​تحریک انصاف کی چھٹی؟

​جس بات کا ڈر تھا، بالاآخر وہی ہوئی۔ خدشہ یہی ظاہر کیا جا رہا تھا کہ خیبر پختونخوا میں آخری معرکے کے طور پر گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ یقینی ہے، لیکن اتمامِ حجت کے طور پر مذاکرات کا ڈراما بھی ضروری تھا۔ملاقات بھی ضروری تھی بچھڑنا بھی ضروری تھا.

​تحریک انصاف کے اکابرین کو صاف نظر آ رہا تھا کہ کچھ بڑا ہونے والا ہے، اسی لیے وہ ہر بات ماننے کے لیے تیار تھے۔ ان کی بس اتنی سی خواہش تھی کہ انہیں ہلکی سی ‘فیس سیونگ’ دے دی جائے صرف ایک دفعہ عمران خان سے کسی ایک کی ملاقات کروا دی جائے تاکہ وہ اپنے سیاسی کارکنوں کو کوئی جواز فراہم کر سکیں۔ وہ لانگ مارچ ختم کرنے پر بھی رضامند تھے، لیکن حکومت بضد تھی کہ پی ٹی آئی دہشت گردی کے خاتمے میں تعاون نہیں کر رہی، لہٰذا اب یہ ممکن نہیں رہا کہ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت برقرار رہے۔

​حقیقت یہ ہے کہ اس کا فیصلہ بہت پہلے ہو چکا تھا۔ لوگ سمجھ رہے تھے کہ شاید صرف سہیل آفریدی کو وزیر اعلیٰ کے عہدے سے ہٹایا جائے گا، لیکن فیصلہ سازوں نے سہیل آفریدی کی جگہ پوری تحریک انصاف ہی کی چھٹی کروانے کا فیصلہ کر لیا ہوا تھا حالانکہ اگر مقصود صرف سہیل آفریدی کو ہٹانا ہوتا، تو ان کے خلاف اتنے کیسز بن چکے تھے کہ کسی بھی ایک کیس میں سزا دلا کر انہیں نااہل کرایا جا سکتا تھا۔ مگر اصل ہدف سہیل آفریدی نہیں، بلکہ خیبر پختونخوا سے تحریک انصاف کی حکومت کا خاتمہ تھا۔

​خیبر پختونخوا دراصل تحریک انصاف کی آخری پناہ گاہ تھی۔ پورے ملک میں جس کسی کو بھی کوئی سیاسی یا قانونی مسئلہ درپیش ہوتا، وہ کے پی حکومت کے چھتر چھاؤں میں چلا جاتا تھا۔ پنجاب کے کئی روپوش رہنما خیبر پختونخوا کے حکومتی عہدیداروں کی پناہ میں مقیم تھے، جن کی جان کو اب لالے پڑے ہوئے ہیں۔

​وفاقی حکومت نے ۹ مئی کے واقعات کے بعد پنجاب میں تحریک انصاف کو مکمل طور پر قابو کر لیا تھا، جس کے بعد اب پورے پنجاب میں کوئی چوں چراں نہیں کرتا۔ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی پی ٹی آئی کو محدود کیا جا چکا ہے۔ سندھ میں صرف کراچی اور حیدرآباد کی حد تک ہی ان کے نام لیوا بچے تھے، جبکہ بلوچستان میں تمام سیاسی جماعتوں کا حال ایک جیسا ہے۔

​آ جا کر صرف خیبر پختونخوا کی حکومت ہی اقتدار کے ایوانوں میں کھٹکتی تھی۔ جتنے بھی موثر احتجاج ہوئے یا جتنی بار بھی اسلام آباد پر چڑھائی کی گئی، اس کا مرکز و محور خیبر پختونخوا ہی تھا۔ اسی لیے تحریک انصاف کا زور توڑنے، اسے دبانے یا مکمل ختم کرنے کے لیے کے پی حکومت کا خاتمہ ناگزیر سمجھا جا رہا تھا۔

