بھارت (رائٹرز، غیر ملکی میڈیا) بھارتی ریاست اروناچل پردیش کی وادی سیانگ میں مجوزہ پن بجلی ڈیم کی تعمیر کے خلاف احتجاج نے پُرتشدد صورت اختیار کرلی، مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد کم از کم 21 افراد کو گرفتار کرلیا گیا جبکہ حکومت نے امن و امان کی صورتحال قابو میں رکھنے کیلئے سینکڑوں اضافی اہلکار تعینات کر دیے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق تبت کی سرحد سے متصل وادی سیانگ میں گزشتہ ہفتے نوجوان مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے گولے برسائے جبکہ مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا، ایک پولیس اسٹیشن اور سرکاری پن بجلی ادارے کے دفتر کو آگ لگا دی۔
حکام کے مطابق اروناچل پردیش کے تین اضلاع اپر سیانگ، سیانگ اور ایسٹ سیانگ میں مرکزی مسلح پولیس فورسز کی 30 کمپنیاں تعینات کی گئی ہیں۔ ان میں مرکزی ریزرو پولیس فورس، بھارت تبت سرحدی پولیس، مسلح سرحدی فورس اور ریپڈ ایکشن فورس کے اہلکار شامل ہیں، جبکہ آسام پولیس کی تین بٹالین بھی تعینات کی گئی ہیں۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مزید اہلکاروں کی تعیناتی کا مقصد کسی بھی ناخوشگوار واقعے اور امن و امان کی خرابی کو روکنا ہے۔ حکام نے تصدیق کی ہے کہ احتجاج کے دوران ہونے والے واقعات کے سلسلے میں گرفتاریاں عمل میں لائی گئی ہیں اور مزید کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت کا وادی سیانگ میں 11 ہزار 200 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھنے والے سیانگ اپر ملٹی پرپز منصوبے کے تحت ایک بڑا ڈیم تعمیر کرنے کا منصوبہ ہے، جسے سرکاری ادارہ نیشنل ہائیڈرو الیکٹرک پاور کارپوریشن مکمل کرے گا۔
مقامی قبائلی آبادی اور کسان تنظیمیں اس منصوبے کی مخالفت کر رہی ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ ڈیم کی تعمیر سے ان کی آبائی زمینیں، گھر اور روزگار متاثر ہوں گے۔ سیانگ انڈیجینس فارمرز فورم کے نمائندے گی گونگ جیجونگ کے مطابق مجوزہ منصوبے سے 27 دیہات مکمل طور پر زیرِ آب آ جائیں گے جبکہ مزید 40 سے 50 دیہات متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
مقامی آبادی نے اعلان کیا ہے کہ ڈیم منصوبہ منسوخ ہونے تک احتجاج جاری رکھا جائے گا۔ گزشتہ دو سال سے علاقے میں اس منصوبے کے خلاف وقتاً فوقتاً مظاہرے ہو رہے ہیں، جبکہ حالیہ دنوں میں منصوبے کے ابتدائی جائزے اور سروے کی سرگرمیوں نے بھی مقامی آبادی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
دوسری جانب بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کی اہمیت چین کی جانب سے تبت میں دریائے یارلنگ زانگبو پر دنیا کے سب سے بڑے پن بجلی منصوبے کی تعمیر کے اعلان کے بعد مزید بڑھ گئی ہے۔ دریائے یارلنگ زانگبو ہی بھارت میں داخل ہونے کے بعد دریائے سیانگ کہلاتا ہے۔ بھارت کو خدشہ ہے کہ چین بالائی علاقے میں پانی کے بہاؤ پر کنٹرول کے ذریعے اس کے مفادات کو متاثر کر سکتا ہے۔
واضح رہے کہ چین اروناچل پردیش پر بھی اپنا دعویٰ کرتا ہے، تاہم بھارت اس ریاست کو اپنا اٹوٹ حصہ قرار دیتا ہے۔

