جنگوں میں جینا ہو گا

ہمسائےمیں آگ لگی ہو تو تپش تو آپ کو بھی متاثر کرے گی لیکن مڈل ایسٹ کی جنگ نے تو ہلا کر رکھ دیا ہے درجنوں ملک نہ چاہتے ہوئے بھی آگ کی بھٹی میں جل رہے ہیں امریکی اور اسرائیلی خواہشات نے دنیا کو جہنم بنا رکھا ہے دنیا افراتفری کا شکار ہے ہر گزرتے وقت کے ساتھ غیر یقینی بڑھتی جا رہی ہے حالات طوفانی بارشوں جیسا رخ اختیار کر چکے ہیں جو تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہے دس روز سے امریکہ ایران پر مسلسل بمباری کر رہا ہے بات اب فوجی اہداف سے کہیں آگے جا چکی ہے امریکہ ایران کا انفراسٹرکچر کو تباہ کرکے ایرانی قوم کو مفلوج کرنا چاہ رہا ہے اب پتہ چل رہا ہے کہ امریکہ مختلف حربوں کے ذریعے ایران کو نفسیاتی طور پر توڑنا چاہ رہا تھا مذاکرات تو ایک ڈھونگ تھے اصل ٹارگٹ تو ایران کی مکمل تباہی اور خطے پر مکمل امریکی کنٹرول ہے امریکہ خطے میں بیٹھ کر ایشیاء مڈل ایسٹ اور یورپ کی معیشتوں کو کنٹرول کرنا چاہتا ہے ایران پر حملے کسی نیوکلیئر ویپنز کے خاتمے کیلئےنہیں بلکہ یہ گریٹ گیم ہے یہ اکنامک وار فیر ہے محسوس ہو رہا ہے کہ امریکہ لمبے عرصے تک ایران کی ناکہ بندی جاری رکھنے کا فیصلہ کر چکا ہے تاکہ اقتصادی طور پر چین سمیت خطے کے دیگر ممالک کو دباو میں رکھا جائے مڈل ایسٹ کے ممالک کو اقتصادی لحاظ سے مفلوج کر دیا جائے اور پھر ریسکیو کے چکروں میں خطے کے تمام ممالک پر اجارہ داری قائم کر دی جائے کل کو کیا ہو جائے کچھ کہا نہیں جا سکتا لیکن فی الحال امریکہ کے تیور اچھے نہیں لگتے وہ ایران میں قحط کی صورتحال پیدا کرکے ایرانی قوم کو ذہنی طور پر قیادت سے متنفر کرنے کی کوششوں میں ہے تاحال تو ایرانی قوم ثابت قدم ہے آگے چل کر پتہ چلے گا کہ ایرانیوں کے رویے کیا رخ اختیار کرتے ہیں لیکن ایک بات واضح ہے کہ اب خطے کے لوگوں کو جنگوں میں ہی جینا ہو گا جس طرح کرونا کے دنوں میں احتیاطی تدابیر کے ساتھ زندگی کو رواں رکھا گیا تھا اب جنگی حالات میں بھی کاروبار زندگی کو رواں رکھنا ہو گا یہ سال تو اسی طرح گزرتا دکھائی دے رہا ہے البتہ 2027 میں بہتری کے اثرات نمودار ہونا شرور ہو جائیں گے ظالموں نے ایسی چال چلی ہے کہ مسلمانوں کو بارود سے مارنے کے ساتھ ساتھ معاشی اور اخلاقی طور پر بھی تباہ کیا جا رہا ہے اور ہم تباہی کا سامان بننے کے ساتھ ساتھ اپنی بربادی کیلئےسہولت کاری بھی کر رہے ہیں عالم اسلام کو اس گرداب سے نکلنے کیلئے ایک ہونا ہو گا ورنہ پھر دیکھو اور انتظار کرو جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو پاکستان نے اپنی حیثیت سے بڑھ کر کردار ادا کیا ہے اور کر رہا ہے پاکستان نے ہرممکن کوشش کی ہے کہ معاملات کو مذاکرات کے ذریعے نمٹایا جائے لیکن اب گیم کسی اور طرف نکل گئی ہے لیکن اس جنگ نے ہمارا کچومر نکال دیا ہے پاکستان کے معاشی حالات پہلے ہی سنبھلنے کا نام نہیں لے رہے تھے اوپر سے امریکہ ایران جنگ کے اثرات نے تو سوا ستیا ناس کرکے رکھ دیا ہے اب تو جان کے لالے پڑنے شروع ہو گئے ہیں اب تو روٹی بھی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہے گندم کی قیمتوں میں اضافے اور مہنگی توانائی کے باعث روٹی کی قیمت میں 9روپے اور نان کی قیمت میں 10 روپے کا اضافہ ہو گیا ہے اگر ایک گھر کے 5یا 6افراد ہیں تو اسے صرف تین وقت کی روٹی کیلئےایک ہزار روپے درکار ہیں سالن بنانے کے اخراجات علحیدہ ہیں زندگی گزارنے کے دیگر لوازمات علحیدہ ہیں اب لاکھ ڈیڑھ لاکھ سے صرف زندگی رینگ رہی ہے لیکن یہاں تو 20،30 ہزار روپے کمانا بھی مشکل ہو رہا ہے آپ خود اندازہ لگائیں کہ عام آدمی کا زندہ رہنا ناممکن ہو رہا ہے یہی وجہ ہے کہ خودکشیاں بڑھ رہی ہیں معمولی معمولی باتوں پر قتل ہو رہے بچے والدین کو مار رہے ہیں والدین بچوں کو مار رہے ہیں خانکی مسائل بڑھ رہے ایسے نہیں کہا گیا کہ بھوک تو کفر تک لے جاتی ہے مہنگے فیول کی وجہ سے ٹرانسپورٹرز نے کرایوں میں 15 فیصد اضافہ کر دیا ہے اور حکومت نے مہنگائی کو بےلگام کرتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین روزانہ کی بنیاد پر کرنے کا فیصلہ کیا ہے مطلب یہ کہ افراتفری اور غیر یقینی میں اور اضافہ کیا جا رہا ہے ایسے حالات میں جب جینا مشکل ہو رہا ہو ایسے حالات میں نارمل زندگی نہیں گزاری جا سکتی اس لیے قوم کو اندھیرے میں نہ رکھا جائے قوم کو اعتماد میں لیا جائے اور آگے بڑھنے کے لیے روڈ میپ دیا جائے تاکہ انھیں کم از یہ احساس ہو کہ ان کے بارے میں سوچا جا رہا ہے یہ وقت قومی ڈائیلاگ کا ہے اور مل کر حالات کا مقابلہ کرنے کا ہے لیکن ہمارے اختلافات ہیں کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے اس وقت جبکہ قومی یکجہتی کی ضرورت ہے ہم نت نئے اختلافات اور لڑائیاں پیدا کر رہے ہیں شاید ہمیں ادراک نہیں کہ کیا ہو رہا ہے اور کیا کچھ ہونے جا رہا ہے