں موجود اہداف تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران کا ردعمل دشمن کے حملے کے حجم یا مقام تک محدود اور متناسب نہیں ہوگا بلکہ یہ وسیع، کئی گنا زیادہ شدید اور تزویراتی نوعیت کا ہوگا، جس میں جغرافیائی حدود کو ملحوظِ خاطر نہیں رکھا جائے گا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ نئی فوجی کشیدگی کے نتیجے میں عالمی توانائی کی منڈی شدید متاثر ہوسکتی ہے اور خام تیل کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل سے اوپر جاسکتی ہے۔

حسین علی حاجی دلیگانی نے ایرانی مسلح افواج اور فوجی کمانڈروں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران اپنے مخالفین میں خوف، شکوک اور اختلافات پیدا کرنے میں کامیاب رہا ہے اور ملک پر تیسری جنگ مسلط کرنے کی کوششوں کو ناکام بنا چکا ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق امریکا اور اسرائیل نے جون 2025ء میں ایران کے خلاف پہلی فوجی کارروائی کی تھی، جو 12 روز جاری رہی، جبکہ دوسری جنگ 28 فروری 2026ء کو شروع ہوئی اور تقریباً 40 روز بعد اپریل کے اوائل میں جنگ بندی کے نتیجے میں رک گئی۔

ایرانی مؤقف کے مطابق دونوں جنگوں میں ایران کی مزاحمت اور جوابی کارروائیوں کے باعث مخالفین کو جنگ بندی قبول کرنا پڑی۔ تاہم یورپ تک میزائل حملوں اور تیل کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق حالیہ بیانات ایرانی رکن پارلیمنٹ کی پیش گوئیاں اور انتباہات ہیں، کسی نئے حملے کی تصدیق نہیں۔