” کس عہد میں پاکستان کی عدالتوں نے ریلیف دیا ہے؟”
“پی آئی اے کا 26 ارب روپے کا منافع دس ارب میں بیچ دیا”
“’’غربت اور امارت میں اضافہ ہو رہا ہے جو کہ ایک المیہ ہے اس وقت کی سیاست کا”
“ہر بندہ جو پاکستان میں رہتا ہے وہ ریاست کا حصہ ہے،میں تو عوام کو ریاست مانتا ہوں”
“ابھی بھی نون لیگ کیخلاف لڑ اہے گلگت بلتستان میں، ابھی بھی ہم کشمیر میں نون لیگ کیخلاف الیکشن لڑ رہے ہیں:پاکستان پیپلزپارٹی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی اورلیبرونگ کے صدر چوہدری منظوراحمدکیساتھ ایک نشست”
مسی ساگا(اشرف خان لودھی سے )پاکستان پیپلزپارٹی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی اورلیبرونگ کے صدراورسابق رکن قومی اسمبلی چوہدری منظوراحمدان دنوں کینیڈاکے نجی دورہ پرہیں ۔چوہدری منظوراحمدکے ساتھ حاجی جمیل کی رہائش گاہ پرایک خصوصی نشست کااہتمام کیاگیا تھا۔ جس میں ’جنگ نیوزکینیڈا‘ کے چیف ایڈیٹراشرف خان لودھی نے گفتگوکرتے ہوئے ان سے روایتی انٹرویوکی بجائے ان سے ان کی سیاسی جدوجہدکے بارے میں بات چیت کی اورچوہدری منظوراحمدنے اپنی سیاسی زندگی میں پیش آنیوالے اتارچڑھائوکے بارے میں بتایا۔
چوہدری منظوراحمدنے گفتگوکاآغازکرتے ہوئے بتایا طلبہ سیاست سے ہماری سیاسی زندگی کا آغاز ہوا اور یہ ایک طویل سفر ہے۔ ابراہیم دانیال ہمارے ساتھ ہوا کرتے تھے۔ انہوں نے کالج کا الیکشن لڑا اور وہ جیت گئے۔
اس کے بعدپیپلزسٹوڈنٹ فیڈریشن( پی ایس ایف) میں ہم نے بلھے شاہ اسٹوڈنٹ فیڈریشن بنائی، جو شاید آپ کو یاد ہو کہ لاہور میں پی ایس ایف کے کئی مقامی ونگز تھے جیسے عریبین فرنٹ یا بلیک ایگلز اور ہم سب اکٹھے تھے۔ ہم مختلف لوگ تھے۔ ہم نے اسے اس طرح بنایا اور کالج کا الیکشن جیتا۔
اس کے بعد، طلبہ سیاست، پھرنوجوان سیاست اور پھر پارٹی میں درجہ بہ درجہ پہلے ضلع میں،پھرڈویژن میں، پھر ہمیں مرکز میں ذمہ داریاں ملیں اور پھر واپس پنجاب آ گیا۔ میں 2008 سے 2010 تک دو سال پارٹی سیکرٹریٹ کا انچارج رہا۔ تو یہ پورا ایک عمل اور سفر ہے جس میں اب میرے پاس پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی (CEC) کی ذمہ داریاں ہیں اور اس کے ساتھ ہی میں لیبر ونگ کا انچارج ہوں اور قومی سطح پر لیبر کے مسائل دیکھتا ہوں۔ تو یہ کل ملا کر کہانی ہے۔

چیف ایڈیٹرجنگ نیوزکینیڈااشرف خان لودھی پھرسے چوہدری منظوراحمدکومخاطب کرتے ہوئے کہا آپ نے پیپلز پارٹی میں نشیب و فراز دیکھے ہیں۔ آپ کو کیا لگتا ہے کہ اس وقت کی پیپلز پارٹی اور بینظیر بھٹو کے دور کی پیپلز پارٹی میں کیا فرق ہے؟ وہ کون سی چیزیں ہیں جو آج واضح نظر آتی ہیں؟ فرق کیا ہے؟
چوہدری منظور: پاکستان پیپلز پارٹی کا اپنا ایک کردار اور ذمہ داریاں ہیں۔ ہم محترمہ بینظیر بھٹو کی پارٹی کا موازنہ مسٹر زرداری کی پارٹی سے یا اب مسٹر بلاول کی پارٹی سے نہیں کر سکتے۔
یا اس سے پہلے ذوالفقار علی بھٹو کا دور، اور ذوالفقار علی بھٹو کے دور کا موازنہ ہم محترمہ بینظیر بھٹو کے دور سے نہیں کر سکتے۔ سوال یہ ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں ان کے کندھوں پر جو ذمہ داریاں ڈالی گئی تھیں، وہ پوری ہوئیں یا نہیں۔ محترمہ بینظیر بھٹو کے کندھوں پر جو ذمہ داریاں ڈالی گئی تھیں، وہ پوری ہوئیں یا نہیں۔

ذوالفقار علی بھٹو کے دور جیسی ہی ذمہ داری مسٹر زرداری پر ڈالی گئی۔ مسٹر بھٹو، محترمہ بینظیر بھٹو،میں نے کئی مثالیں دی ہیں کہ اپنی تمام تر کوششوں اور خواہشات کے باوجود وہ آئین میں ترمیم نہ کر سکے۔ آصف زرداری 125 ووٹوں کے ساتھ کامیابی سے ذوالفقار علی بھٹو (کے دیے گئے آئین) کی طرف لوٹے۔
