اوٹاوا / البرٹا( کینیڈین میڈیا، گلوبل نیوز)کینیڈا کے وزیرِاعظم مارک کارنی اور صوبہ البرٹا کی وزیرِاعلیٰ ڈینیئل اسمتھ کے درمیان ایک اہم معاہدہ طے پا گیا ہے جس کے تحت بحرالکاہل کی جانب تیل کی نئی پائپ لائن کی تعمیر پر کام ممکنہ طور پر 2027 کے موسمِ خزاں میں شروع ہو سکتا ہے۔
معاہدے کے مطابق البرٹا میں صنعتی سطح پر کاربن کی قیمت میں اضافہ کیا جائے گا، تاہم یہ اضافہ پہلے کی نسبت سست رفتار ہوگا۔ حکام کے مطابق اس پالیسی کا مقصد ماحولیاتی اہداف اور توانائی کی برآمدی صلاحیت کے درمیان توازن قائم کرنا ہے۔
دونوں حکومتوں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا ہے کہ منصوبے کے تمام مراحل میں مقامی قبائل سے مشاورت کے آئینی تقاضے کو مکمل طور پر پورا کیا جائے گا۔توانائی ماہرین کے مطابق یہ معاہدہ کینیڈا کی توانائی پالیسی میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے، تاہم اس منصوبے پر عمل درآمد سے قبل ماحولیاتی منظوری اور سیاسی سطح پر مزید مراحل باقی ہیں۔
کینیڈا کی وفاقی حکومت اور صوبہ البرٹا کے درمیان کاربن قیمتوں اور توانائی سے متعلق ایک نئے معاہدے پر اتفاق ہو گیا ہے، جسے مستقبل میں مغربی ساحل تک نئی پائپ لائن کی ممکنہ تعمیر کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔معاہدے کے تحت صنعتی سطح پر کاربن کے اخراج پر قیمت میں مرحلہ وار اضافہ کیا جائے گا اور اسے 2040 تک تقریباً 130 کینیڈین ڈالر فی ٹن تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
توانائی حکام کے مطابق یہ معاہدہ ایک وسیع تر توانائی پالیسی کا حصہ ہے جس کا مقصد برآمدات میں اضافہ اور ماحولیات کے تحفظ کے درمیان توازن قائم کرنا ہے۔ذرائع کے مطابق مجوزہ پائپ لائن برٹش کولمبیا کے راستے مغربی ساحل تک تعمیر کی جا سکتی ہے، تاہم اس کے لیے ماحولیاتی منظوری، مقامی قبائل کی رضامندی اور صوبائی سطح پر اتفاق ضروری ہوگا۔
ماہرین کے مطابق یہ منصوبہ ابتدائی مرحلے میں ہے اور اس پر عمل درآمد سے قبل متعدد سیاسی اور ماحولیاتی رکاوٹیں موجود ہیں۔ادھر برٹش کولمبیا کے بعض حلقوں کی جانب سے منصوبے پر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے، جبکہ توانائی شعبے سے وابستہ حلقے اسے کینیڈا کی برآمدی صلاحیت بڑھانے کیلئے اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔

