تہران (ایرانی میڈیا) ایران کے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای نے ایک تحریری پیغام جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی عوام کے درمیان غیر معمولی اتحاد نے دشمن کی صفوں میں دراڑ پیدا کر دی ہے اور ان کے غلط اندازے غلط ثابت ہوئے۔
سپریم لیڈر نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو لگتا تھا کہ دو دن کے حملوں کے بعد ایرانی عوام حکومت کا تختہ الٹ دیں گے، لیکن ایرانی عوام نے مذہبی، نظریاتی، ثقافتی اور سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر اتحاد کا مظاہرہ کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ دشمن نے ایران کی اعلیٰ قیادت اور بعض بااثر فوجی شخصیات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تاکہ خوف پیدا کیا جا سکے اور ایران پر قبضے یا اسے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کا خواب شرمندۂ تعبیر ہو، لیکن ایرانی عوام نے یہ منصوبے ناکام بنا دیے۔
خامنہ ای نے افغانستان اور پاکستان میں مصالحت کروانے کی پیش کش کرتے ہوئے کہا کہ ایران اپنے برادر پڑوسیوں کے ساتھ اچھے تعلقات کا خواہاں ہے اور چاہتا ہے کہ مسلمان ممالک آپس میں بہتر تعلقات قائم کریں۔
ایرانی سپریم لیڈر نے کہا کہ ایران نے عالمی استعمار کے خلاف انتھک ہمت کا مظاہرہ کیا اور دشمن نے سمجھ لیا کہ ایران کی طاقت صرف میزائلوں اور ڈرونز تک محدود نہیں بلکہ اس کی فرنٹ لائن دشمن کے تصور سے کہیں زیادہ بڑی ہے۔