اس وقت اکثریت دو تہائی تھی۔ ان کے پاس سادہ اکثریت بھی نہیں تھی۔ لیکن 18ویں ترمیم میں انہوں نے 100 سے زائد شقوں (Articles) میں ترمیم کی۔انہوں نے این ایف سی (NFC) ایوارڈ دیا۔ انہوں نے خیبر پختونخوا کا نام رکھا۔ انہوں نے گلگت بلتستان کا نام رکھااور آج بھی 18ویں ترمیم کو واپس لانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ تو ہر دور کا اپنا ایک کردار ہوتا ہے۔ مسٹر بلاول کا اپنا ایک کردار ہے۔
وہ اب ایک بہت ہی سمجھدار سیاست دان کے طور پر سامنے آ رہے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر آپ دیکھیں تو ان کا موازنہ کس سے کیا جا رہا ہے؟ ان کا موازنہ اس دور کے بڑے سیاست دانوں سے کیا جا رہا ہے۔ وہ تو اس دور کے سیاست دان بھی نہیں ہیں۔
تو آج اگر ان کا موازنہ مولانا فضل الرحمن سے، میاں شہباز شریف سے، یا ان کے والد کے دور کے تمام سیاست دانوں سے کیا جا رہا ہے، تو آپ ان کی سنجیدگی اور سمجھداری کا معیار دیکھیں۔ آپ نے پارلیمنٹ اور الیکشن میں ان کی تقاریر سنی ہوں گی۔ میں بھی گلگت بلتستان کے الیکشن سے ہی آیا ہوں اور سیدھا یہاں کینیڈا پہنچ گیاہوں۔
تو ایک کردار ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا وہ ذوالفقار علی بھٹو بن سکتے ہیں؟ نہیں، وہ نہیں بن سکتے۔محترمہ بینظیر بھٹو بینظیربھٹوتھیں۔جو چیزیں ذوالفقارعلی بھٹو کو ملیں، یا جوعہد ملاتھا ، وہ مختلف تھا۔ آج کاعہد مختلف ہے۔ لیکن میں یہ نہیں کہہ رہا کہ آپ قیادت کوبری الذمہ قراردیدیں، ان کا ایک تاریخی کردار ہے اور انہیں وہ کردار نبھاناپڑے گا ۔ چاہتے یاناچاہتے ہوئے بھی۔ تو یہ صورتحال ہے۔
اشرف خان لودھی نے کہاکہ جیسے اب بلاول بھٹو پارٹی کے روح رواں ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ جب وہ وزیر خارجہ تھے تو انہوں نے بہت اچھا کردار ادا کیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ وہ ایک نوجوان بچہ ہے جو پورے ملک کی نمائندگی کر رہا ہے۔ اس وقت ہماری دوسری سیاسی جماعتیں بھی بلاول کو نظر اندازبھی کرتی ہیں کہ ایں کتھوں ساڈے اتے آگیا۔ تو کیا آپ ہمیں دوسری سیاسی جماعتوں کے بارے میں بتا سکتے ہیں؟ کیونکہ آپ ہاؤس (پارلیمنٹ) میں بھی رہے ہیں اور آپ بیرون ملک بھی رہتے ہیں۔ تو کیا دیگرجماعتیں بلاول بھٹو کیلئےکتنی مشکلات پیداکرسکتی ہیں ؟
چوہدری منظور: دیکھیے، یہ بہت سادہ ہے۔ مسٹر بھٹو پاکستان کے سب سے کم عمر وزیر خارجہ تھےاوران کے بعدان کے نواسے نے بھی وہی اعزازحاصل کیااور وزیر خارجہ بننے کے بعد صورتحال مشکل تھی۔ پاکستان تنہائی کا شکار تھا۔ایک دن ہم بات کر رہے تھے تو بلاول بھٹو نے کہا، بطور وزیر خارجہ میں ان بڑے ممالک کا غصہ سمجھتا ہوں جو اس خطے میں دلچسپی رکھتے ہیں لیکن ناروے جیسے ممالک، جن کی کوئی دلچسپی نہیں ہے، وہ بھی پاکستان سے ناراض تھے۔ تو ان کو شامل کرنا اور یہ سب چیزیں کرنا ایک بہت اہم کام تھا اور انہوں نے یہ کیا۔
لیکن اس کے بعد جب بھارت پاکستان جنگ ہوئی تو انہیں بطور وزیر خارجہ ایک کردار دیا گیا۔ لیکن اس وقت تمام جماعتوں کا ایک پارلیمانی وفد تھا۔ ایک وفد انڈیا کا تھا اور دوسرا پاکستان کا۔اور انڈیا کے وفد کی قیادت ششی تھرور کر رہے تھے۔ ان کا ایک بڑا نام (Aura) تھا۔ وہ یو این (UN) میں اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل رہ چکے تھے۔اور ان کی زبان بہت شاندار اور فصیح تھی۔ وہ آدابِ گفتگو کے ماہر آدمی تھے۔ تو ان کے مقابلے میں یہ (بلاول) نوجوان تھے۔
