لندن(نمائندہ خصوصی)برطانیہ کے وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے لیبر پارٹی کی قیادت سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے بعد سابق میئر گریٹر مانچسٹر اینڈی برنہم کے ملک کے اگلے وزیراعظم بننے کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔
کیئر اسٹارمر نے لندن میں ڈاؤننگ اسٹریٹ کے باہر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ ملک کے مفاد کو ترجیح دی اور اسی مقصد کے تحت لیبر پارٹی کی قیادت سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئی قیادت کے انتخاب تک وہ وزیراعظم کے عہدے پر برقرار رہیں گے۔
برطانوی میڈیا کے مطابق لیبر پارٹی ستمبر تک اپنے نئے قائد کا انتخاب کرے گی، جبکہ اگر اینڈی برنہم واحد امیدوار رہے تو قیادت کی منتقلی جولائی میں بھی ممکن ہو سکتی ہے۔
اینڈی برنہم نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں لیبر پارٹی کی قیادت کے لیے باضابطہ امیدوار بننے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ عمل پارٹی اور ملک کے لیے ایک مثبت تجدید ثابت ہوگا۔
دوسری جانب سابق وزیر صحت ویس اسٹریٹنگ نے بھی اینڈی برنہم کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے، جس کے بعد لیبر پارٹی میں سخت انتخابی مقابلے کے امکانات کم ہو گئے ہیں۔
کیئر اسٹارمر 2024 میں لیبر پارٹی کی کامیابی کے بعد وزیراعظم بنے تھے اور انہوں نے 14 برس بعد کنزرویٹو پارٹی کی حکومت کا خاتمہ کیا تھا۔ تاہم حالیہ بلدیاتی انتخابات میں لیبر پارٹی کی کمزور کارکردگی اور متعدد سیاسی تنازعات کے بعد ان پر مستعفی ہونے کے لیے دباؤ بڑھ گیا تھا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق برطانیہ میں 2016 کے بریگزٹ ریفرنڈم کے بعد سے سیاسی عدم استحکام برقرار ہے اور کیئر اسٹارمر کے استعفے کے بعد ملک کو ایک دہائی میں ساتواں وزیراعظم ملنے جا رہا ہے۔
کیئر اسٹارمر نے اپنے دورِ حکومت کا دفاع کرتے ہوئے صحت کے شعبے میں سرمایہ کاری، دفاعی اخراجات میں اضافے اور غیر قانونی ہجرت میں کمی کو اپنی اہم کامیابیوں میں شمار کیا، تاہم انہیں سست معاشی ترقی اور پالیسیوں سے بار بار پسپائی اختیار کرنے پر تنقید کا سامنا بھی رہا۔

