واشنگٹن(بین الاقوامی میڈیا)امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے خلاف کارروائیوں میں مزید شدت لاتے ہوئے درجنوں آئل ٹینکروں کو ایرانی بندرگاہوں میں داخل ہونے اور وہاں سے نکلنے سے روک دیا گیا ہے۔
بیان کے مطابق مجموعی طور پر 70 سے زائد تجارتی آئل ٹینکرز کو روکا گیا ہے، جن میں کروڑوں بیرل ایرانی تیل کی ترسیل کی صلاحیت موجود تھی۔ امریکی حکام کے مطابق اس تیل کی مالیت تقریباً 13 ارب ڈالر سے زائد بتائی جا رہی ہے۔
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات ایران کی جانب سے مبینہ بحری سرگرمیوں اور پابندیوں کی خلاف ورزیوں کے جواب میں کیے گئے ہیں، جبکہ حالیہ ہفتوں میں بعض جہازوں کی تلاشی، روک تھام اور بعض صورتوں میں قبضے کی کارروائیاں بھی کی گئی ہیں۔
دوسری جانب ایران نے ان اقدامات کو”بحری قزاقی” قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل دیا ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ کارروائیاں بین الاقوامی قوانین اور جنگ بندی کی خلاف ورزی ہیں۔یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خلیج فارس، آبنائے ہرمز اور عالمی تیل کی ترسیل کے راستوں پر کشیدگی بڑھ چکی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر ایرانی تیل کی برآمدات طویل مدت تک متاثر رہیں تو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور سپلائی چین پر دباؤ بڑھ سکتا ہےجس کے عالمی معیشت پر بھی اثرات پڑنے کا خدشہ ہے۔

