میری قسمت میں غم گر اتنا تھا
دل بھی یا رب کئی دیے ہوتے
یہ گلہ ا پنی جگہ کہ یہاں المیے کم ہی نہیں ہونے پاتے لیکن اللّٰہ تعالی نے پاکستان کو جتنے وسائل دیے ہیں اور جتنے ذہین عام لوگ اس میں ہیں یہ گلہ بہتر نہیں لگتا یقیناً یہ حقیقت ہے کہ پاکستان کی تاریخ المیوں سے بھری پڑی ہے ہم جو پاکستان کے ہم عمر ہیں یا چند سال بڑے وہ تو سب المیوں سے گزرے ہیں 11ستمبر 1948اپنے قائد کے یوم وفات سے لیکر 16دسمبر 1971ءمیں قائد کا پاکستان دو لخت ہونے تک کتنے جانباز اس وطن کی حفاظت کیلئےاپنی جان پر کھیل گئے میجر سرور شہید سے لے کر شہید کارگل کیپٹن کرنل شیر خان تک اور کتنے ہی محترم معزز شہیدان ِ وطن جو مغربی اور مشرقی پاکستان کی سرحدوں کا تحفظ کرتے ہوئے جام شہادت نوش کر گئے پھر ہمارے عظیم رہبر سیاسی کارکن جو آزادی اظہار، آزادی اجتماع، حقوق انسانی کے حصول کیلئے شہادت سے ہمکنار ہوئے ،آمریتوں کے خلاف جدوجہد میں جان دینے والے۔ بہت کچھ یاد آ رہا ہے سب سے زیادہ میں خود کو ذمہ دار ٹھہرا رہا ہوں ۔مجھے اللہ تعالی نےکتنے مواقع دیے حکمرانوں سے گفتگو اندرون ملک بیرون ملک انکے ساتھ مسافرت مگر میں ۔سوائے ان کی خوشنودی حاصل کرنے کے کیا کرسکا ۔آج معاشرے میں جو بد زبانی دیکھ رہا ہوں ایک دوسرے کے حقوق غصب ہوتے دیکھتا ہوں تو کہاں گئے وہ سارے ارادے سب خواب جو کالج کی زندگی میں دیکھے جن کی تعبیرکیلئے تگ و دو کے بجائے میں سہولتیں اور راحتیںحاصل کرتا رہا ۔آج اگر کسی ڈاکٹر بہن پر کوئی تیزاب پھینک رہا ہے، کوئی بزرگ اپنی رفیقہ حیات کو قتل کر رہا ہے ۔ایک 17سالہ جھنگ کی بیٹی چاربوالہوس اغوا کرتے ہیں، زیادتی ہوتی ہے،اپنی جان سے جاتی ہے۔ کوئی بیٹا زمین ہتھیانےکیلئے اپنے باپ کو قتل کر رہا ہے۔ کوئی اپنی ماں پر گولی چلا رہا ہے۔ نوجوان اپنے بوڑھے ماں باپ کو اکیلے پاکستان میں چھوڑ کر باہر جا رہے ہیں ۔کہیں اربوں روپے کی لوٹ مار ہو رہی ہے ان لٹیروں غاصبوں کی قربت پر بھی میں بہت فخر کرتا رہا ہوں۔
لہلہاتی فصلیں، گنگناتے دریا ،سر سبز پہاڑ، آبشاریں کہہ رہی ہیں اگر اپ کو اتنے المیے ملے ہیں تو اللّٰہ تعالی نے وسائل بھی بے حساب دیے ہیں سونا ،تانبا، یورینیم، تیل ، گیس، زمرد زرخیز زمینیں سیاحت کیلئے تفریحی مقامات اب تو ہم ایٹمی قوت بھی بن چکے ہیں تو میں سات دہائیوں میں اپنی تحریروں سے یہ خزانے برآمد کیوں نہیں کروا سکا ۔قائد اعظم نے فرمایا تھا” میں ہمیشہ عدل اور انصاف کے اصولوں سے رہنمائی حاصل کرونگا۔مجھے توقع ہے بلکہ یقین ہے کہ آپ کی تائید اور تعاون سے ہی پاکستان دنیا کی عظیم اقوام کی صف میں شامل ہو سکے گا ۔”ہم اپنے قائد کے اصولوں کو اپنے اصول کیوں نہیں بنا سکے ۔قائد اعظم نے جمہوریت کو پاکستان کا طرز حکمرانی قراردیا تھا جمہوریت اور خاص طور پر پارلیمانی جمہوریت کی طاقت تو قومی سیاسی جماعتیں ہوتی ہیں جو سیاسی کارکنوں کے ذریعے عوام سے رابطے میں رہتی ہیں۔ ایک دور تھا جب ہر سیاسی سربراہ یہ عزم ظاہر کرتا تھا کہ ہم قائد اعظم کا، اقبال کا معاشرہ قائم کریں گے اب تو یہ زبانی جمع خرچ بھی سیاسی سربراہوں نے چھوڑ دیا ہے ۔قائد اعظم کا معاشرہ کیا تھا تعصبات سے پاک صرف اور صرف پاکستانی شہری ہونے کی بنیاد پر ہر ایک کو سب حقوق حاصل ہوں گے صرف اور صرف قانون کی حکمرانی ہوگی، اثر و رسوخ کی بنا پر لوگ قانون سے بالاتر نہیں ہوںگے۔