اچھی خبریں،بری خبریں

خبر تو خبر ہوتی ہے لیکن ہر خبر ہر شخص کے لئے اچھی نہیں ہوتی اور ہر کسی کے لئے بری بھی نہیں ہوتی ہر ایک اسے اپنی نظر سے دیکھتا ہے۔ آج کل تو موبائل پر خبریں پڑھنا آسان کام ہے۔ گزشتہ ہفتے جو اچھی خبر نظر آئی وہ بجلی کی قیمت میں ”ایک ٹیڈی پیسہ فی یونٹ“ کمی تھی۔ نیپرا سے 27 پیسے فی یونٹ اضافہ کا کہا گیا تھا،مگر نیپرا نے اضافہ مسترد کر کے ”ایک ٹیڈی پیسہ“ کی کمی کر دی۔ 54 اور 68روپے یونٹ بجلی خریدنے والوں کے لئے مئی کے بل میں ایک پیسے کی کمی ”بہت بڑی خوشخبری“ ہے۔

وزیر توانائی اویس لغاری نے اچھی خبر سنائی ہے کہ بجلی ”اتنی سستی“ کر دیں گے کہ لوگ دن میں بیٹریاں چارج کر کے رات کو استعمال کیا کریں گے۔ خدا کرے یہ دن آ جائے۔ وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے ”سچ بولا“ ہے کہ پٹرول کی قیمت بڑھانے میں ہمارا کوئی قصور نہیں۔ آئی ایم ایف سے معاہدہ کی وجہ سے مجبور ہیں۔آئی ایم ایف کے پروگرام میں شریک ہونے کی وجہ سے پٹرول کی قیمت بڑھانا پڑی۔ (مجبوری ہے ہم بھی برداشت کر رہے ہیں آپ بھی برداشت کریں ہمیں مفت ملتا ہے آپ خرید کر استعمال کریں)۔

راولپنڈی کے شہریوں کے لئے بری خبر ہے شیر فروشوں نے دودھ کی قیمت میں 30 روپے اضافہ کر کے دودھ 250 روپے فی کلو اور دہی کی قیمت میں 40 روپے اضافہ کر کے اسے280روپے فی کلو کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ”پٹرول اور ڈیزل“ کی قیمت میں اضافے کے بعد ہر چیز مہنگی ہو چکی ہے لہٰذا قیمت میں اضافہ مجبوری ہے۔ پنڈی کی ضلعی انتظامیہ نے اضافے کو مسترد کر دیا اور کہا ہے کہ قیمتیں برقرار رہیں گی جو اضافہ کرے گا اس کے خلاف کارروائی کریں گے۔ (اب تک تو کبھی کاروائی ہوتی نظر نہیں آئی اللہ کرے اب ہو جائے)۔ ایک ”سچی خبر“ ہے کہ پاکستان میں پٹرول کی قیمت 414 روپے 58 پیسے ہے، مگر اصل سچ یہ ہے کہ پٹرول کی اصل قیمت صرف 240 روپے 76 پیسے ہے۔ باقی پٹرول پر ”لیوی یا خصوصی ٹیکس“ 117 روپے 41 پیسے ہے۔ کسٹم ڈیوٹی 24 روپے 35 پیسے، کلائمیٹ سپورٹ لیوی ڈھائی روپے اور مارکیٹنگ اور تقسیم کے اخراجات 23 روپے 76 پیسے ہیں۔ یہ سب ملا کے 168 روپے بنتے ہیں۔ (اب کوئی بتائے کہ ہم بتلائیں کیا)۔ یاد رہے 28 فروری کو ایران پر حملے سے پہلے پاکستان میں پٹرول کی قیمت 259 روپے 30 پیسے تھی۔ بھارت میں پٹرول کی قیمت میں تین روپے اضافے پر شور برپا ہے وہاں آخری اضافہ 2022ء میں ہوا تھا۔

کچھ ”قاتلانہ خبریں“لاہور میں گزشتہ ماہ ایک ماں نے اپنے تین بچوں کو قتل کیا تھا، لیکن یہ سلسلہ رکا نہیں ملتان میں 30 سالہ مریم اور اس کے تین بچوں تین سالہ حسن، حسین اور ڈیڑھ سالہ حنین فاطمہ کی لاشیں ملی ہیں جن کے بارے میں پولیس کا دعوی ہے کہ پہلے ماں نے بچوں کو پھندہ دے کے مارا پھر خود خودکشی کر لی۔(آسان طریقہ ہے نہ کوئی گواہ نہ کچھ جھگڑا کیس ختم)۔ میلسی سے ایک عورت اور تین بچوں کی لاشیں ملی ہیں گلے کٹے ہوئے تھے مرنے والی خاتون ردا اس کے 12 سالہ بچے احسن ساڑھے پانچ سالہ دلشاد اور تین سالہ اسد کو کس نے مارا پولیس کے پاس ابھی تک کوئی ثبوت نہیں ہے البتہ باپ پہ شبہ کیا جا رہا ہے جو کچھ عرصہ پہلے سعودی عرب سے واپس آیا ہے۔ لاہور میں دو بچیوں سے اجتماعی زیادتی ہوئی تھی وہ گھروں میں کام کرتی تھیں۔ 22 اور 15سال کی یہ بچیاں سڑک کنارے رکشہ کے انتظار میں کھڑی تھیں کہ تین ملزمان اُٹھا لے گئے اور اجتماعی زیادتی کی۔ پھر ملزمان گرفتار ہوئے اور سی سی ڈی چوہنگ کی حراست سے فرار ہونے کے بعد پولیس مقابلے کے دوران اپنے ساتھی کی فائرنگ سے مارے گئے۔ (اسے کہتے ہیں خس کم جہاں پاک)۔

