بجٹ،بجٹ، سہولت عوامی ضرورت کے مطابق دیں!

ایران، امریکہ کشیدگی کا سلسلہ جاری اور ساتھ ہی جھڑپیں بھی ہو رہی ہیں، بظاہر احساس ہوا ہے کہ یہ سلسلہ جلد ختم نہیں ہونے والا کہ اس کے پس منظر میں اسرائیل۔ صہیونی لابی اور پینٹاگون کا سو سالہ منصوبہ ہے جس کے تحت امریکہ کو عالمی غنڈہ اور اس گلوب کے ممالک کو زیر اثر بنانا ہے۔ تازہ ترین اطلاع امریکی ہیلی کاپٹر کے گرنے، امریکی حملوں اور ایران کے جوابی وار کے حوالے سے ہے۔ میں اس حوالے سے اپنی رائے دے چکا کہ طوالت صدر ٹرمپ کی طرف سے حکمت عملی کے تحت ہے کہ صہیونی حکومت کو غزہ کے بعد لبنان کے علاقوں پر قبضہ کرنے کا موقع دیا جائے اور اس عرصہ میں حماس کے بعد حزب المجاہدین کوبھی کمزور تر کر دیا جائے، یہ سلسلہ جاری ہے اگرچہ ماہرین اس پر اپنی آراء دے رہے ہیں لیکن میں اپنے موقف پر قائم ہوں کہ ”ٹرمپ اپنی حکمت عملی پر قائم اور اس حوالے سے نیتن یاہو سے ناراضی کا بھی ڈرامہ کیاجاتا ہے ورنہ نیتن یاہو کی مجال ہے کہ وہ امریکی صدر کے سخت انتباہ کے باوجود غزہ اورلبنان پرحملے جاری رکھے اور اس عرصہ میں امریکہ کو ایران کیخلاف کارروائی پر اکساتا رہے“۔

اس صورت حال کا جائزہ لیتے رہیں گے ابھی تو خود اپنے ملک کی بات ہی کرلیں کہ یہاں نئے واقعات ہو رہے ہیں کشمیر عوامی کمیٹی اور آزاد کشمیرکی صورت حال کے بارے میں رائے سے گریز ہی بہتر ہے کہ ہم تو ابتداء ہی سے اچھے ماحول، مذاکرات اور قومی وحدت کے قائل ہیں اور کشمیر تو حساس معاملہ ہے اس لئے حالات پر نظر رکھتے ہوئے یہی گزارش ہے کہ قومی مفاد اور قومی مفاہمت و مصالحت ہی بہتر ہے کہ ملک شورش اور بدامنی کا متحمل نہیں ہو سکتا اس لئے مذاکرات بہترین حکمت ہے۔

بات ہوگئی اسے یہیں چھوڑتے اور ملکی حالات کا ذکر کرلیتے ہیں کہ یہ بجٹ کا موسم ہے۔ دستور کے مطابق وفاق کا بجٹ پہلے اور صوبائی بجٹ بعد میں پیش کئے جاتے ہیں اور یہاں وفاقی بجٹ کے حوالے سے تاخیر ہوئی اور اب کہا جا رہا ہے کہ حالات درست کرلئے گئے ہیں۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس طلب کرلئے گئے ہیں اور اب بجٹ بھی پیش ہو ہی جائے گا البتہ ہم پرانے پارلیمانی رپورٹروں کیلئےیہ تجویز تعجب کا باعث ہے کہ اس بار بھی بجٹ پر بحث مختصر ہوگی اور تمام کارروائی ایک ہفتے میں مکمل کی جائیگی جس میں بجٹ پیش ہونے کے علاوہ عام بحث اور کٹوتی کی تحریکیں بھی شامل ہوں گی اور یوں جو حق میں ہیں وہ ہاں کہیں اور جو خلاف ہیں وہ نہ کہیں فیصلہ ’ہاں“ والوں کے حق میں ہے۔ آئٹم نمبر منظور ہوئی اور یوں یہ سلسلہ اپنے منطقی انجام کو پہنچے گا جبکہ اپوزیشن معمول کا شور شرابا کرے گی اور کان پڑی آواز سنائی نہ دے گی۔

اس مرتبہ بجٹ کی آمد نے ایک نئی روایت کو بھی جنم دیا ہے۔ پہلے مارکیٹ پر اثرات بجٹ پیش کر دیئے جانے کے بعد ہوتے تھے لیکن اس بار رمضان المبارک کی طرح بجٹ سے پہلے ہی مہنگائی کردی گئی ہے حتیٰ کہ تنور کی روٹی 14روپے سے 20روپے کی ہوگئی ہے اسی لئے وزیراعلیٰ کی صدارت میں فیصلہ ہوا کہ پاسکو سے دس لاکھ ٹن گندم خریدی جائے جو ذخائر میں اس اضافے کے بعد فلور ملز کو 3500فی چالیس کلو گرام کے حساب سے فروخت کی جائیگی تاکہ مارکیٹ پر دباؤ ختم کیا جائے اور روٹی کے نرخ واپس آ جائیں کہ آٹا سستا ہو جائیگا۔