“​سیاسی دامِ ہم رنگِ زمین”
​اس تمام کھیل میں تحریک انصاف کی مقامی قیادت یا تو کسی ‘ٹریپ’ کا شکار ہوئی ہے یا پھر سادہ لوحی میں ماری گئی ہے۔ مقتدرہ سے تعلق کا دعویٰ کرنے والے کچھ افراد پسِ پردہ رابطوں میں تھے، جنہوں نے عمران خان کو ریلیف ملنے کا تاثر دیا۔ انہوں نے وفاقی حکومت سے صوبائی امور پر ناراضی ظاہر کی اور عدالت کے ذریعے عمران خان سے ملاقاتیں بحال کروانے اور الشفاء ہسپتال منتقلی کا ریلیف دلوا کر یہ تاثر قائم کیا کہ اگر تحریک انصاف نئے صوبوں کے قیام اور دیگر مطالبات پر ان کی بات مان لے، تو مزید ریلیف ممکن ہے۔

​اس جھانسے سے تحریک انصاف کی قیادت تقسیم ہو گئی۔ موجودہ لانگ مارچ بانی پی ٹی آئی کے براہِ راست حکم پر شروع نہیں ہوا تھا، البتہ بانی پی ٹی آئی کی ناراضی سہیل آفریدی تک ضرور پہنچائی گئی تھی کہ وہ حکومت پر درکار دباؤ بڑھانے میں ناکام رہے ہیں۔

​ایک طرف انہیں یہ یقین دہانی کرائی گئی کہ وفاقی حکومت بانی پی ٹی آئی سے متعلق عدالتی احکامات کی راہ میں رکاوٹ ہے، دوسری طرف یہ تاثر دیا گیا کہ مقتدرہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی سے بدظن ہو چکی ہے، اور تیسرا تاثر یہ تھا کہ اگر ایک موثر احتجاج کیا جائے تو نہ صرف عمران خان کو ریلیف ملے گا بلکہ وفاقی حکومت کی چھٹی بھی ہو سکتی ہے۔ یوں تحریک انصاف سے ایک بار پھر ۹ مئی جیسی غلطی کروا کر ایمرجنسی اور گورنر راج کی راہ ہموار کی گئی۔

“​مستقل بندوبست اور آئندہ کا منظرنامہ”
​اب صورتحال یہ ہے کہ تحریک انصاف کو آکسیجن فراہم کرنے والا سلنڈر چھین لیا گیا ہے۔ یہ دو چار دنوں یا چند مہینوں کی بات نہیں، بلکہ جب تک تحریک انصاف کو مکمل طور پر ‘پٹاری میں بند’ نہیں کر دیا جاتا، ایمرجنسی اور گورنر راج برقرار رہے گا۔ وزیر داخلہ بجا کہتے تھے کہ اب تحریک انصاف کا ‘مستقل بندوبست’ کر لیا گیا ہے۔

​تحریک انصاف پر اس وقت شدید کڑا وقت ہے۔ پارٹی اب کسی احتجاج کو بھول جائے، کیونکہ اگلا مرحلہ مکمل خاموشی کا ہے۔ اب جو بولے گا، دھر لیا جائے گا۔

​خیبر پختونخوا میں نئی انتظامی اصلاحات نافذ کی جا رہی ہیں۔ تمام ڈویژنز اور اضلاع کی سطح پر انتظامی و پولیس افسران تبدیل کر دیے گئے ہیں۔ فی الحال تعلیمی ادارے بند ہیں اور رابطے کا نظام مفلوج رکھنے کیلئے انٹرنیٹ و موبائل سروس معطل ہے۔ بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کیلئےکریک ڈاؤن جاری ہے، صوبے میں فوج طلب کر لی گئی ہے اور بیشتر اضلاع میں دفعہ 144 نافذ ہے۔ یہ سخت اقدامات واضح کرتے ہیں کہ پی ٹی آئی کی مکمل رخصتی کے منصوبے پر عمل درآمد جاری ہے۔

​اب یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ تحریک انصاف اس جبر کے سامنے مکمل خاموشی اختیار کرتی ہے یا پھر کسی موثر احتجاج کو جاری رکھنے میں کامیاب ہوتی ہے۔ فی الحال، تحریک انصاف نے گورنر راج اور ایمرجنسی کے اس نفاذ کیخلاف عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