یروشلم (رائٹرز، ایسوسی ایٹڈ پریس) اسرائیلی وزیرِاعظم بنجمن نیتن یاہو کے سیاسی اتحاد نے حالیہ پارلیمانی انتخابات میں اکثریت کھو دی، جس کے بعد ان کے اقتدار کا مستقبل غیر یقینی ہوگیا ہے۔
اسرائیل کے 120 رکنی پارلیمان کے انتخابات میں نیتن یاہو کے سیاسی اتحاد کو 53 نشستیں حاصل ہوئیں، جبکہ ان کے مخالف اتحاد نے 48 نشستیں حاصل کیں۔ عرب جماعتوں نے مجموعی طور پر 19 نشستیں جیتیں۔ حکومت سازی کیلئے کم از کم 61 نشستوں کی حمایت درکار ہے۔
انتخابی نتائج کے مطابق عرب جماعتوں نے اپنی تاریخ کی بہترین کارکردگی دکھائی ہے۔ ان کی کامیابی نے حکومت سازی کے لیے سیاسی جوڑ توڑ میں ان کی اہمیت بڑھا دی ہے۔
اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے 4 نومبر کو انتخابی نتائج باضابطہ طور پر قبول کرلیے اور سیاسی جماعتوں کے نمائندوں سے مشاورت شروع کردی تاکہ نئی حکومت تشکیل دینے کے لیے موزوں امیدوار کا انتخاب کیا جاسکے۔
نیتن یاہو فی الحال نگراں وزیرِاعظم کی حیثیت سے کام جاری رکھیں گے، جبکہ نئی حکومت کی تشکیل کے لیے سیاسی جماعتوں کے درمیان مذاکرات متوقع ہیں۔ اگر کوئی امیدوار حکومت بنانے میں کامیاب نہ ہوا تو اسرائیل میں آئندہ سال دوبارہ انتخابات ہوسکتے ہیں۔

