وہ نہ ہندو تھا نہ مسلمان بلکہ ایک برطانوی کرسچین تھا۔ صحافت کا پیشہ اُسے برطانیہ سے ہندوستان لے آیا۔ وہ اپنی محنت اور قابلیت سے 1942 ءمیں ایک مشہور انگریزی اخبار دی سٹیٹسمین کلکتہ کا ایڈیٹر بن گیا۔ اُس کی پہنچ نہ صرف برطانوی سرکار کے ایوانوں تک بلکہ کانگریس اور مسلم لیگ کے اہم رہنماؤں کے ڈرائنگ روموں تک بھی تھی لیکن اُس کے یہ تعلقات کبھی اُس کی تحریروں پر اثرانداز نہیں ہوتے تھے۔ اپنے زمانے کے اس عظیم صحافی کا نام آئن اسٹیفنز تھا جو بیک وقت مہاتما گاندھی اور قائداعظم محمد علی جناح کے بہت قریب تھا۔ 1947ء میں تقسیمِ ہند کے بعد آئن اسٹیفنز نے بنگال، پنجاب اور جموں و کشمیر میں ہونے والے قتلِ عام پر جو لکھا وہ آج بھی ایک اہم اور مستند تاریخی حوالہ سمجھا جاتا ہے۔ جب تک گاندھی زندہ رہے آئن اسٹیفنز کو کلکتہ میں زیادہ پریشانی نہیں ہوئی لیکن گاندھی کے قتل کے بعد اُس کیلئے نہرو کے دیس میں سچ لکھنا مشکل ہو گیا۔
جموں و کشمیر کے قتلِ عام پر اُس کی تحریریں اور بھارتی حکومت کی کشمیر پالیسی پر تنقید دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کیلئے ناقابلِ برداشت تھی لہٰذا 1951ء میں بھارت کے وزیر داخلہ ولبھ بھائی پٹیل کے دباؤ پر دی سٹیٹسمین کے ایڈیٹر کو استعفیٰ دے کر واپس برطانیہ جانا پڑا۔ پٹیل نے اس برطانوی صحافی کو بھارت سے اس لیے نکالا کیونکہ آئن اسٹیفنزنے اپنے اخبار میں 5 اور 6 نومبر 1947ء کو جموں میں مسلمانوں کے منظم قتلِ عام کی تفصیلات کو نمایاں طور پر شائع کیا اور پھر وہ اگلے تین چار سال تک اس قتلِ عام کا فالو اپ کرتا رہا۔ آج بھی جب 1947ء کی تقسیم میں ہونے والی خونریزی پر بات ہوتی ہے تو عام طور پر صرف بنگال اور پنجاب کا ذکر کیا جاتا ہے۔ جموں و کشمیر کے قتلِ عام کا ذکر نہیں آتا۔ آئن اسٹیفنز وہ واحد صحافی تھا جس نے 1946ء میں بنگال اور 1947ء میں پنجاب اور جموں و کشمیر کے قتلِ عام کو برابر اہمیت دی۔ آئن اسٹیفنز نے اکتوبر اور نومبر 1947ء میں صرف جموں کے مختلف علاقوں میں قتل کیے گئے مسلمانوں کی تعداد 2 لاکھ 37 ہزار بیان کی۔
یہ تعداد ماضی قریب میں بوسنیا اور غزہ میں قتل ہونے والے مسلمانوں سے آج بھی زیادہ ہے۔ جب اسٹیفنز نے بار بار یہ لکھا کہ بھارتی حکومت نے ریاست جموں و کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کیلئے اپنی سرپرستی میں ایک منظم قتلِ عام کرایا اور اسکی کوئی تحقیقات نہیں ہو رہیں تو وزیر داخلہ پٹیل نے دی سٹیٹسمین کی انتظامیہ پر دباؤ ڈالنا شروع کیا کہ آئن اسٹیفنز کو اخبار سے نکال دیا جائے۔ اخبار کی انتظامیہ زیادہ عرصہ دباؤ برداشت نہ کر سکی لہٰذا آئن اسٹیفنز نے اخبار تو چھوڑ دیا لیکن پھر اُس نے کچھ کتابیں لکھیں اور اُس سچ کو تاریخ کا مستقل حصہ بنا دیا جس سچ کو چھپانے کیلئے بھارتی حکومت نے اُسے نوکری سے نکلوایا تھا۔ اسٹیفنزنے اگست 1946ء میں کلکتہ اور اکتوبر 1947ء میں نوکھالی کے قتلِ عام کو بہت قریب سے دیکھا تھا۔ اُنہوں نے نوکھالی میں مہاتما گاندھی کے ساتھ بہت وقت گزارا جو فسادات کی آگ ٹھنڈی کرنے کیلئے کافی دن تک نوکھالی میں مقیم رہے۔
اسٹیفنز بنگال اور بہار میں ہونے والے فسادات میں آر ایس ایس کے کردار سے آگاہ تھا اسی لیے جب 5 اور 6 نومبر کو جموں میں قتلِ عام ہوا تو اسٹیفنزکے قلم نے آر ایس ایس کا پیچھا شروع کر دیا۔ اخبار کی نوکری قربان کرنے کے بعد اُس نے ایک کتاب لکھی جس کا نام HORNED MOON یعنی “ہلال” تھا۔ یہ ہندوستان، افغانستان اور جموں و کشمیر کے بارے میںاسٹیفنز کا سفرنامہ تھا جس میں اُس نے جموں کے قتلِ عام کا بھی ذکر کیا۔ پھر اُس نے ایک اور کتاب THE PAKISTAN میں اس قتلِ عام کی تفصیل لکھی۔ ہر سال جب 6 نومبر کو یومِ شہدائے جموں منایا جاتاہےتو آئن اسٹیفنز کا ذکر ضرور آتا ہے جس نے جموں کے اس خوفناک قتلِ عام کو تاریخ کی گرد میں غائب ہونے سے بچایا۔ جب اسٹیفنز نے بھارتی ریاست کی سرپرستی میں جموں کے قتلِ عام کو بے نقاب کرنا شروع کیا تو بھارت کے سرکاری دانشوروں نے اس قتلِ عام کو اکتوبر 1947ء میں جموں و کشمیر پر قبائلی پختونوں کے حملے کا ردِعمل قرار دینا شروع کیا۔ تاریخی حقائق اس جھوٹ کی تردید کرتے ہیں۔