لیکن وہ جہاں بھی گئے، بلاول بھٹو نے کامیابی حاصل کی۔ تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے چیزوں کو کس طرح سمجھا اور کس طرح وضاحت کی اور اس وقت پاکستان کا کیس کیسے لڑا گیا۔ جس کے نتیجے میں پاکستان کو یہ عزت ملی اور اس میں بھی، پہلی رات ہمارے دو وزیروں نے ایک غلطی کر دی اور فوراً کہا گیا کہ آپ یہ سب سنبھالیں گےاور اتفاق سے وہ اسلام آباد آئے ہوئے تھے۔ ان کے پاس ایک پینٹ، ایک کوٹ اور ایک سوٹ تھا۔ وہ کسی بھی پینٹ کے ساتھ کوٹ بدل لیتے تھے۔
کیونکہ فوراً ہی ایک جنگ جیسی صورتحال تھی اور انہوں نے کہا کہ دو وزیروں نے غلطی کی ہے۔ اب، انٹرنیشنل میڈیا صرف بلاول بھٹو سے ڈیل کرے گا۔ آپ نے وہ تمام انٹرویوز دیکھے ہوں گے۔پھر دوبارہ، ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جو جنگ تھی، وہ بھی انٹرنیشنل میڈیا کے سامنے بلاول بھٹونے ہینڈل کی۔ تو انہیں وقت فوقتاً یہ سب ملتا ہے۔ لیکن ان کے خیالات میں بہت واضح پن ہے۔
اشرف خان لودھی نے کہا اچھا، چوہدری صاحب، یہ پاکستان اورباہرکی دنیا کے بارے میں ایک بہت اچھی بات ہے۔ اب ہم پنجاب کی پیپلز پارٹی کی طرف آتے ہیں۔ پنجاب میں پیپلز پارٹی کا ایک گڑھ ہوا کرتا تھا۔آج کیا ہوا ہے کہ پنجاب میں پیپلز پارٹی کے چاہنے والے ہی ختم ہوگئے ہیں؟ پنجاب میں اسے پنجابی پارٹی کہا جاتا تھا۔ یہ پنجاب سے بالکل غائب ہو چکی ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے؟
چوہدری منظورنے کہاکہ پیپلز پارٹی لاہور میں، پنجاب میں بنی تھی اور ذوالفقار علی بھٹو نے پنجاب جیتا تھا، اسلئے وہ وزیراعظم بنے تھے۔
اب، یہ صرف ایک اتفاق نہیں ہے کہ 1977 کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کو سندھ، بلوچستان، کے پی (KP)، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان میں حکومتیں ملتی رہیں ۔ میں نے ابھی کہا کہ ہم ایک الیکشن سے آ رہے ہیں۔ تب ہمارا وزیراعظم بنا تھالیکن ہماری حکومت پنجاب میں نہیں بنیں۔ میں اسے ایک منصوبہ سمجھتا ہوں۔ میں اسے محض ایک اتفاق نہیں سمجھتا۔
اور اس منصوبے میں، چیزوں کی جس طرح تباہی ہوئی ہے وہ درست نہیں ہے۔ بالآخر، ایک الیکشن کے بارے میں، میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ ہر الیکشن بدتر ہوتا جا رہا ہے۔ میں نے خود 2002 سے الیکشن لڑا ہے۔اس سے پہلے ہم ہر الیکشن میں مینیج (انتظام) کرتے تھے۔ تو ہر الیکشن بدتر ہوتا جا رہا ہے۔ پہلے ہمیں اس سسٹم کو ٹھیک کرنا ہوگا۔
میں ایک مثال دیتا ہوں۔ بلاول بھٹو نے لاہور میں الیکشن لڑا۔ انہیں 15000ووٹ ملے۔اس سے ایک سال پہلے، اسلم گل، جو لاہور کے صدر ہیں،آپ انہیں بہتر جانتے ہیں،انہوں نے اسی طرح الیکشن لڑا تھا۔ انہیں 33000ووٹ ملے تھے۔ بلاول بھٹو اور اسلم گل (کے ووٹوں کا موازنہ کریں تو بلاول) اتنے ووٹ حاصل نہ کر سکے۔
تو اس بات کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ تو یہ چیزیں موجود ہیں۔ انہیں 15000ووٹ ملے اور وہ 15000ہی رہے۔باقی لوگوں کے ووٹ بڑھتے رہے۔ لیکن ان کے نہیں بڑھے۔ تو ایمانداری کی بات یہ ہے کہ لوگوں کا ووٹ، الیکشن لڑنے والے لوگوں پراعتمادختم ہوچکاہے ۔
اشرف خان لودھی کاکہناتھاکہ یہ اسلئے ہے کہ ہم فارم 47-46 کے چکر میں ہیں۔ رات کو منظور صاحب جیت رہے ہوتے ہیں اور دانیال ابراہیم صاحب ہار رہے ہوتے ہیں۔ صبح ہمیں پتہ چلتا ہے کہ وہ ہار گئے۔اس سسٹم کو بند ہونا چاہیے۔ ہمیں آنے والے سسٹم کو اپنانا چاہیے۔ سیاسی نظام کی طرف۔ لیکن موجودہ نظام جو ہے، اس میں فوج بہت زیادہ شامل ہو گئی ہے۔ کیا یہ ختم ہوگا یا نہیں؟
