اونٹاریو: حجاب پوش مسلم خواتین سے گاڑی سوار نے حجاب اتارنے اور ملک چھوڑنے کاکہہ دیا

اونٹاریو (نامہ نگار)کینیڈا کے صوبے اونٹاریو میں حجاب پہننے والی مسلم خواتین کو ایک شخص کی جانب سے مبینہ طور پر نسل پرستانہ اور مذہبی تعصب پر مبنی جملوں کا سامنا کرنا پڑا۔ویڈیو میں گاڑی میں موجود شخص خواتین کو حجاب اتارنے، اپنی ثقافت اپنانے اور کینیڈا چھوڑنے کیلئے کہتا سنائی دیتا ہے۔

ویڈیو میں ایک خاتون شخص کو نسل پرست قرار دیتی ہے، جس پر وہ جواب دیتا ہے کہ ہاں، وہ نسل پرستانہ رویہ اختیار کر رہا ہے۔ خاتون بتاتی ہے کہ وہ اسے حجاب اتارنے کا کہہ رہا ہے اور مسلمانوں کے بارے میں کہتا ہے کہ ان کا یہاں کوئی تعلق نہیں۔ گاڑی سوار بھی اس بات کی تائید کرتے ہوئے کہتا ہے کہ مسلمان یہاں کے نہیں ہیں۔

خاتون جب پوچھتی ہے کہ وہ یہاں کیوں نہیں رہ سکتے تو شخص جواب دیتا ہے کہ ان کا لباس مغربی ثقافت کے مطابق نہیں۔ وہ حجاب کو عیسائی اقدار کے خلاف قرار دیتے ہوئے بار بار اسے اتارنے کا مطالبہ کرتا ہے۔

خاتون جواب دیتی ہے کہ حجاب پہننا یا نہ پہننا اس کا ذاتی انتخاب ہے اور اسے اپنے جسم کو ڈھانپنے یا کھلا رکھنے کا حق حاصل ہے۔ وہ شخص اس پر کہتا ہے کہ یہ اس کی ثقافت اور ملک ہے اور اس نے ان لوگوں کو یہاں آنے کی دعوت نہیں دی۔

ویڈیو میں گاڑی سوار خواتین کو اپنی ثقافت میں واپس جانے کا کہتے ہوئے بھی سنائی دیتا ہے۔ وہ مسلمانوں کے مذہب کو خواتین پر ظلم کرنے والا مذہب قرار دیتا اور انہیں کینیڈا چھوڑنے کا مطالبہ کرتا ہے۔

خاتون اسے یاد دلاتی ہے کہ یہ کینیڈا ہے اور وہ اس ملک میں پیدا ہوئی ہے، تاہم شخص اس کی پاکستانی شناخت کا حوالہ دیتے ہوئے اس کی شہریت پر سوال اٹھاتا ہے۔ وہ خواتین کے والدین کی جانب سے کینیڈا میں ٹیکس ادا کرنے کے بارے میں بھی سوال کرتا ہے اور سفید فام نسل اور اپنے آباؤ اجداد کا حوالہ دے کر انہیں ملک کا اصل وارث قرار دینے کی کوشش کرتا ہے۔

خاتون اس کے رویے پر احتجاج کرتے ہوئے کہتی ہے کہ کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ دوسری خواتین کے لباس، مذہب اور شناخت کی بنیاد پر انہیں ہراساں کرے۔ ویڈیو کے اختتام پر بھی دونوں جانب سے تلخ جملوں کا تبادلہ جاری رہتا ہے۔

واقعے کی ویڈیو میں شخص خود بھی اپنے نسل پرستانہ رویے کا اعتراف کرتا سنائی دیتا ہے۔ تاہم دستیاب متن میں واقعے کا درست مقام، تاریخ اور متعلقہ حکام کی جانب سے کسی کارروائی کی تفصیلات موجود نہیں ہیں۔