نینسی لیکور نے ری پبلکن امیدوار جینی کوسٹا ہنی کٹ کو شکست دی، ٹرمپ نے 2024ء میں اسی حلقے سے 13 پوائنٹس کی برتری حاصل کی تھی، سابق فوجی افسر کا کانگریس میں دفاعی پالیسیوں پر کڑا احتساب کرنے کا عزم
واشنگٹن (خبر ایجنسیاں) امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے حکم پر عہدے سے ہٹائی جانے والی نیوی کی سابق وائس ایڈمرل نینسی لیکور نے سیاسی میدان میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے ریاست جنوبی کیرولائنا کے پہلے کانگریشنل ڈسٹرکٹ سے ڈیموکریٹک امیدوار کی حیثیت سے کامیابی کا دعویٰ کردیا۔ انہوں نے ری پبلکن امیدوار جینی کوسٹا ہنی کٹ کو معمولی فرق سے پیچھے چھوڑ دیا۔
نینسی لیکور نے 4 نومبر کو اپنی انتخابی مہم کے مرکز میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ری پبلکن حریف کی انتخابی مہم کی جانب سے کامیابی پر مبارک باد اور شکست تسلیم کرنے کا پیغام موصول ہوا ہے۔ غیر سرکاری نتائج کے مطابق وہ تقریباً 3 ہزار 300 ووٹوں کے فرق سے آگے تھیں، تاہم حریف کی مہم نے باضابطہ طور پر شکست تسلیم کرنے کی تصدیق نہیں کی تھی اور نتائج سرکاری طور پر حتمی قرار نہیں دیے گئے تھے۔
یہ کامیابی اس لیے بھی اہم ہے کہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2024ء کے صدارتی انتخاب میں اسی حلقے سے تقریباً 13 پوائنٹس کی برتری حاصل کی تھی۔ اس نشست پر کئی دہائیوں سے ری پبلکن جماعت کا اثر و رسوخ رہا ہے، تاہم نینسی لیکور کی کامیابی سے یہ نشست ڈیموکریٹس کے پاس چلی گئی۔
نینسی لیکور امریکی نیوی میں 35 سال خدمات انجام دے چکی ہیں۔ وہ نیوی ریزرو کی سربراہ اور تین ستارہ ایڈمرل کے عہدے پر فائز رہیں۔ 2025ء میں وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے انہیں ان کے عہدے سے ہٹا دیا تھا۔ اس اقدام کے بعد انہوں نے فوجی خدمات کے تجربے کو سیاسی میدان میں لانے کا فیصلہ کیا اور کانگریس کی نشست کے لیے انتخاب لڑا۔
لیکور پیٹ ہیگسیتھ کی پالیسیوں پر کھل کر تنقید کرتی رہی ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ وزیر دفاع کے اقدامات نے امریکی فوج کو نقصان پہنچایا ہے اور اس کے اثرات دور کرنے میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں۔ انہوں نے ہیگسیتھ کے احتساب اور ان کے عہدے سے ہٹائے جانے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
نینسی لیکور نے انتخابی کامیابی کے بعد کہا کہ جنوبی کیرولائنا کے عوام واشنگٹن میں تبدیلی چاہتے ہیں اور وہ کانگریس میں دیانت داری اور عوامی مسائل کے حل کے لیے کام کریں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ایسے تمام ارکان کے ساتھ کام کرنے کو تیار ہیں جو ملک کے مسائل حل کرنے میں سنجیدہ ہوں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیموکریٹس کو ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ میں اکثریت حاصل ہونے کے بعد اہم پالیسی معاملات پر مؤثر کردار ادا کرنے کا موقع ملے گا، تاہم صدر کو قانون سازی ویٹو کرنے کا اختیار حاصل رہے گا۔

