اوٹاوا (سی بی سی نیوز، نمائندہ خصوصی) کینیڈا کے نو صوبوں کے وزرائے اعلیٰ نے شراب کی بین الصوبائی فروخت میں حائل رکاوٹیں کم کرنے پر اتفاق کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وائنریز، ڈسٹلریز اور بریوریز کو اپنے آبائی صوبے سے باہر بھی براہِ راست صارفین کو مصنوعات فروخت کرنے کی اجازت دی جائے گی۔
یہ اقدام بین الصوبائی تجارتی رکاوٹیں ختم کرنے کی وسیع حکمتِ عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد کینیڈین مصنوعات کی آزادانہ نقل و حرکت کو فروغ دینا اور مقامی صنعتوں کو مضبوط بنانا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کینیڈین مصنوعات پر نئے محصولات عائد کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز ایک بار پھر کینیڈا سے درآمد ہونے والی متعدد مصنوعات، بشمول الکوحل، پر 50 فیصد ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دی، جس کے بعد کینیڈین صوبوں نے مقامی کاروبار کے تحفظ کے لیے باہمی تجارت بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔
اونٹاریو کے پریمیئر ڈگ فورڈ نے کہا کہ صدر ٹرمپ کے نئے ٹیرف کے پیشِ نظر اس سے زیادہ اہم وقت کوئی نہیں ہو سکتا کہ کینیڈا متحد ہو کر ایک مضبوط، خود انحصار اور مستحکم معیشت کی تعمیر کرے۔
نیو برنزوک کی پریمیئر سوسن ہولٹ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کینیڈین مصنوعات کو ملک بھر کے صارفین تک پہنچانا ہے، کیونکہ اس وقت کینیڈین شہری پہلے سے کہیں زیادہ مقامی مصنوعات خریدنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
نووا اسکاٹیا کے پریمیئر ٹِم ہیوسٹن نے معاہدے کو امریکی تجارتی دباؤ کے خلاف مؤثر جواب قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے عالمی تجارت کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے، تاہم ان کا صوبہ اس کے اثرات عوام پر منتقل نہیں ہونے دے گا۔
رپورٹس کے مطابق کیوبیک اور یوکون نے بھی اس معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا ہے اور آئندہ اس میں باضابطہ شمولیت اختیار کریں گے، جبکہ برٹش کولمبیا نے فروری 2027ء تک کمپنیوں کو براہِ راست صارفین کو فروخت کی اجازت دینے کا عندیہ دیا ہے۔
سوسن ہولٹ کے مطابق ہر صوبے میں قوانین مختلف ہونے کے باعث اس معاہدے پر عمل درآمد کا وقت بھی مختلف ہوگا۔ نیو برنزوک اور مینیٹوبا پہلے ہی بعض اقسام کی الکوحل کی بین الصوبائی فروخت سے متعلق الگ معاہدے کر چکے ہیں۔
کینیڈین شراب ساز اداروں کا کہنا ہے کہ اگر صوبائی سرحدوں پر تجارتی پابندیاں ختم کر دی جائیں تو امریکی منڈی میں ممکنہ نقصانات کا ازالہ ملکی منڈی میں فروخت بڑھا کر کیا جا سکتا ہے۔
ایڈمنٹن کے قریب واقع انوہکا ڈسٹلری کے مالک گرپریت رانو نے کہا کہ متعدد مقامی ڈسٹلریز نے امریکی مارکیٹ میں اپنی موجودگی بڑھانے کیلئے بھاری سرمایہ کاری کی ہے، تاہم مجوزہ امریکی ٹیرف کے باعث ان کیلئےکاروبار جاری رکھنا انتہائی مشکل ہو جائے گا۔
کینیڈین فیڈریشن آف انڈیپنڈنٹ بزنس کے صدر ڈین کیلی نے اس معاہدے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ صرف آغاز ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ الکوحل کو کینیڈین میوچل ریکگنیشن ایگریمنٹ میں بھی شامل کیا جائے تاکہ جس صوبے میں کسی الکوحل کی مصنوعات کی فروخت قانونی ہو، وہ پورے کینیڈا میں فروخت کی جا سکے۔
ادھر شراب ساز صنعت سے وابستہ کاروباری شخصیات کا کہنا ہے کہ وہ امریکی منڈی پر انحصار کم کرنے اور دیگر بین الاقوامی منڈیوں کی تلاش پر بھی غور کر رہی ہیں تاکہ ممکنہ تجارتی نقصانات کا ازالہ کیا جا سکے۔