چوہدری منظورنے گفتگوجاری رکھتے ہوئے کہا دیکھیے، ضیاء الحق کے دور میں اور اس سے پہلے ایوب خان کے دور میں اسپیس (گنجائش؍موقع) ان کے پاس جاتی رہی ہے۔ پھر وہ سیاسی جماعت جس کو سیاست پر بھروسہ ہوتا ہے وہ آتی ہے اور اسے واپس لے لیتی ہےاور ہم نے دیکھا کہ بھٹو صاحب نے اسے واپس لیا۔ پھر ضیاء الحق آئے۔ پھر محترمہ آئیں اور انہوں نے اسے واپس لیا۔پھر مشرف آئے۔ پھر زرداری صاحب نے اسے واپس لیا۔ یہ 18ویں ترمیم، این ایف سی ایوارڈ اور دیگر چیزیں۔یہ سب کیا ہے؟ ایک طرح سے یہ بالادستی کی واپسی ہے۔ آپ اسے آئین کے ذریعے، قانون کے ذریعے، اپنی روایات کے ذریعے واپس لیتے ہیں۔ تو ان کے پاس ابھی اسپیس ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ سیاست دان کیا کر رہے ہیں؟ کیا اسے واپس لینا صرف پیپلزپارٹی کی ذمہ داری ہے؟ یا باقیوں کی بھی ذمہ داری ہے؟ یا یہ باقیوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ کہتے تھے کہ وہ باپ تھے، آرمی چیف۔ اور اب یہ جس طرح کر رہے ہیں جو انہیں نہیں کرنا چاہیے۔ یہ ان کا دائرہ اختیار ہے۔مسٹر لودھی ، پاکستان میں مجھے جو مسئلہ نظر آتا ہے وہ یہ ہے کہ کوئی بھی ادارہ اپنا کام نہیں کر رہا۔ ہر ادارہ دوسرے ادارے کے دائرہ اختیار میں ہے۔ پارلیمنٹ اپنا کام نہیں کر رہی۔عدلیہ اپنا کام نہیں کر رہی۔ ملٹری بیوروکریسی اپنا کام نہیں کر رہی۔ سول بیوروکریسی اپنا کام نہیں کر رہی۔تو یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جسے سنجیدگی سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔
اشرف خان لودھی اس بات کوبڑھاتے ہوئے کہا ایک وقت تھا جب زرداری صاحب آئے تھے۔ انہوں نے آپ کے محکمے، لیبر ڈیپارٹمنٹ کے بارے میں بات کی۔میرا مطلب ہے، انہوں نے ایک ملازم کو ایسا انعام اور ایسی تنخواہ دی۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ وہ دور پھر نہیں آیا۔ تو اس سلسلے میں سب سے غریب طبقہ سرکاری ملازمین ہیں۔کسی حکومت نے انہیں کچھ نہیں دیا۔یہ ایسا ہی ہے۔ کیونکہ آپ بھی لیبر کے مسائل سے وابستہ ہیں۔ آپ نے یہاں آ کر بہت کام کیا۔
چوہدری منظوراحمدنے بتایاکہ دیکھیے، تب بھی میں لیبر انچارج تھا۔ میری ذمہ داری تھی۔ تو میں نے تنخواہوں میں 135 فیصد اضافہ کیا، پنشن میں 100 فیصد اضافہ کیا، پھر کم از کم اجرت بڑھائی، پھر ڈیتھ گرانٹ ، پھر میرج گرانٹ بڑھائی۔اور میں نے بہت سے ایسے کام کیے ہیں جو تاریخ کا حصہ ہیں۔ بالکل۔ انہیں فلیٹس پہلے کرائے پر دیے گئے، پھر مالکانہ حقوق پر دیے گئے۔پھر وہاں یونیورسٹیاں، کالجز، اسکول تھے۔ میرے اپنے شہر میں، ہم نے ورکرز اسکول بنانے کیلئے ایک ارب روپے سے زیادہ کی سرمایہ کاری کی۔ تو آج بھی انہیں مفت یونیفارم، کتابیں، مفت بسیں ملتی ہیں، انہیں سب کچھ مفت ملتا ہے۔
تو یہ ایک بڑا کام تھا جو میں نے اس وقت کیا۔ اس سے بھی بڑا ایک کام تھا، میں نے ایک نظام شروع کیا جسے بینظیر ایمپلائز اسٹاک آپشن اسکیم کہا جاتا ہے، جس کے تحت انہوں نے تمام کارپوریشنز اور تمام بڑے اداروں کے 12 فیصد شیئرز (حصص) مزدوروں کو دئیے۔ اور ان شیئرز کا مطلب یہ تھا کہ ہم نے مزدوروںسےمالک کا ایک سفر شروع کیا۔
