کوئی فریق نہیں جیتا، یہ اَمن کی کامیابی ہے!

رموز مملکت والی بات ہمیشہ درست ثابت ہوتی ہے، ایران امریکہ اسلام آباد یادداشت معاہدہ میں بھی کچھ ایسا ہی ہوا ہے کہ فریقین کی طرف سے آخری لمحہ تک مذاکرات ٹوٹنے کا تاثرہ دیا جاتا رہا، امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے سخت لب و لہجہ سے کسی دم گریز نہیں کیا گیا اور ان کے جواب میں ایران کی طرف سے موقف دینا بھی لازم ٹھہر جاتا تھا۔ یوں احساس ہونے لگتا تھا کہ شاید فریقین ابھی دنیا کو مزید پریشان کرنا چاہتے ہیں۔ میرے موقف کے مطابق محترم ٹرمپ صاحب تو تاخیر کرکے اسرائیل کو موقع دیئے چلے جا رہے تھے کہ وہ غزہ اور لبنان پر آگ برساتا چلا جائے، بہرحال اب پھر سے اسی انداز سے کی تصدیق ہوئی ہے کہ اکثر امور اندر طے پا جاتے ہیں لیکن ان کو ظاہر نہیں کیا جاتا تاہم اب تو بات کھل گئی اور معاہدے پر فریقین کے علاوہ ثالث کے طور پر پاکستان کے دستخط بھی ہوگئے۔ اس معاہدہ پر دستخط کے لئے باقاعدہ ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا جس کی میزبانی پاکستان کے سپرد تھی۔ بتایا یہ گیا کہ ایک اچھی تقریب میں دستخط ہوں گے۔ میزبان(پاکستان) کی طرف سے انتظامی امور کے لئے دفتر خارجہ کا اعلیٰ سطحی وفد ایک روز قبل سوئٹزرلینڈ پہنچ گیا تھا اور انتظامی امور سنبھال لئے تھے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل نے تقریب والے روز پہنچنا تھا لیکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے متلون مزاج کے باعث اس کی نوبت ہی نہ آنے دی اور جی سیون کے اجلاس کے موقع پر پیرس میں دستخط کر دیئے اور پھر ایرانی صدر اور وزیراعظم شہبازشریف کے بھی ہوگئے اور یوں معاہدہ ہوا ہی نہیں اس پر ابتدائی عمل بھی شروع ہوگیا اور آبناء ہرمز سے جہاز گزرنے لگے جبکہ امریکہ کی طرف سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ہٹا دی گئی۔ خبروں کے مطابق یہ طے ہے کہ 60روز تک آبناء کسی چارج کے بغیر کھلے رہے گی اور پھر ایران ہمسایہ ممالک سے باقاعدہ مشاورت کے بعد قواعد بھی طے کرلے گا۔

جو کچھ ہوا اس سے زیادہ حیران ہونے کی ضرورت نہیں کہ ہر عمل کے پیچھے کوئی نہ کوئی مقصد اور وجہ بھی ہوتی ہے اور میرا خیال ہے کہ ٹرمپ کی جلدی کے پیچھے بھی بعض حکمتیں ہیں ان میں سب سے بڑی حکمت امریکہ میں نومبر کے دوران ہونے والے وسطی انتخابات ہیں، امریکی ذرائع ابلاغ ہی یہ اطلاع دے رہے ہیں کہ اندرون ملک ٹرمپ کی مقبولیت میں بہت کمی آئی اور امریکی عوام کے نمائندگان درست طور پر ٹرمپ انتظامیہ سے جنگی اخراجات کا حساب مانگ رہے ہیں جو اسرائیل کی حمائت میں اٹھائے گئے اور اس ناجائز ریاست کے تحفظ کے لئے ایران پر جنگ مسلط کی گئی۔ اب تک کے بیانات اور حالات نے تو یہ ثابت کر دیا ہے کہ امریکہ کی شدید بمباری، ایرانی قیادت کی شہادت اور معاشی نقصان کے باوجود ٹرمپ اپنی اس کوشش میں کامیاب نہ ہو سکے کہ ایران شکست تسلیم کرلے اسی لئے وہ بار بار دھمکی دینے اور ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کرتے رہے لیکن یہاں امریکہ اور اسرائیل دونوں ہی کی خواہش برباد ہوگئی کہ ایران میں بغاوت ہوئی نہ رجیم چینج بلکہ امریکی، اسرائیلی گٹھ جوڑ نے ایرانی عوام کو یہ یقین دلا دیا کہ دشمن کامیاب ہوا تو پھر اندرونی موقف اور حمائت و مخالفت کام نہیں آئے گی چنانچہ دشمنوں کے گٹھ جوڑ کو سخت مایوسی کا سامنا کرن اپڑا کہ ایرانی قوم متحدہ ہوگئی۔ امریکی اور اسرائیلی حملوں اور بیانات کے جواب میں ایران کے مختلف شعبوں کے ترجمانوں یا سربراہوں کی طرف سے جو بیانات آئے ان سے بھی یہ تاثر ملتا ہے کہ یہ سب ایک دوسرے سے ذرا مختلف نظریات رکھتے ہیں لیکن مزاحمت میں کمی کے کوئی آثار نہیں تھے اور اب معاہدہ پر دستخطوں کے بعد رہبر کا جو بیان جاری ہوا اس سے ثابت ہوگیا کہ ایرانی قیادت نے اختلافی امور کو جو حکمت عملی سے متعلق تھے از خود طے کرلیا سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے بتا دیا کہ وہ تھوڑا مختلف موقف رکھتے تھے تاہم صدر پزشکیان نے ان کو یقین دلا کر منوا لیا ہے۔

