کراچی(نمائندہ خصوصی)سندھ پولیس منشیات فروشی کے مقدمات میں گرفتار ملزمہ انمول عرف پنکی کیخلاف قتل کے مقدمے میں مضبوط عبوری چالان پیش کرنے میں ناکام رہی، جبکہ سرکاری وکیل نے بھی تفتیش میں متعدد خامیوں کی نشاندہی کر دی۔
ملزمہ کی سزا یقینی بنانے کیلئے مقرر ڈپٹی ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر عارف سیتائی نے عدالت میں پولیس کی تفتیش پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے کہا کہ قتل کے واقعے اور مقدمے کے اندراج کے درمیان تقریباً ایک ماہ کا وقفہ ہے جبکہ پولیس نہ مقتول کی شناخت کیلئےمؤثر اقدامات کر سکی اور نہ ہی جائے وقوعہ اور اطراف کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ یہ ڈیجیٹل شواہد مقتول اور ملزمہ یا اس کے مبینہ منشیات فروش ساتھیوں کے درمیان رابطوں کی تصدیق کیلئے انتہائی اہم تھے، تاہم تفتیش میں اس پہلو کو نظر انداز کیا گیا۔
سرکاری وکیل کے مطابق تفتیشی افسر نے آزاد چشم دید گواہوں کی تلاش کی بھی مؤثر کوشش نہیں کی، حالانکہ ایسے گواہوں کے بیانات مقدمے میں اہم کردار ادا کر سکتے تھے، خصوصاً اگر کسی نے مقتول کو ملزمہ کے کارندوں سے ملتے یا منشیات خریدتے دیکھا ہو۔
ڈپٹی ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر نے مزید بتایا کہ مقتول کے جسمانی اعضا کے نمونوں کی کیمیائی جانچ کی رپورٹ تاحال موصول نہیں ہوئی، اسلئے موجودہ تفتیش نامکمل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فرانزک رپورٹس اور مزید شواہد سامنے آنے کے بعد عدالت میں حتمی چالان پیش کیا جائے گا۔