یہ پہلا کام تھا جو مسٹر نواز شریف نے آتے ہی (ختم) کیا۔ اب بھی جوپی آئی اے کی جو نجکاری ہوئی ہے وہ آپ کے سامنے ہے۔میں تفصیلات میں نہیں جانا چاہتا، لیکن 2024 میں انہوں نے 26 ارب روپے کا منافع دس ارب میں بیچ دیا۔ اور دس ارب میں انہوں نے 8-7 ارب روپے کا کشن دیا اور 15 سال کیلئےٹیکس چھوٹ دے دی۔ تو اس میں بھی، لوگوں کے پاس اب بھی 12 فیصد شیئرز ہیں۔لوگوں کے پاس یہ اب بھی ہیں۔ تو اس بنیاد پر، یونین عدالت گئی ہے کہ انہوں نے یہ تمام شیئرز کیسے بیچ دیے۔ تو یہ ایک مسئلہ ہے۔بہت سارے پروگرام ہیں۔ اگر میں چاہوں تو آپ کو لمبی وضاحت دے سکتا ہوں۔
اشرف خان لودھی نے کہا نہیں، آپ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ اگر انہوں نے پی آئی اے کو یہ موقع دیا ہوتا، تو کیا وہ تمام قرضے معاف کر کے اور انہیں 10 فیصد پر بیچ کر آگے نہیں بڑھ سکتے تھے؟ تو یہ بہت خراب صورتحال ہے۔
چوہدری منظوراحمدآخرمیں کہا کہ میں دوبارہ کہنا چاہوں گا کہ وہ اپنی پالیسی کے ذریعے قرض کی Nationalising کر رہے ہیں اور منافع کی نجکاری کر رہے ہیں۔
’’غربت اور امارت میں اضافہ ہو رہا ہے جو کہ ایک المیہ ہے اس وقت کی سیاست کا۔ جسے ٹھیک ہونا چاہیے۔ ہم کوشش کر رہے ہیں جتنی بھی ہمارے اندر استطاعت ہے اور وہ جو بات آپ کر رہے ہیں کہ وہ ایک ایسا بیہیویئر ہے جو پہلے بھی تھا، اب بھی ہے جس کو نہیں ہونا چاہیے۔‘‘
ایک سوال کہ ’’اب جو آرمی چیف کی نئی ایکسٹینشن ہو گی تو آپ لوگ کر دیں گے ایکسٹینشن؟‘‘
چوہدری منظوراحمدنےکہا’’نہیں، میرے خیال میں ابھی تو یہ کہنا قبل از وقت ہے۔ کیا ہیں، اس وقت کے حالات کیا ہوتے ہیں، کیا نہیں ہوتے ہیں اس کے مطابق فیصلہ ہوگا۔ ویسے میں ذاتی طور پر پہلی یا دوسری یا تیسری کسی بھی ایکسٹینشن کے حق میں نہیں ہوں۔‘‘
ایک سوال کہ’’ عدالتوں میں سدھار کیلئے کوئی کہنا چاہیں گے کہ اب کیا کیا کریں گے آپ لوگ؟ بطور پارٹی، بڑی پارٹی ہے آپ کی۔‘‘
’’میرا خیال ہے کہ کوئی میکنزم اپنانا ہوگا آپ کو۔ پہلے چیمبرز سے ججز آتے تھے کہ فلاں بڑا چیمبر ہے ان میں سے اتنے ججز آئیں گے، فلاں چیمبر سے۔ اب وہی دوسرے اینگل سے آ رہے ہیں، اسی طریقے سے آ رہے ہیں۔ اس کا کوئی آپ کے اندر عدالتوں کے اندر کوئی میکنزم نہیں ہے کہ کس طرح سے ججز آئیں۔ میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ اس کو کوئی طریقہ کار اپنانا چاہیے۔ کیا ہو سکتا ہے، اس پہ بحث ہو سکتی ہے۔‘‘
’’بلوچستان کا برننگ ایشو ہے۔ بہت زیادہ برننگ ایشو ہے۔ اس حوالے سے آپ بتانا چاہیں گے کہ، مطلب جو ریاست کی پالیسی ہے وہ کیا اسی طرح چلتی رہنی چاہیے یا اس میں بات چیت کرنی چاہیے ان لوگوں سے باقاعدہ طور پر؟‘‘
’’نہیں دیکھیں نا، ہم، میرے خیال کے اندر، وہ بات چیت کرنی چاہیے۔ میں ڈائیلاگ، ایک، ایک ٹائم تھا تھری ڈی (3D) پالیسی تھی۔ وہ تھی ڈائیلاگ، ڈیویلپمنٹ اینڈ ڈیٹرنس۔ تو میرا خیال ہے اب ڈیٹرنس ہی رہ گئی ہے، تو اس کو واپس پھر اسی تھری ڈی پالیسی پہ جانا چاہیے۔ اور میرا خیال ہے وہاں پہ بھی، ہر جگہ پہ مذاکرات۔ صرف بلوچستان کے نہیں باقی جگہوں پہ بھی صورتحال کوئی اتنی اچھی نہیں ہے۔‘‘
چوہدری منظوراحمدنے میزبان کے ایک سوال کہ وفاق کے انتخابات کب تک ہونے کا چانس ہے؟کے جواب میں کہا دیکھیں۔ ابھی الیکشن کا کوئی جوازنہیں مثلاً کیوں؟ کیوں ہوں گے الیکشن؟
جس پرمیزبان نے پھرسے بات آگے بڑھائی اورکہا شہباز شریف کو ہٹانے کی باتیں ہو رہی ہیں۔