امریکی میڈیا اور سینیٹ و کانگرس والے حضرات کے بیانات اب ڈونلڈ ٹرمپ کو شکست خوردہ قرار دے رہے ہیں اور امریکہ میں یہ امرجڑ پکڑتا جا رہا ہے کہ صدر ٹرمپ اور ان کے ساتھیوں نے اسرائیل کی لڑائی اپنے گلے لے لی اور اب نائب صدر جے ڈی وینس نے تو اقرار کرلیا ہے کہ اسرائیل کودوتہائی سے زیادہ اسلحہ امریکہ نے دیا جو امریکی شہریوں کے ٹیکس سے گیا۔ یہ حقیقت بیانی تو ہے لیکن اس سے امریکی رائے عامہ مزید متاثر ہوئی اور ہوگی اس سے نہ صرف ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ بلکہ اسرائیل نواز حلقوں کو بھی دفاعی پوزیشن پر جانا ہوگا اور وہ ابھی سے یہ پوزیشن اختیار کررہے ہیں کہ غزہ اور لبنان پر بمباری کے دوران امریکی رائے جنگ مخالف تھی تاہم اسرائیلی لابی بھی متحرک تھی اب امریکی میڈیا یہ بتا رہا ہے کہ اسرائیلی لابی دب گئی ہے اور اس کی تیزی طراری رک گئی ہے بلکہ امریکی رائے عامہ کا رخ اب اسرائیل مخالف ہوتا جائے گا اور اب تک صہیونیت کے تقدس میں جو لوگ سرگرم تھے ان کو اپنی سرگرمیوں کو محدود کرنا ہوگا نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات ٹرمپ کے لئے بھاری ثابت ہوں گے۔

معاہدہ پر دستخط کے بعد امریکی صدر کے لب و لہجہ میں تلخی کے علاوہ عذر گناہ بدتر از گنا والا سلسلہ بھی جاری ہے انہوں نے یہ جتانا شروع کر دیا ہے کہ اس جنگ سے دنیا پریشان تھی اور معیشتیں متاثر ہو رہی تھیں اس لئے یہ معاہدہ ضروری تھا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ صدر ٹرمپ کی طرف سے نیتن یاہو کو جھڑکنے اور بُرا بھلا کہنے کے ساتھ لبنان اور غزہ میں بمباری روکنے کے لئے جو کہا گیا اسرائیل نے اب تک اس پر عمل نہیں کیا۔ غزہ پر بھی ظلم جاری اور لبنان پر بھی بمباری ہو رہی ہے اگر ٹرمپ (امریکہ) نیتن یاہو سے اتنا ہی بے زار ہوتے تو اس کی تمام امداد بند کر دیتے کہ ٹرمپ کی سخت دھمکی اور رعب سے کی گئی بات کے باوجود اسرائیل لبنان پر حملہ آور ہے، اس سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ اسرائیل کی طرف سے اشتعال دلایا جا رہا ہے کہ اس جنگ بندی کی خلاف ورزی پر ایران بھی مداخلت کرے اور معاہدہ سبوتاژ ہو لیکن یہ شاید نہ ہو سکے کہ پاکستان کی طرف سے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل نے جو محنت کی ہے اس کی روشنی میں وہ کبھی نہیں چاہیں گے کہ ایسا ہو، اسی لئے تو کہا جا رہا ہے کہ پاکستان تکنیکی مذاکرات میں بھی تعاون جاری رکھے گا، بہرحال اللہ سے دعا کے باوجود صہیونی کی لعنت گری سے ہوشیار رہنا لازم ہے اور ٹرمپ کو بھی یہ باور ہونا چاہیے کہ اب دنیا اسرائیل والے کمبل سے جان چھڑانے کا عمل شروع کر چکی ہوئی ہے۔

ٹرمپ کی اس بات پر بھی صاد ہے کہ پٹرولیم کے نرخ تیزی سے نیچے آ رہے ہیں تازہ ترین اطلاع کے مطابق برطانوی برنٹ 70ڈالر فی بیرل تک آ چکا، خبروں کو دبایا جا رہا ہے کہ متاثرہ ممالک کے عوام پٹرولیم مصنوعات کے نرخ جنگ سے پہلے کی قیمت پر واپس لانے پر زور دے رہے ہیں، پاکستان میں بھی یہی توقع ہے کہ آج (جمعہ) کی شب بڑی کمی کا اعلان ہوگا۔