کاؤنٹی سرے (برطانوی میڈیا، ایمبولینس سروس، حکام)برطانیہ کے وسطی علاقے میں دو مسافر ٹرینوں کے درمیان ہونے والے ہولناک تصادم میں ایک ٹرین ڈرائیور جاں بحق جبکہ 9 افراد کی حالت تشویشناک ہے، پولیس اور حادثاتی تحقیقات کرنے والے اداروں نے واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
برطانوی ٹرانسپورٹ پولیس کے مطابق کوربی سے لندن سینٹ پینکراس جانے والی شام 4 بج کر 40 منٹ کی مسافر ٹرین، ناٹنگھم سے لندن سینٹ پینکراس جانے والی دوسری ٹرین کے عقب سے ٹکرا گئی، جس کے نتیجے میں شدید تباہی پھیلی۔
چیف کانسٹیبل لوسی ڈی اورسی نے بتایا کہ حادثے کے بعد 80 سے زائد افراد کو مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا، جن میں سے 9 افراد کی حالت تشویشناک ہے جبکہ 28 زخمی اب بھی اسپتال میں زیر علاج ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حادثے کی وجوہات جاننے کیلئےبرطانوی ٹرانسپورٹ پولیس اور ریل حادثات کی تحقیقات کرنے والا ادارہ مشترکہ طور پر شواہد اکٹھے کر رہے ہیں، اس لیے کسی بھی قسم کی قیاس آرائی سے گریز کیا جانا چاہیے۔
حادثے پر برطانوی شاہ چارلس سوم نے بھی گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ہمدردیاں جاں بحق ڈرائیور کے اہل خانہ، زخمیوں اور اس سانحے سے متاثر ہونے والے تمام افراد کے ساتھ ہیں۔

برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے بیڈفورڈ شائر ٹرین حادثے پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق ہونے والے شخص کے اہل خانہ اور زخمیوں سے ہمدردی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ بیڈفورڈ کے قریب دو مسافر ٹرینوں کے تصادم کی اطلاعات انتہائی تشویشناک ہیں اور وہ ہنگامی امدادی ٹیموں کے فوری اور مؤثر ردعمل پر شکر گزار ہیں۔
عینی شاہد مسافر پیٹر نیپ نے بتایا کہ تصادم کے جھٹکے سے وہ اپنی نشست سے آگے جا گرے، ہر طرف چیخ و پکار مچ گئی، متعدد افراد خون میں لت پت تھے جبکہ کئی مسافروں کی ٹانگیں اور ہڈیاں ٹوٹ چکی تھیں۔

ایک اور مسافر بریٹ بائٹ نے برطانوی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ مکمل ڈبے میں صرف تین یا چار افراد ہی محفوظ رہے، باقی تمام مسافر یا تو شدید زخمی تھے یا حرکت کرنے سے قاصر تھے، جبکہ ایک خاتون کی ٹانگ بری طرح ٹوٹ چکی تھی۔
واضح رہے کہ حالیہ برسوں میں برطانیہ کا ریلوے نظام دنیا کے محفوظ ترین نظاموں میں شمار کیا جاتا رہا ہے۔ اس سے قبل اکتوبر 2024 میں ویلز میں دو ٹرینوں کے تصادم میں ایک مسافر ہلاک ہوا تھا، جو ایک چوتھائی صدی سے زائد عرصے میں متعدد ٹرینوں کے درمیان ہونے والا پہلا مہلک حادثہ تھا۔