اس پرچوہدری منظورنے کہا باتیں ہو رہی ہیں۔ کیوں ہٹایا جائے گا؟ اس کا، کس کو کیا فائدہ ملے گا؟ کچھ بھی نہیں۔ دوسرا یہ ہے کہ یہ ہمیں آفر ہوئی تھی جب یہ گورنمنٹ بنا رہے تھے، کہ آپ ڈھائی ڈھائی سال کر لیں۔ پیپلز پارٹی کی طرف سے بلاول بھٹونے انکارکردیا۔ انہوں نے کہا تھا کہ نہیں، ان کو کرنے دیں پانچ سال۔ یہ کریں اپنی پالیسیز۔ کل کو یہ تو نہ نہ کہیں کہ ہم یہ کرنا چاہتے تھے نہیں کر سکے، وہ کرنا چاہتے تھے نہیں کر سکے۔ کریں! لیکن جو صورتحال نظر آ رہی ہے، اس میںیہ لوگ معیشت میں کوئی بہتری نہیں لا سکے۔ آپ نے جیسے کہا کہ ملک کے مختلف حصوں میں جو چیزیں ہیں، صورتحال ہے، اس میں بہتری نہیں لا سکے۔ ہاں، جنگ میں تھوڑا پاکستان کو ایک بڑا بوسٹ اپ ملا ہے، بین الاقوامی پروفائل بہتر ہوا ہے پاکستان کا۔ تو یہ چیزیں ہوئی ہیں۔
اس خصوصی نشست میں موجوددیگردوستوں نے بھی پاکستان پیپلزپارٹی کے سینئررہنماسے بات کرتے ہوئے کہا چوہدری صاحب! عدالتوں کے حوالے سے پہلے کچھ تھوڑا بہت بہتری تھی اور لوگ سمجھتے تھے کہ انہیں اگر کہیں سے کوئی ان کو دبایا جائے گا یا ان کوکہی سے یعنی نشانہ بنایا جائے گا توعدالتیں ان کو ریلیف دیں گی، تو وہ تصور بھی پاکستان میں مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے۔
چوہدری منظوراحمدکاکہناتھا کس عہد میں پاکستان کی عدالتوں نے ریلیف دیا ہے؟ کیا ایوب خان کے دور میں جسٹس منیر خان سے لے کر میں آج تک آ جاؤں؟ مجھے بتائیں گے آپ؟ صرف افتخار چوہدری کا نام لیں گے کہ وہ پیپلز پارٹی کی ہر بات کو، ساری حکومت جو تھی اس کی عدالت میں ہوتی تھی؟ اس کے علاوہ بتائیں نا، کب ریلیف ملا؟ بھٹو صاحب کے کیس میں ریلیف ملا؟ ضیاء الحق کے دور میں ریلیف ملا؟ نواز شریف کے دور میں ریلیف ملا تھا؟ عمران خان کے دور میں کسی کو ریلیف ملا؟ کیا ثاقب نثار نے ریلیف دیا ہے کسی کو؟ کیا ہے؟ عدالتی نظام کیا ہے آپ کا؟ تو یہ ایک بات۔ دوسری ہاں، البتہ ابھی جو لوگوں کا اعتراض ہے کہ یہ جو آئینی عدالتیں ہیں، اس کے حوالے سے۔ تو یہ تو چارٹر آف ڈیموکریسی کے اندر ہمارا مطالبہ تھا۔ کیا ہم فیڈرل کورٹ بنائیں گے ایک، جس میں آئینی عدالت ہوگی اورآئینی معاملات اس میں جائیں گے۔ وجہ کیا تھی؟ کہ ایک چیف جسٹس بنتا ہے، وہ اپنی مرضی سے بینچ بنا لیتا ہے، اس میں تین جج ایک صوبے سے رکھ لیتا ہے، دو دوسرے صوبوں سے رکھ کر فیصلہ سنوا دیتا ہے۔ اور اس کو کوئی چیلنج نہیں ہے۔آئینی عدالت کا جو ہمارا مقصد تھا کہ وہ ججز جو ہوں گے، وہ برابری کی سطح پر ہر صوبے سے ہوں گے۔ ٹھیک ہے؟ اب اس میں یہ ہو سکتا ہے کہ آپ کہیں ججز ٹھیک نہیں ہیں، وہ میرا بھی اعتراض ہے۔ میں بھی سامناکر رہا ہوں آج۔ مطلب آئینی عدالتوں کو، میں بھی فیس کر رہا ہوں، ہم بھی پی آئی اے (PIA) کے حوالے سے عدالت میں گئے ہوئے ہیں، نجکاری کے حوالے سے۔ لیکن ایک ادارہ ٹھیک ہے، اس میں اگر بندے آج غلط آگئے، کل کو ٹھیک ہو جائیں گے۔
نشست میں موجودایک دوسرے مہمان نے پوچھاکہ کتنا عرصہ انتظار کرنا پڑے گا؟جس پرچوہدری منظورنے کہاہو سکتا ہے اگلے ٹینیور میں یا اگلے جو ججز آنے والے ہیں، اس کے اندر یہ ریٹائر ہونے میں بہتر آجائے۔ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس سے زیادہ خراب ہو جائے۔ مثلاً قومی اسمبلی کے اندر لوگ ضروری تو نہیں ہے کہ سارے بہت اچھے آئیں۔ وہ خراب بھی آ جاتے ہیں، ٹھیک بھی آ جاتے ہیں، بہتری کا ٹائم بھی آ جاتا ہے، خرابی کا ٹائم بھی آ جاتا ہے۔ اہم سوال یہ ہے کہ ادارہ ہوگا تو کچھ بہتری کی آپ امید کریں گے، اگر ادارہ ہی نہیں ہے تو اس میں بہتری کی امید کہاں سے آپ لے کر آئیں گے؟
’’ دیکھیں آپ بھی ریاست کاحصہ تو ہیں نا ‘‘جیسی گفتگومیں چوہدری منظورنے کہا نہیں، ہر بندہ جو پاکستان میں رہتا ہے وہ ریاست کا حصہ ہےتو۔ میں تو اس کو ریاست کو اس طرح سے مانتا ہوں۔ میں تو یہ نہیں سمجھتا کہ ریاست کے جو چند ریاست کے اوپر بیٹھے لوگ ہیں، ریاست ان کی۔ میں تو عوام کو ریاست مانتا ہوں۔