آر ایس ایس نے جولائی 1947ء میں لاہور میں ویسے ہی قتلِ عام کا منصوبہ بنایا تھا جیسا قتلِ عام 5 اور 6 نومبر 1947ء کو جموں میں کیا گیا۔ ڈاکٹر سعید احمد ملک کی کتاب “1947 کا مسلم قتلِ عام” میں لکھا گیا ہے کہ مولانا ابوالکلام آزاد کے چچازاد بھائی مولوی ضیاءالدین کا تعلق کانگریس سے تھا۔ اُنہیں پتہ چل گیا کہ کانگریس نے آر ایس ایس کے ساتھ مل کر لاہور میں مسلمانوں کے قتلِ عام کا منصوبہ بنا لیا ہے۔ اُنہوں نے یہ اطلاع لاہور پولیس کے ایک مسلمان افسر کو دی۔ جولائی 1947 میں ایک دن موچی گیٹ تھانے کی پولیس نے شاہ عالمی دروازے میں چھاپہ مار کر آر ایس ایس کے کمانڈر راجہ رام سنگھ کو اسلحے اور دستی بموں سمیت گرفتار کر لیا۔ اس منصوبے میں لاہور ہائی کورٹ کا ایک ریٹائرڈ جج تیجا سنگھ بھی ملوث تھا جو دہلی سے لاہور اسلحہ منگوانے کیلئے والٹن ائیر پورٹ کو استعمال کر رہا تھا۔ اس منصوبے کے تحت لاہور میں دو لاکھ مسلمانوں کو قتل کیا جانا تھا۔ اس منصوبے پر لاہور میں تو عمل درآمد نہ ہو سکا لیکن چند ماہ بعد جموں میں عمل درآمد ہو گیا۔ 19 جولائی 1947ء کو جموں وکشمیر میں مسلم لیگ کی اتحادی مسلم کانفرنس نے اپنے اجلاس منعقدہ سرینگر میں پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کیا تو مہاراجہ ہری سنگھ کی ڈوگرہ فوج نے جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں قتلِ عام شروع کر دیا تھا۔
اس قتلِ عام کے خلاف پونچھ، باغ اور مظفر آباد سے میرپور تک مسلمانوں نے بغاوت کر دی۔ 6 ستمبر 1947ء کو ڈوگرہ فوج کے میجر کھجور سنگھ کے حکم پر مسلم کانفرنس کے رہنما سید خادم حسین شاہ کو سرِعام باغ میں گولی مار کر شہید کیا گیا۔ انہی دنوں ستمبر 1947ء میں جموں کے “استاد دا محلہ” اور “پٹھاناں دا محلہ” میں مسلمانوں کو قتل کیا گیا۔ آزاد کشمیر سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس چوہدری رحیم داد نے اپنی سوانح حیات “نقوشِ رحیم” میں لکھا ہے کہ اُنہوں نے خود 1947 میں ڈوگرہ فوج کے خلاف جنگ لڑنے کیلئے کوہاٹ کے ایک پختون نذیر گل کے ذریعے قبائلیوں سے رابطہ قائم کیا اور ان کیلئےرائفلوں کا بندوبست بھی کیا۔ جموں کے مسلمان نہتے تھے انکے لیڈر چودھری غلام عباس جیل میں تھے۔
جموں کے مسلمانوں سے اسلحہ واپس لے لیاگیا اور وعدہ کیا گیا کہ آپ کو لاریوں میں سیالکوٹ پہنچا دیا جائیگا۔ ان مسلمانوں کے ساتھ جو دھوکہ اور پھر انکا جو قتل عام ہوا اُسے آزاد کشمیر ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس محمد یوسف صراف نے عینی شاہدوں کی مدد سے اپنی کتاب KASHMIRIS FIGHT FOR FREEDOM میں محفوظ کر دیا ہے۔ میں نے اس قتل عام کے ایک چشم دیدگواہ وید بھسین سے 2004 میں کئی خوفناک کہانیاں سنیں جب وہ اٹل بہاری واجپائی کے ساتھ پاکستان کے دورے پر آئےتھے۔ وہ کشمیر ٹائمز سرینگرکے ایڈیٹر تھے۔ اب اس اخبار کی ایڈیٹر انکی صاحبزادی انورادھا بھسین ہیں۔ انورادھا نے حال ہی میں A DISMANTLED STATE کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے جس میں بتایا ہے کہ بھارت میں بی جے پی کی حکومت جموں و کشمیر کے مسلمانوں کو اقلیت میں تبدیل کرنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے۔ یہ کتاب پڑھ کر پتہ چلتا ہے کہ وہ قتلِ عام جو 5 اور 6 نومبر 1947ء کو شروع ہوا وہ جموں و کشمیر میں آج بھی جاری ہے اور اسے روکنے والا کوئی نہیں۔

