حنا جاوید قتل کیس، ڈی این اے رپورٹ تحقیقاتی کمیٹی کو موصول، اہلخانہ کے تحفظات

راولپنڈی (نمائندہ خصوصی) حنا جاوید قتل کیس کی تحقیقات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے، مقتولہ کی ڈی این اے رپورٹ تفتیشی ٹیم کو موصول ہوگئی ہے، جبکہ پنجاب حکومت کی تشکیل کردہ اعلیٰ سطح کی تحقیقاتی کمیٹی نے رپورٹ کا جائزہ لے لیا ہے۔

ذرائع کے مطابق تحقیقاتی کمیٹی نے پولیس لائن ہیڈکوارٹر میں مقتولہ کے اہلخانہ سے ملاقات کی، جس میں ایڈیشنل آئی جی سی سی ڈی سہیل ظفر چٹھہ اور ایس ایس پی انویسٹیگیشن سیف اللہ شریک ہوئے۔

مقتولہ کے بھائی فہد جاوید، ان کے وکیل شاہ خاور اور اہلخانہ کے دیگر افراد نے کمیٹی سے ملاقات کے دوران اپنے تحفظات پیش کیے۔ کمیٹی نے اہلخانہ کو غیر جانبدار اور شفاف تحقیقات کی یقین دہانی کرائی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کیس میں دیگر فرانزک رپورٹس کا بھی انتظار ہے۔ یہ رپورٹس موصول ہونے کے بعد تفتیش مکمل کرکے چالان عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ تفتیشی ٹیم میں ہومیسائیڈ انویسٹیگیشن یونٹ کے انسپکٹر افتخار کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

تحقیقاتی کمیٹی نے جائے وقوعہ کا دورہ بھی کیا اور ڈی این اے رپورٹ سمیت دستیاب شواہد کا جائزہ لیا۔ کیس کے تمام پہلوؤں کی ازسرنو جانچ کی جا رہی ہے۔

حنا جاوید کو اگست میں راولپنڈی کے علاقے لال کرتی میں واقع گھر میں تشدد کے بعد قتل کیا گیا تھا۔ ان کے قتل کا مقدمہ تھانہ سول لائنز میں درج ہے۔ کیس میں ان کے شوہر فیصل اصغر اور گھریلو ملازم ذیشان ارشد کو گرفتار کیا گیا تھا۔ دونوں ملزمان پر عائد الزامات کا فیصلہ عدالت میں ہونا ہے۔