آزادکشمیرمیں سیاسی خلاآپ فِل نہیں کریں گے تو کوئی اور فِل کر لے گا، یہ ایک سائنٹیفک اصول ہے کہ جو خلا ہے اس کو کسی نے آ کر فِل کرنا ہے، تو وہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے کر لیا۔ انہوں نے پہلے سٹرائیک کی کال دی، وہ ہو گیا، دوسری دی، تیسری دی۔ یہ ایک سیاسی مسئلہ ہے جس پہ پاکستان، جس پہ چار پوزیشنیں ہیں۔
آزادکشمیرمیں پہلی پوزیشن نون لیگ کی اور اسٹیبلشمنٹ کی ہے کہ نہیں یہ رہنی چاہئیں، ان دونوں کا اس پہ بالکل ایک مفاد ان کا ہے۔ نون لیگ کو یہ ہے کہ شاید ہماری گورنمنٹ بنے گی اور یہ مسئلہ شروع بھی رانا ثناء اللہ کی پریس کانفرنس سے ہوا جب انہوں نے مظفرآباد کے اندر کہا کہ باقی جماعتوں کی جو گنتی ہے وہ ایک سے شروع ہونی ہے، ہماری 11 سے شروع ہونی ہے، یعنی 10 جو پنجاب کی سیٹیں ہیں وہ ہماری جیب میں ہیں۔ تو پہلے دو بار پیپلز پارٹی کی حکومت ان 12 سیٹوں کی وجہ سے نہیں بن سکی، جبکہ کشمیر کے اندر پیپلز پارٹی الیکشن جیت چکی تھی۔
دوسری پوزیشن ہے اس وقت جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی، وہ کہتے ہیں ہم مانتے ہی نہیں ہیں، ایک بھی سیٹ نہیں بنتی۔تیسری پوزیشن پیپلز پارٹی کی ہے، پیپلز پارٹی کہتی ہے کہ ان سیٹوں کو آپ بین الاقوامی طورپر بالکل ختم نہیں کر سکتے، چونکہ انڈیا نے بھی سیٹیں رکھی ہیں لیکن وہ خالی رکھی ہوئی ہیں۔ آپ کو رکھنی ہیں، ان کو کم کریں اور ان کو متناسب نمائندگی کے ذریعے لے جائیں، یعنی کشمیر کے اندر جو الیکشن ہو اس میں جو پارٹی جتنے ووٹ لے اسی، اس کی سیٹوں پہ یا اس کے ووٹس پہ متناسب نمائندگی پہ دے دیں، یہ ایک بہتر حل ہے۔
ایک تیسرا، ایک چوتھا پوائنٹ آف ویو بھی ہے، وہ یہ ہے کہ ان سیٹوں کو کم کر کے آپ ان کو اٹھا کر کشمیر کونسل میں رکھ دیں، تو کونسل کو تھوڑا اختیار دے دیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی آج بھی چاہتی ہے، میں یہ کہتا ہوں یا میرا پوائنٹ آف ویو یہ ہے کہ ان کو جو کالعدم قرار دیا ہے اس کو واپس کریں، ان سے مذاکرات کیجیے، ان سیٹوں کے بارے میں کوئی سلوشن نکالیے چونکہ 5 جون سے یہ بند ہے، کشمیر۔ یہ اتنا لمبا کشمیر کے لوگوں کو سزا مل رہی ہے۔ تو اس کو، اس کو فوری طورپرکچھ ریلیف اس کو دے دو۔
رہی بات یہ جو بلاول صاحب نے بھی کہی ہے، میں نے اس کو اور اینگل سے سب سے پہلے میں نے کہا تھا کہ اگر آپ یہ سمجھتے ہیں، لوگ کہتے ہیں کہ ہمارے لوگ مارے گئے ہیں، فورسز کہتی ہیں ہمارے لوگ مارے گئے ہیں، میرا، میں نے کہا تھا کہ اس پہ جوڈیشل کمیشن بنا دیں۔ تو بلاول بھٹو کا یہ ہے کہ اس پہ ٹروتھ اینڈ، ٹروتھ کمیشن بنا دیا جائے۔ تو یہ اس کا سلوشن ہو سکتا ہے اور اس کا سلوشن نکالنا چاہیے، کشمیر فلیش پوائنٹ ہے۔ کیا حکمتِ عملی ہے اس حکومت کی کہ جو کشمیری پہلےبھارتی سفارت خانے کے باہر ہوتے تھے، ان کو اٹھا کر آپ نے پاکستان سفارتخانے کے باہر لا کر کھڑا کیا ہے؟ تو یہ کوئی عقل کی بات نہیں ہے، وہاں پہ عقل جو ہے اس کو پریویل کرنا چاہیے، اس کا، اس سے کام لینا چاہیے اور اس مسئلے کو حل کرنا چاہیے۔
چوہدری منظوراحمدسے پوچھاگیاکہ92 میں کراچی کے مہاجر غدار تھے، اس کے بعد کے پی کے میں پٹھان غدار ہوئے، اس کے بعد اب بلوچستان میں دوبارہ بلوچی غدار ہیں۔ تو مطلب کب تک چلتا رہے گا یہ سلسلہ؟ آپ کی ریاست کیا چاہتی کیا ہے؟