یہ سب اپنی جگہ مجھے آج بات کرنا ہے پبلک ٹرانسپورٹ کے حوالے سے پنجاب حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی شدید مہنگائی اور اس کے اثرات کم کرنے کیلئےپبلک ٹرانسپورٹ (ان میں ٹرین، میٹرو بس اور سپیڈو بس شامل ہیں) مفت کر دی ہوئی ہے اور لوگ اس سے مستفید بھی ہو رہے ہیں جس کی وجہ سے ان میں رش بھی بڑھ گیا ہے لیکن پبلک ٹرانسپورٹ سیکٹر میں بسیں ضرورت سے کہیں کم ہیں اور پھر تجویز دینے والے ماہرین کی رائے بھی مناسب نہیں جس کے تحت مختلف شہروں میں الیکٹرک بسیں مہیا کرکے چلائی جا رہی ہیں مگر ان کی تعداد اتنی کم ہے کہ ہر شہر میں ایک یا دو روٹ ہی چلتے ہیں اور ان پر رش بہت زیادہ ہوتا ہے حالانکہ عوام کی سہولت تو اس طرح ممکن ہے کہ ہر شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ ضرورت کے مطابق مہیا کی جائے۔ اب بتایا گیا کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے ای بائیکس کا سلسلہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا،جو نوجوانوں کو مہیا کی جائیں گی اور وہ اس ماحول دوست سلسلے کو عوامی سہولت کے لئے چلائیں گے۔

میں پنجاب حکومت کی طرف سے عوامی مفاد کے فیصلوں پر معترض نہیں اور ان کی تعریف بھی کرتا ہوں لیکن مفید تجویز تو دی جا سکتی ہے اور ایسا ہونا بھی چاہیے کہ اگر میں نہ کروں تو یہ بھی فرض سے کوتاہی ہوگی۔ اس حوالے سے میں یہ عرض کروں کہ لاہور میں مقامی طور پر اومنی بس سروس چلتی تھی جس کے مرکزی ڈپو میں ان دنوں 1122کا ڈپو ہے۔ یہ بس لاہور کے ہر علاقے میں شہریوں کو سفر کی سہولت سستے داموں مہیا کرتی تھی اس کے ساتھ ہی پنجاب ڈسٹرکٹ ٹرانسپورٹ بھی جو انٹرسٹی چلتی اور یہ ٹرانسپورٹ انتہائی اچھی،سستی اور مفید تھی پھر اسے بدقسمتی نے آن گھیرا، اپنے پرایوں کی غفلت کام چوری اور سازشوں سے یہ دونوں سلسلے تباہ ہو کر ختم ہوگئے اور عرصہ تک شہری منی بسوں، ویگنوں اور رکشا والوں کے محتاج ہوگئے اور پھر اسی ضرورت نے چنگ چی کو رواج دیا جواب گلے پڑی ہوئی ہے۔

بہرحال ایک بار پھر موجودہ وزیراعظم محمد شہبازشریف کو خیال آیا، جب یہ پنجاب کے وزیراعلیٰ اور شہباز سپیڈ مشہور تھے تو انہوں نے لاہور میں پھر سے پبلک ٹرانسپورٹ کا آغاز کیا، سینکڑوں بسیں منگوا کر شہر کے مختلف روٹوں پر چلائی گئیں جنہوں نے شہریوں کو پھر سے سفری سہولتیں پہنچانا شروع کر دیں۔ یہ ایئرکنڈیشنڈ بسیں تھیں، لیکن پھر وہی ہوا جو شہریوں کا مقدر ہے۔ نامعلوم وجوہات کی بناء پر یہ ٹرانسپورٹ کا سلسلہ اچانک بند ہوگیا، بسیں ڈپو میں کھڑی ہو گئیں اور شہری سفر سے محروم ہوئے آخری چیئرمین خواجہ حسان تھے جو آج تک یہ نہیں بتاتے کہ ہوا کیا تھا کہ سینکڑوں بسیں کھڑی کھڑی کوڑا ہو گئیں اور ان کے پرزے بھی چوری ہو گئے تب شہریوں کو ڈائیوبس سروس والوں نے لوکل سروس بھی مہیا کرنا شروع کی جو معقول تھی لیکن ضرورت سے ایک حد تک کم، یہ اب سپیڈو کہلاتی ہیں، یہ بسیں بارہ سال پرانی ہیں اور شاید ڈائیو کے عملہ کی وجہ سے گھسٹی رہی ہیں۔

یہ سب عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ٹکڑوں میں سہولت مہیا کرنے سے بہترین عمل یہ ہے کہ ایک ایک شہرکی ضرورت پوری کی جائے۔ سپیڈو بسوں کی جگہ نئی بسوں کی ضرورت ہے تو الیکٹرک بسوں کی تعداد بڑھا کر دوسرے روٹ بھی چلانا چاہئیں اور یہی سلسلہ دوسرے شہروں میں شروع ہو۔ یوں یہ سہولت مکمل ہوگی وگرنہ ایک ایک دو دو روٹ چلا کر عوام کو پریشان کرنے والی بات ہے کہ اب الیکٹرک بسوں، میٹرو اور سپیڈو پر ضرورت سے بہت زیادہ بوجھ ہے۔ امید ہے کہ وزیراعلیٰ اس طرف توجہ دیں گی اور یہ بڑا کام بھی کر گزریں گی۔