لندن (رائٹرز) راچڈیل گرومنگ گینگ کے سرغنہ شبیر احمد کی ملک بدری کے معاملے پر برطانیہ اور پاکستان کے درمیان سفارتی کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔ برطانوی ہوم سیکریٹری یوویٹ کوپر نے اشارہ دیا ہے کہ اگر پاکستان نے شبیر احمد کو واپس لینے سے انکار کیا تو اسلام آباد کے خلاف ویزا پابندیوں سمیت مختلف اقدامات پر غور کیا جا سکتا ہے۔
پارلیمنٹ کی خارجہ امور کمیٹی کے سامنے گفتگو کرتے ہوئے یوویٹ کوپر نے کہا کہ برطانوی حکومت شبیر احمد کو ملک بدر کرنے کے لیے تمام ممکنہ قانونی اور سفارتی آپشنز پر غور کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو، نمیبیا اور انگولا پر ویزا پابندیاں عائد کر کے انہیں اپنے شہری واپس لینے پر آمادہ کیا گیا تھا، اور اگر ضرورت پڑی تو اسی نوعیت کے اقدامات پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔
ہوم سیکریٹری نے کہا کہ شبیر احمد کو برطانیہ میں رہنے کا کوئی حق نہیں، اور اس معاملے پر پاکستان کے ساتھ رابطہ کیا جا چکا ہے، جو آئندہ بھی جاری رہے گا۔
دوسری جانب پاکستان کے دفتر خارجہ نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ شبیر احمد کا معاملہ برطانیہ کا اندرونی قانونی معاملہ ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق حکومتِ پاکستان کا شبیر احمد کی رہائی یا برطانیہ میں اس کے ساتھ ہونے والے قانونی سلوک سے کوئی تعلق نہیں، اور اس حوالے سے پاکستان کا مؤقف پہلے ہی برطانوی حکام کو آگاہ کیا جا چکا ہے۔