کراچی کورنگی سیکٹر بی ون میں سر پہ ٹوپی اور داڑھی والے شخص نے ایک برقعہ پوش خاتون سے نازیبا حرکات کیں۔ ملزم کی ”قسمت کی خرابی“ اس کی نازیبا حرکات گلی میں نصب کیمرے میں ریکارڈ ہوئیں اور پھر سوشل میڈیا پر چل گئیں۔ پولیس کا کہنا تھا کہ ”درخواست آئے گی تو کارروائی“ کریں گے۔ لیکن سوشل میڈیا کے دباؤ نے بغیر درخواست اور مقدمہ ملزم دانش کو ڈھونڈنے اور گرفتار کرنے پر مجبور کر دیا۔ حالانکہ ملزم داڑھی صاف کرکے شکل بدل چکا تھا۔ (ویلڈن کراچی پولیس)۔ ایک اور بری خبر تاندلیانوالہ میں ایک چار سالہ بچی گٹر میں گر کر مر گئی۔ گٹر چونکہ پرائیویٹ سوسائٹی کا تھا انتظامیہ کہتی ہے پرچہ ہو گیا ہے، مگر وہاں کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ اصل ذمہ داروں کے خلاف پرچا نہیں ہوا۔ (اللہ کرے مریم بی بی اس کا بھی نوٹس لے لیں)۔ بلوچستان کے شہریوں کے لئے ایک بری خبر ہے کہ 170روپے ملنے والا ایرانی پٹرول 40روپے کے اضافے سے 210 روپے لیٹر ہو گیا ہے۔ (بیچارے بلوچوں کو امریکہ کا ایران پر حملہ مہنگا پڑ گیا)۔

پاکستان کے سفید پوش جن کی چادر سکڑ کر لنگوٹی بن چکی ہے کے لئے بری خبر ہے کہ حکومت 2027ء تک گیس پر سبسڈیز ختم کر رہی ہے۔ سبسڈی اب صرف ان غریبوں کو ملے گی جو بے نظیر انکم سپورٹس پروگرام میں رجسٹرڈ ہیں۔ حکومت کو شاید پتہ نہیں سفید پوش بھی اب بے نظیر انکم سپورٹس پروگرام میں شامل کئے جانے قابل ہو چکے ہیں۔اک مزید بری خبر گھی کی قیمت میں تین روپے فی کلو اضافہ کی ہے۔گھی اب 598 روپے کلو ہو گیا ہے، جبکہ کوکنگ آئل 618 روپے لیٹر ہو گیا ہے۔10کلو کا آٹے کا تھیلا 10 سے 20 روپے اضافے کے بعد 200 روپے پر پہنچ گیا ہے۔(اب گھی بھی ہانڈی میں ڈالنے کی بجائے ”بس دکھانا“ ہو گا)۔

حکومت پنجاب نے بسنت کی تفریح مہیا کی تھی لیکن وہ تین دن کی تفریح اب مہنگی پڑ رہی ہے۔ گزشتہ روز لاہور میں اچھرہ کے پل پر ایک نوجوان ابوبکر کے گلے پر ڈور پھر گئی۔ بقول انتظامیہ وہ اب خطرے سے باہر ہے۔ سی سی ڈی نے ساہیوال کے حسین قادر کے خاندان کو ”خوشخبری“ سنائی ہے۔ حسین قادر کو تین افراد عدنان، شوکت اور شعیب نے اغوا کیا۔ اس کے ساتھ بد فعلی کی اور قتل کردیا۔ نوجوان کی گلا کٹی نعش کھیتوں سے ملی۔ سی سی ڈی نے ملزمان کو گرفتار کر لیا اور پھر تینوں ملزم حراست سے بھاگنے کے بعد ”پولیس مقابلے“ میں مارے گئے۔

ایک مزید خبر وزیراعلیٰ مریم بی بی کی نظر ہے۔فیصل آباد انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں ایک 22 سالہ لڑکے ثقلین کے دِل کا آپریشن ہوا جس کے دِل میں سراغ تھا ڈاکٹر ضیغم رسول نے اس کی اوپن ہارٹ سرجری کی۔ سرجری کے بعد جب درد مزید بڑھا تو ایکسرے میں پتہ چلا کہ ایک چمٹی اندر رہ گئی ہے۔دوبارہ اپریشن کرکے چمٹی نکالی گئی۔ ہسپتال کے ایم ایس نے انکوائری کمیٹی بنا کر سرجن کو بے قصور قرار دلوا دیا جبکہ دو نرسوں اقصیٰ سردار اور ندا ارفع کو ذمہ دار قرار دیکر نوکری سے ہی فارغ کر دیا اسے کہتے ہیں ”نزلہ بر عضو ضعیف“۔