کینیڈا کی خودمختاری، دفاع اور معاشی استحکام کیلئے نیا قومی منصوبہ متعارف کروادیا:سونیا سدھو

پہلی مرتبہ 20 سال سے زائد عرصے بعد جامع قومی سلامتی کا فریم ورک پیش کیا گیا ہے
سپلائی چین، دفاعی صلاحیت، توانائی کے تحفظ اور آرکٹک میں موجودگی مضبوط بنانے پر توجہ دی جائیگی

اوٹاوا (نمائندہ خصوصی) کینیڈا کے وزیرِاعظم مارک کارنی نے ملک کی خودمختاری کے تحفظ، قومی سلامتی کو مضبوط بنانے اور معاشی خوشحالی کے فروغ کیلئے’’مضبوط کینیڈا کا منصوبہ‘‘ متعارف کرا دیا ہے۔ برامپٹن ساؤتھ سے رکنِ پارلیمنٹ سونیا سدھو کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے پیش کیا جانے والا یہ نیا منصوبہ قومی سلامتی کی جامع حکمتِ عملی ہے، جس کا مقصد بدلتے ہوئے عالمی حالات میں کینیڈا کو زیادہ محفوظ، مستحکم اور خوشحال بنانا ہے۔

جاری کردہ بیان کے مطابق یہ گزشتہ 20 سال سے زائد عرصے میں کینیڈا کا پہلا جامع قومی سلامتی کا فریم ورک ہے، جس میں معاشی تحفظ اور قومی سلامتی کو ایک دوسرے سے منسلک قرار دیا گیا ہے۔ عالمی معاشی غیر یقینی صورتِ حال، رسدی سلسلوں میں رکاوٹوں، سائبر خطرات اور بیرونی مداخلت جیسے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے حکومت نے تمام متعلقہ محکموں کو یکجا کرکے حکمتِ عملی اپنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

منصوبے میں پانچ بنیادی ترجیحات مقرر کی گئی ہیں، جن میں کینیڈا کے معاشی تحفظ اور استحکام کو مضبوط بنانا، بین الاقوامی شراکت داریوں میں تنوع پیدا کرنا اور متوازن خارجہ پالیسی کو آگے بڑھانا، مسلح افواج کی ازسرِنو تعمیر اور جدید خطوط پر استوار کرنا، شہریوں کو جرائم اور قومی سلامتی کے خطرات سے محفوظ رکھنا، جبکہ انٹیلی جنس صلاحیتوں میں اضافہ اور اہم بنیادی ڈھانچے کا تحفظ شامل ہے۔

حکمتِ عملی کے تحت کینیڈا کے رسدی سلسلوں کو مضبوط بنانے، اہم صنعتی شعبوں کی ترقی، جدت و تحقیق کی حوصلہ افزائی، توانائی کے تحفظ، اہم ٹیکنالوجی کی حفاظت اور ملکی دفاعی صلاحیت بڑھانے کے اقدامات بھی کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ آرکٹک خطے میں کینیڈا کی موجودگی اور دفاعی و تزویراتی کردار کو مزید مستحکم بنانے پر بھی توجہ دی جائے گی۔ حکومت کے مطابق ان اقدامات سے معاشی ترقی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔

سونیا سدھو نے کہا کہ کینیڈا کی طاقت کا انحصار اس صلاحیت پر ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے لیے محفوظ اور خوشحال مستقبل تعمیر کر سکے۔ ان کے بقول اس منصوبے میں خودمختاری کے تحفظ کے ساتھ معیشت میں سرمایہ کاری، جدت و تحقیق کی معاونت، اہم بنیادی ڈھانچے کی حفاظت اور قابلِ اعتماد عالمی شراکت داروں کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے کو بھی اہمیت دی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان اقدامات سے برامپٹن جیسے شہروں کو ترقی دینے، سرمایہ کاری میں اضافے اور خاندانوں، محنت کشوں اور مقامی کاروباری اداروں کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔

سونیا سدھو کے مطابق برامپٹن کینیڈا کے تیزی سے ترقی کرنے والے اور متنوع آبادی والے شہروں میں شامل ہے، جہاں شہری صحت، جدید صنعت، رسد و ترسیل، نقل و حمل، جدت اور چھوٹے کاروبار سمیت اہم شعبوں میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ قومی معیشت کو مضبوط بنانے اور جدت کی حوصلہ افزائی کیلئےکی جانیوالی سرمایہ کاری سے شہر کی ترقی کے مزید امکانات پیدا ہوں گے۔

’’مضبوط کینیڈا کے منصوبے‘‘ کے ذریعے حکومت قومی مفادات کے تحفظ، تزویراتی خودمختاری کو مستحکم بنانے اور آئندہ نسلوں کیلئے زیادہ محفوظ اور خوشحال مستقبل کی تعمیر کے عزم کا اعادہ کر رہی ہے۔