اس سوال کے جواب میں چوہدری منظورنے کہادیکھیں نا یہ تو ریاست سے پوچھیں آپ، ریاست کے جو کرتا دھرتا ہیں ان سے پوچھیں، لیکن میرا خیال ہے کہ یہ جو غداری کے سرٹیفکیٹس ہیں یہ بانٹنا بند کرنے چاہئیں اور پھر وہی بات ہے کہ آپ کے سیاسی مسائل کاسیاسی حل موجودہے۔ اور کوئی طاقت کوئی حل نہیں ہے، طاقت کے استعمال سے مسائل حل نہیں ہوتے اور خراب ہوتے ہیں۔ یہ پاکستان پیپلز پارٹی کا موقف ہے۔
ایک سوال کہ اچھا اب یہ گورنمنٹ ختم ہونے کے بعد جب بھی ہو اس کا ٹینور (tenure) پورا ہو، تو آپ کیا مسلم لیگ نون کے ساتھ باقاعدہ مل کے پنجاب میں الیکشن لڑیں گے؟
چوہدری منظورنے جواب دیتے ہوئے کہا نہیں ایسا نہیں ہے، ہم تو دیکھیے نا ابھی بھی نون لیگ کیخلاف لڑ کر آ رہے ہیں گلگت بلتستان میں۔ ابھی بھی ہم کشمیر میں نون لیگ کے خلاف الیکشن لڑ رہے ہیں تو کیوں ہم لڑیں گے؟
ایک سوال کےپنجاب میں کیا صورتحال ہوگی؟کے جواب میں چوہدری منظورنے بتایاپنجاب میں بھی لڑیں گے، پہلے بھی لڑا ہے اب بھی لڑیں گے۔
مہمان: قومی اسمبلی کےاسپیکر کہاں سے ہیں؟ لاہور سے ہیں۔ کوئی چالیس ارب روپیہ انہوں نے دیے۔ 13 منسٹر ہیں لاہور سے صوبائی کیبنٹ میں۔ چار یا پانچ وزیر ہیں وہاں سے لاہور سے۔اس وقت تو لاہور اس وقت مرکزِ توجہ بنا ہوا ہے۔ میں یہ کہتا ہوں، میرا ایک ایک اور، اس میں شاید یہ اعتراض بھی ختم ہو جائے۔
اعتراض کیا ہے؟ میرا جو اعتراض ہے، اس کے لیے شاید میں، ہو سکتا ہے میں عدالت بھی چلا جاؤں۔ این ایف سی (NFC) تو کیا آپ نے، پی ایف سی (PFC) نہیں کیا۔ اگر این ایف سی کے تحت آپ آبادی کی بنیاد پر فنڈز لے رہے ہیں، تو پی ایف سی کر کے، جو صوبائی فائنانس کمیشن ہے، وہ بھی تو ہونا چاہیے تھا نا۔ تو اس کے مطابق اضلاع کو جاتے۔ تو وہ پھر آبادی پہ جاتے۔
مثلاً لاہور کے ساتھ، یہ لودھی ہو کر آئے ہیں میرے ضلعے سے بھی۔ تو میں ساتھ اس کی سرحد پہ بیٹھا ہوں، لاہور کے ساتھ بیٹھا ہوں، میں بہت سارے فنڈز سے، بہت ساری چیزوں سے میں محروم ہوں۔ میرے ضلعے میں آج ایک بھی یونیورسٹی نہیں ہے۔ آپ کا تعلق سکھر سے ہے، وہاں کتنی یونیورسٹی ہیں؟ وہ ایک ایم پی اے کا شہر ہے نا؟ وہاں سات یونیورسٹیاں ہیں سکھر کے اندر۔ وہاں کا این آئی سی وی ڈی (NICVD)، ایس آئی یو ٹی (SIUT) جو کینسر کا ہاسپٹل بن رہا ہے، جو پیڈز کا ہاسپٹل ہے سکھر۔میری خواہش ہےکہ میرے ضلعے میں بھی ایسا کوئی ایک ہسپتال ہو۔ نہیں ہے!تو یہ المیہ ہے، جو کراچی کا ہے یا سندھ کا ہے۔ تو اس میں یہ چیزیں ہیں جس کو میرا خیال ہے، اس میں بہتری کی گنجائش بھی ہے، جتنے فنڈز ہیں اس میں بھی اور کام بہتر ہونا چاہیے، میں اس کا حامی ہوں۔
ایک سوال کے تھوڑا سےحالت سے بہتر نہیں ہوئی، مطلب میں جانتا ہوں اچھے، بہت بہتر طور پہ، آپ وہاں رہتے ہیں میں تو رہتا بھی نہیں ہوں، لیکن میڈیا ہمیں سارا کچھ بتاتا ہے۔ لیکن جو آپ کا ایم این اے، ایم پی اے بنتا ہے یا مشیر بنتا ہےوزیراعلیٰ کا یا وزیراعظم کا کسی کا بھی، اس کی حالت راتو رات تبدیل ہو جاتی ہے۔ وہ 20 باڈی گارڈ لے کے گھومتا ہے، اس کے پاس لینڈ کروزرکی لائن لگی ہوئی ہوتی ہے۔ یہ کیسے تبدیلی آ جاتی ہے؟
چوہدری منظورنے اس سوال کے جواب میں کہا یہ المیہ ہے ہماری سوسائٹی کا اور یہ، یہ اس کو، یہاں سے بھی آپ کے بہت سارے لوگ آئے ہیں، کبھی ان کو بھی کرید کر دیکھیں کہ وہ کون لوگ ہیں جنہوں نےکینیڈا آ کر یہاں پہ جائیدادیں خریدیں۔ (ہنستے ہوئے) کہاں کہاں، ان کا کس کس ادارے سے تعلق ہے؟ تو یہ المیہ ہے پاکستان کا، اس کو میں اس کا کبھی حامی نہیں ہوتا۔ میں تو اکیلا اپنے حلقے میں پھرتا رہتا ہوں، مجھے تو کوئی خطرہ نہیں ہوتا۔

