کینیڈا میں ہر تین منٹ بعد ذیابیطس کی تشخیص، 39 لاکھ افراد متاثرہیں:سونیا سدھو

ذیابیطس سے آگاہی کیلئے 14 نومبر کو برامپٹن میں چھٹی سالانہ عالمی یومِ ذیابیطس تقریب اور پرچم کشائی ہوگی

اوٹاوا (نمائندہ خصوصی)برامپٹن ساؤتھ سے رکنِ پارلیمنٹ سونیا سدھو نے پارلیمنٹ کے ایوان میں ذیابیطس سے آگاہی کے مہینے کے حوالے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کینیڈا میں اس وقت تقریباً 39 لاکھ افراد ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہیں، جبکہ ہر تین منٹ بعد ایک شخص میں اس مرض کی تشخیص ہوتی ہے۔

سونیا سدھو نے کہا کہ ذیابیطس انسانی صحت پر سنگین اثرات مرتب کرتی ہے، اس لیے اس مرض کی روک تھام، علاج اور اس حوالے سے عوامی آگاہی کے لیے اجتماعی کوششیں جاری رکھنا ضروری ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ چھ سال قبل انہوں نے بل سی 237 پیش کیا تھا، جس کے نتیجے میں کینیڈا میں ذیابیطس سے متعلق قومی فریم ورک قائم کیا گیا۔ انہوں نے ذیابیطس کے خلاف آگاہی، تحقیق اور مریضوں کی معاونت کے لیے کام کرنے والی تنظیموں، جن میں ذیابیطس کینیڈا، بریک تھرو ٹی ون ڈی، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ڈائیبیٹیز اینڈ ایبڈومینل ریسرچ، ڈائیبیٹیز ایکشن کینیڈا، ڈائیبیٹیز کیوبیک اور دیگر ادارے شامل ہیں، کی خدمات کو سراہا۔

سونیا سدھو نے کہا کہ کینیڈا انسولین کی دریافت کی تاریخ سے وابستہ ہے اور ملک کے محققین ذیابیطس کے علاج میں پیش رفت کے لیے جدید اور اہم سائنسی تحقیق کے ذریعے اپنا قائدانہ کردار ادا کر رہے ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ وہ 14 نومبر کو برامپٹن میں چھٹی سالانہ عالمی یومِ ذیابیطس کے موقع پر پرچم کشائی کی تقریب کی میزبانی کریں گی، جس کا مقصد مقامی برادری کو یکجا کرکے اس مرض کے بارے میں آگاہی بڑھانا ہے۔

سونیا سدھو نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ ذیابیطس کے خلاف مؤثر جدوجہد کے لیے سب کو مل کر کام جاری رکھنا ہوگا تاکہ اس مرض کے پھیلاؤ کو روکا اور متاثرہ افراد کی زندگیوں کو بہتر بنایا جا سکے۔