برسلز(فہیم النبی سے)بیلجیئم میں پاکستان کے سفارت خانے کی جانب سے قومی ہاکی ٹیم کے اعزاز میں ایک استقبالیہ تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں پاکستانی کمیونٹی، مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات، سفارتی حکام اور قومی ہاکی ٹیم کے کھلاڑیوں نے شرکت کی۔
پاکستان کے سفیر رحیم حیات قریشی نے تقریب میں قومی ہاکی ٹیم کے کھلاڑیوں اور آفیشلز کا پرتپاک استقبال کیا اور نوجوان کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے انہیں پاکستان کا روشن مستقبل قرار دیا۔

قومی ہاکی ٹیم کے چیف کوچ منظور الحسن نے سفارت خانے اور سفیر رحیم حیات قریشی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بیلجیئم آمد کے بعد سے پاکستانی سفارتی عملے نے جس محبت، خلوص اور پیشہ ورانہ انداز میں ٹیم کی میزبانی کی وہ قابل تعریف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیم کے اترنے کے پہلے لمحے سے سفارت خانے نے مکمل رہنمائی اور دیکھ بھال فراہم کی جس پر تمام کھلاڑی سفیر رحیم حیات اور سفارت خانے کے عملے کے بے حد شکر گزار ہیں۔
منظور الحسن نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی دراصل پاکستان کی اصل طاقت ہیں، جو دنیا کے ہر کونے میں رہنے کے باوجود اپنے وطن سے محبت کرتے ہیں۔ انہوں نے برسلز اور بیلجیئم کے مختلف شہروں میں مقیم پاکستانیوں سے اپیل کی کہ وہ بڑی تعداد میں اسٹیڈیم پہنچیں، سبز ہلالی پرچم لہرا کر قومی ٹیم کی بھرپور حوصلہ افزائی کریں اور میدان میں اپنی حب الوطنی کا عملی ثبوت دیں۔

انہوں نے قومی ہاکی ٹیم، سفارت خانے کے تمام عملے اور سفیر رحیم حیات کا ایک بار پھر شکریہ ادا کرتے ہوئے دعا کی کہ آئندہ تمام میچوں اور عالمی کپ میں پاکستان کامیاب ہو۔ انہوں نے “پاکستان زندہ باد” کا نعرہ بھی لگایا۔
چیف کوچ نے قومی ٹیم کی موجودہ صورتحال اور نوجوان کھلاڑیوں کو درپیش چیلنجز پر بھی تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی نوجوان ہاکی کھلاڑی بے پناہ صلاحیتوں کے مالک ہیں، لیکن کئی برس تک بڑے بین الاقوامی مقابلوں سے دور رہنے کے باعث ان کے اعتماد پر اثر پڑا اور ذہنی دباؤ میں اضافہ ہوا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان گزشتہ آٹھ برس کے دوران نہ ہاکی عالمی کپ میں کھیل سکا اور نہ ہی اولمپکس میں شرکت کر سکا، اس لیے عالمی درجہ بندی کی مضبوط ٹیموں کے خلاف کم مواقع ملنے سے نوجوان کھلاڑیوں کے اعتماد پر اثر پڑنا ایک فطری بات ہے۔
منظور الحسن نے کہا کہ موجودہ یورپی دورہ قومی ٹیم کیلئےایک اہم سیکھنے کا مرحلہ ہے جہاں کھلاڑی دنیا کی بہترین ٹیموں کے خلاف مسلسل کھیل کر تجربہ حاصل کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ میچ صرف مقابلے نہیں بلکہ مکمل تربیتی عمل ہیں اور ان کی اولین ترجیح کھلاڑیوں کا اعتماد بحال کرنا، انہیں ذہنی طور پر مضبوط بنانا اور دباؤ میں بہتر کارکردگی کیلئےتیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کوچنگ اسٹاف کھلاڑیوں کی ذہنی تربیت، خود اعتمادی اور دباؤ سے نمٹنے کی صلاحیت بہتر بنانے پر خصوصی توجہ دے رہا ہے کیونکہ جب کھلاڑی اپنے آپ پر یقین کرنا شروع کر دیتا ہے تو اس کی صلاحیتیں خود بخود نمایاں ہونے لگتی ہیں۔
چیف کوچ نے مزید کہا کہ یہ نوجوان کھلاڑی بہت بدقسمت رہے ہیں کیونکہ گزشتہ آٹھ برسوں میں انہیں کسی بڑے عالمی ٹورنامنٹ میں کھیلنے کا موقع نہیں ملا۔ بیلجیئم روانگی سے قبل ان کی تربیتی مہم صرف نو روز پر مشتمل تھی، اس سے پہلے وہ مختلف ممالک میں کھیلتے رہے جبکہ بعد ازاں لاہور میں 44 ڈگری سینٹی گریڈ کی شدید گرمی میں ٹریننگ کی۔
انہوں نے کہا کہ بیلجیئم میں 15 سے 16 ڈگری درجہ حرارت اور مختلف موسمی حالات کے باوجود اتنے طویل عرصے بعد دنیا کی مضبوط ٹیموں کے خلاف کھیلنا قومی ٹیم کے لیے بڑے اعزاز کی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ برسلز میں پاکستانی ٹیم مکمل جذبے کے ساتھ میدان میں اتری ہے۔
منظور الحسن نے کہا کہ یورپ کی مضبوط ٹیموں کے خلاف آٹھ میچ کھیلنے کے بعد قومی ٹیم اپنی کمزوریاں دور کر لے گی اور مستقبل میں مزید بہتر نتائج دے گی۔ انہوں نے نوجوان کھلاڑیوں پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہی ٹیم آنے والے برسوں میں پاکستان ہاکی کی شناخت بنے گی اور ایک مرتبہ پھر دنیا بھر میں سبز ہلالی پرچم بلند کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ اگر نوجوان کھلاڑیوں کو مسلسل مواقع، اعتماد اور بھرپور حمایت ملتی رہی تو پاکستان ہاکی کا روشن مستقبل زیادہ دور نہیں۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ قومی ٹیم عالمی کپ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی۔

