ڈیٹرائٹ (اے پی، رائٹرز) امریکی ریاست مشی گن میں ڈیموکریٹ امیدوار ڈاکٹر عبدالرحمان محمد السید نے سینیٹ کا انتخاب جیت کر تاریخ رقم کردی۔امریکی تاریخ میں سینیٹ کیلئے منتخب ہونیوالے پہلے مسلمان بن گئے ہیں۔
ڈاکٹر عبدالرحمان السید نے ری پبلکن امیدوار اور سابق رکنِ کانگریس مائیک راجرز کو شکست دی۔ کامیابی کے بعد انہوں نے ڈیٹرائٹ میں اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے خوشی اور تشکر کا اظہار کیا۔ اس موقع پر سیکڑوں حامیوں نے ان کا پُرجوش استقبال کیا اور کامیابی کے نعرے لگائے۔
اپنے جذباتی خطاب میں عبدالرحمان السید نے کہا کہ انتخابی مہم کے دوران جب بھی ان سے کامیابی کے بارے میں سوال کیا جاتا تھا تو وہ ہمیشہ ’’ان شاء اللہ‘‘ کہتے تھے، لیکن آج وہ اس موقع پر ’’الحمدللہ‘‘ کہہ سکتے ہیں۔
ان کے اس جملے پر تقریب میں موجود حامیوں نے بھرپور داد دی اور خوشی کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ انہیں فخر ہے کہ وہ ریاست مشی گن کے منتخب سینیٹر کی حیثیت سے عوام کی نمائندگی کریں گے۔ انہوں نے انتخابی مہم میں حصہ لینے والے رضاکاروں، گھر گھر جاکر ووٹ مانگنے والوں، فون کالز کرنے والوں اور مالی تعاون فراہم کرنے والے تمام افراد کا شکریہ ادا کیا۔
عبدالرحمان السید نے اپنی کامیابی کو عوامی تحریک کی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوام نے ثابت کردیا ہے کہ جمہوریت میں اصل طاقت عام لوگوں کے پاس ہے، نہ کہ بڑے سرمایہ داروں اور مالی وسائل رکھنے والے گروہوں کے پاس۔
ان کی کامیابی کے ساتھ ہی وہ امریکی سینیٹ کے لیے منتخب ہونے والے پہلے مسلمان سیاست دان بن گئے ہیں۔ وہ جنوری 2027ء میں سینیٹ کی رکنیت سنبھالیں گے۔
ڈاکٹر عبدالرحمان السید صحتِ عامہ کے ماہر ہیں اور اس سے قبل مشی گن میں صحت کے شعبے میں اہم ذمہ داریاں انجام دے چکے ہیں۔ ان کے والدین کا تعلق مصر سے ہے۔ ان کی انتخابی مہم میں صحت کی سہولتوں کی فراہمی، عام شہریوں کے اخراجات میں کمی اور سیاست میں بڑے سرمایہ داروں کے اثرورسوخ کو محدود کرنے جیسے معاملات نمایاں رہے۔

