تہران / واشنگٹن / منامہ (ارنا، پیٹرا، رائٹرز)ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی جارحیت کے جواب میں کویت اور بحرین میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ خلیجی خطے میں پھر کشیدگی میں شدت آ گئی ہے۔
ایرانی سرکاری ذرائع کے مطابق ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ کویت میں امریکی فوج کے مواصلاتی نظام، ایندھن کے ذخائر، پیٹریاٹ دفاعی نظام، کنٹرول ٹاور اور گولہ بارود کے گوداموں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ ایک امریکی بحری جہاز پر بھی کروز میزائل داغے گئے۔
ارنا کے مطابق کویت میں امریکی فوجی اڈے پر دھماکے کی آواز سنی گئی، جبکہ بحرین کے دارالحکومت منامہ میں واقع امریکی فوجی اڈے سے دھوئیں کے بادل اٹھنے کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے فوری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
دوسری جانب اردن کی سرکاری خبر رساں ایجنسی پیٹرا کے مطابق ایرانی جانب سے اردنی فضائی حدود میں داخل ہونے والے چار میزائل مار گرائے گئے ہیں۔
ادھر امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے خلاف حملوں کی تازہ ترین لہر مکمل کر لی گئی ہے۔ امریکی فوج کے مطابق پانچ گھنٹے طویل آپریشن کے دوران بوشہر، چاہ بہار، کنارک، اسک، ابو موسیٰ اور بندر عباس میں عسکری اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق جنوبی ایران کے شہروں بندر عباس، بوشہر، قشم، کیش اور ابو موسیٰ میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جبکہ وسطی ایران کے شہر امیدیہ میں بھی میزائل حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
ایرانی فوج نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکی جارحیت کے جواب میں دفاعی کارروائیاں پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گی۔ دوسری جانب امریکی یا کویتی حکام نے ایران کے ان دعوؤں کی تاحال باضابطہ تصدیق نہیں کی۔

