واشنگٹن(ایجنسیاں)امریکی فوج نے ایرانی جزیرے خارگ میں 3 آئل ٹینکرز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائی ایران کی جانب سے امریکی بحری جہازوں پر بیلسٹک میزائل حملوں کے جواب میں کی گئی۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق کارروائی کے ذریعے ایران کو واضح پیغام دیا گیا ہے کہ امریکی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی صورت میں ایران کو اس سے کہیں زیادہ بھاری معاشی نقصان اٹھانا پڑے گا۔
سینٹکام کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے پاسداران انقلاب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران نے امریکا کے 2 بحری جہازوں کو نشانہ بنایا تو امریکا ان کے 3 جہازوں کو نشانہ بنا کر زیادہ بھاری معاشی نقصان پہنچائے گا۔
خارگ ایران کے لیے انتہائی اہم تیل بردار مرکز ہے اور یہاں واقع تنصیبات کے ذریعے ایرانی تیل کی برآمدات میں اہم کردار ادا کیا جاتا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائیوں کی دھمکی دیتے ہوئے کوہ کلنگ میں موجود مشتبہ جوہری تنصیبات کو بھی نشانہ بنانے کا عندیہ دیا ہے۔ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول کا دعویٰ بھی کیا۔
ایران کے ساتھ جاری جنگ کے حوالے سے ٹرمپ نے اسے ایک ’’فوجی تنازع‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ معمولی نوعیت کا تنازع ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ویتنام اور دیگر جنگوں میں ہزاروں امریکی ہلاک ہوئے تھے، جبکہ ایران میں امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی تعداد 18 ہے، جو ان کے بقول بڑی تعداد نہیں۔
ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے بعد خطے میں آبنائے ہرمز اور ایرانی تیل کی تنصیبات کو خصوصی اہمیت حاصل ہوگئی ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان فوجی محاذ آرائی مزید بڑھنے کے خدشات بھی برقرار ہیں۔