کیا میں ان سیاسی سربراہوں سے ذاتی تعلقات کے باوجود ان کو اپنی سیاسی جماعتیں باقاعدہ سیاسی جماعتیں بنانے پر آمادہ کر سکا۔ کیایہ اپنی تنظیم کے ذریعے ہر فیصلہ کرتی ہیں اور گزشتہ کئی سال سے عالمی بحران بھی آ رہے ہیں اور ملک میں بھی انتشار کا عالم رہتا ہے لیکن سیاسی پارٹیاں کبھی اپنے مرکزی مجالس عاملہ کے اجلاس بلا کر ان بحرانوں کے اسباب پر غور نہیں کرتیں ۔آج جب ہم جون 2026 کے وسط میں ہیں 79 سال بعد 21ویں صدی کی تیسری دہائی میں مگر ہم عملا ً اٹھارویں صدی میں ہیں جاگیرداریوں اور سرداریوں میں ملک کاآئین اور قانون نہیں چلتا ان کے اپنے صدیوں پرانے رواجوں کے تحت فیصلے کیے جاتے ہیں۔ گلگت بلتستان کی حسین وادیوں میں لوگ حقوق اور روزگار سے محروم ہیں۔ انہیں فخر ہے کہ انہوں نے آزادی انگریز اور ہندو سے خود لڑ کر حاصل کی۔ آزاد جموں کشمیر کے غیور عوام اپنے اختیارات کے حصول کیلئے ہمیشہ سر بکف رہے ہیں۔ راولا کوٹ سے اندوہناک خبریں آ رہی ہیں۔ میں پلٹ کر دیکھتا ہوں 1985ء کے غیر جماعتی انتخابات نے پاکستان کا شعوری اور آئینی نقشہ بدل دیا ہے۔ اب برادریوں اور قبیلوں کا راج ہے۔ حرف و دانش کے بجائے جاگیر اور سرمائے کی قدر ہے۔نیوز چینلوں سے اپنے شہروں کی زیادہ تر خبریں سن کر پاکستانی معاشرے کا جو خاکہ سامنے آتا ہے وہ 21ویں صدی کے کسی معیار پرپورا نہیں اترتا ہم تو صدیوں کی ثقافت ادب اقدار اور تہذیب کے امین ہیں ۔ہمارے صوفیا نے انسانوں سے محبت کا پیغام پھیلایا حکمرانوں کو بھی یہی سمجھایا انسان اشرف ترین مخلوق ہے جسکی جان و مال کی حفاظت حکمرانوں کا فرض ہے۔ہماری درسگاہیں مستقبل کی نرسریاں ہیں جہاں نسل در نسل تربیت دی جاتی ہے۔ میں ابھی ایک ڈاکومنٹری دیکھ رہا تھا جو امریکی ریاستوں کے پرائمری اسکولوں میں بچوں کیلئے حکومت کی طرف سے دوپہر کے کھانے کے بارے میں تھی ۔1946 میں امریکی صدرہیری ٹرومین نےنیشنل سکول لنچ ایکٹ پر دستخط کیے بنیادی مقصد یہ تھا کہ ایک صحت مند توانا ذہین قوم پیدا کرنے کیلئے ریاست سب کیلئے بہترین غذائیت والا لنچ ہر اسکول میں فراہم کرے کیا ہماری ریاست کبھی ایسا خیال بھی دل میں لاتی ہے کہ ہمیں آئندہ نسلیں کتنی توجہ سے تیار کرنی چاہئیں۔ ایک فعال اور متوازن معاشرے کی تشکیل کیلئے اپنے ہم وطنوں کی ضروریات پوری کی جائیں ان کے سڑک پر آنے سے پہلے ہی ذمہ دار سرکاری افسر ،متعلقہ وزرائے اعلیٰ ، وزیراعظم انکے مطالبات پر ہمدردانہ غور کریں بلوچستان ،کے پی کے، سندھ ،پنجاب ،آزاد جموں کشمیر، گلگت بلتستان سب جگہ غربت کا غلبہ ہے ۔100 میں سے 45 پاکستانی غربت کی لکیر سے نیچے ہیں ۔اس لیے حکومت کسی کی بھی ہو سیاسی یا فوجی اولین ترجیح غربت کا خاتمہ ہونا چاہئے۔ غربت آپ کی تخلیقی دفاعی علمی سماجی صلاحیتیں سلب کر لیتی ہے۔ 9اگست 1947ء کو کراچی پریس کلب میں قائد اعظم نے حکمرانوں سے کہا تھا “آپ کا مقدس فریضہ یہ ہے کہ عوام الناس کی غربت کے مسئلے کو حل کریں۔ میں اس بات کا ہرگز قائل نہیں کہ امیر کو امیر تر اور غریب کو غریب تر کیا جائے …”دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے کہ 1985ء سے کیا امیر امیر سے امیر تر اور غریب غریب سے غریب تر نہیں ہو رہا ہے۔

