جنوبی اضلاع میں حکومتی رٹ ختم ہوچکی ہے: فضل الرحمان

پشاور(نمائندہ خصوصی)جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع میں حکومتی رٹ ختم ہوچکی ہے اور وہاں مسلح گروپس سرگرم ہیں۔

پشاور میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ سمیت متعدد امور پر اتفاق رائے ہوا ہے، صوبائی خودمختاری پر بھی دونوں جانب یکساں مؤقف ہے اور ہر صوبے کے عوام اپنے وسائل کے اصل مالک ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ صوبائی حکومت عوام کے مفاد میں اقدامات کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ جنوبی اضلاع میں امن و امان کی صورتحال تشویشناک ہے، مدارس تحفظ قانون کو صوبے میں منظور کیا جانا چاہیے، جبکہ سابق فاٹا کا انضمام اب تک عملی طور پر مکمل نہیں ہوسکا۔ ان کے بقول 2017 میں انضمام کے باوجود وہاں انتظامی تقسیم اور واجبات کی ادائیگی کا عمل ابھی تک مکمل نہیں ہوا۔

مولانا فضل الرحمان نے پنجاب سے گندم کی ترسیل پر پابندی کو آئین کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاک افغان سرحد کی بندش کے باوجود خیبر پختونخوا کے عوام پر گندم کی پابندی عائد رکھنا مناسب نہیں۔ انہوں نے گلگت بلتستان کے انتخابات کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر بھی اتفاق پایا جاتا ہے۔

اس موقع پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ صوبائی حکومت این ایف سی میں صوبے کے حصے سے متعلق مولانا فضل الرحمان سے مشاورت کے لیے آئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر سال این ایف سی کی تقسیم غیر آئینی انداز میں کی جاتی ہے اور خیبر پختونخوا کو اس کا جائز حق نہیں مل رہا۔

وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ پنجاب حکومت مسلسل گندم کی ترسیل روک رہی ہے جبکہ گیس اور دیگر صوبائی معاملات پر مولانا فضل الرحمان کے ساتھ مشترکہ آواز اٹھانے پر اتفاق ہوا ہے۔