میں نے ہمیشہ سی سی ڈی کی مخالفت کی ہے کہ ملزمان کا ماورائے عدالت قتل کیا جاتا ہے، نہ ملزمان کو صفائی کا موقع ملتا ہے ، نہ عدالت جانے کا اور نہ ہی اپنے اوپر لگے الزام کو غلط ثابت کرنے کا۔ لیکن جب عدلیہ کی طرف سے سانحہ بلدیہ ٹاﺅن جیسے واقعات میں ملزمان کی بریت دیکھتا ہوں،،، اور دیکھتا ہوں کہ ملزمان کے بااثر ہونے کی وجہ سے اُن کیخلاف گواہی دینے کوئی نہیں آیا،،، اور دیکھتا ہوں کہ کیس کا تفتیشی افسر یا تو مارا گیا ہے یا اُس نے ملزمان کے خوف سے کیس سے دستبرداری کا اعلان کر دیا ہے،،، اور دیکھتا ہوں کہ سرکاری وکلاءاور ججز کیس لینے سے انکاری ہو تے ہیں یا کیس کا دباﺅ برداشت نہیں کر پاتے ،،، اور دیکھتا ہوں کہ ایک کورٹ کی سزا دوسری کورٹ میں کالعدم قرار دے دی جاتی ہے،،، اور دیکھتا ہوں کہ ملزمان کا تعلق سیاسی لوگوں کے ساتھ خاصا گہرا ہونے کی وجہ سے اُنہیں ریلیف مل رہا ہے تو یقین مانیں کہ میرے دل میں سی سی ڈی کی قدر بڑھ جاتی ہے،،، کہ یہ طریقہ ٹھیک ہے،،، کہ اگر ”اصل“ ملزمان گرفتار کر لیے جائیں تو اُنہیں موجودہ حالات کے مطابق ”پار“ کرنا ہی مناسب عمل ہے،،، ورنہ ہمارا سسٹم اس قابل نہیں کہ طاقتور ملزمان کا ٹرائل ان کورٹس میں چلایا جائے۔
خیر بات ہو رہی تھی سانحہ بلدیہ ٹاﺅن کے ملزمان کی سپریم کورٹ سے بریت کی تو آگے چلنے سے اس مشہور زمانہ ”بھتہ کیس “کے بارے میں بتاتا چلوں کہ سانحہ بلدیہ ٹاؤن 11 ستمبر 2012 کو کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاو¿ن میں واقع علی انٹرپرائزز نامی گارمنٹس فیکٹری میں پیش آیا تھا۔ اس ہولناک آتشزدگی میں 250 سے زائد مزدور جاں بحق ہوئے، جبکہ بعض سرکاری و عدالتی ریکارڈز میں ہلاکتوں کی تعداد 259 سے 289 کے درمیان بتائی گئی ہے۔ یہ پاکستان کی تاریخ کے بدترین صنعتی حادثات میں شمار ہوتا ہے۔اس سانحے میں بڑی تعداد میں مزدور فیکٹری کے اندر پھنس گئے کیونکہ کئی ایمرجنسی راستے بند تھے، کھڑکیوں پر لوہے کی جالیاں لگی ہوئی تھیں اور حفاظتی انتظامات ناکافی تھے۔ بعد میں مختلف تحقیقات، جے آئی ٹی رپورٹس اور عدالتی کارروائیوں میں اس واقعے کے اسباب پر تفصیلی بحث ہوئی۔بعد ازاں تفتیش ہوئی تو پتہ چلا کہ اس فیکٹری کو اس لیے جلا دیا گیا تھا کہ فیکٹری مالکان مخصوص کے درندوں کو بھتہ نہیں دیتے تھے،،، اس حوالے سے دو مرکزی ملزمان عبدالرحمان عرف بھولا اور محمد زبیر عرف چریا کی نشاندہی ہوئی،،، دونوں کو انٹرپول کی مدد سے وفاقی تفتیشی ادارے (ایف آئی اے) نے بینکاک سے گرفتار کیا تھا جبکہ محمد زبیرعرف چریا کو سعودی عرب سے گرفتار کیا گیا تھا۔ اور واقعے کے آٹھ برس بعد 2020 میں کراچی کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے اس کیس میں نامزد مرکزی ملزمان زبیر چریا اور عبدالرحمان عرف بھولا کو سزائے موت جبکہ چار دیگر سہولت کاروں کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ بعدازاں سندھ ہائی کورٹ نے بھی اس فیصلے کو برقرار رکھا تھا،،، پھر یہ کیس سپریم کورٹ تک پہنچا جہاں ملزمان کی اپیلیں منظور کرتے ہوئے ان کی سزائیں کالعدم قرار دے دی گئیں اور انھیں اس کیس سے بری کر دیاگیا۔
حالانکہ عدالت عالیہ اور انسدادِ دہشت گردی عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا تھا کہ فیکڑی میں آگ لگی نہیں بلکہ لگائی گئی تھی ،،،لیکن سب کچھ بدل گیا اور ملزمان کو اس کیس سے ایسے نکالا گیا جیسے جو لوگ وہاں پر مرے تھے،،، اُنہوں نے خود کو خود ہی آگ لگا دی تھی،،،مطلب! آخر ، اُن کو کسی نے تو مارا ہوگا؟ اگر مذکورہ ملزمان پاک صاف ہیں تو پھر آخر کوئی تو ہوگا جس نے ان کے ساتھ ظلم عظیم کیا ہے؟ اور پھر پاکستان میں یہ کوئی نیا واقعہ نہیں ہے جس میں تمام ملزمان بری ہوچکے ہیں،،، بلکہ اس سے پہلے سانحہ ماڈل ٹاؤن، سانحہ ساہیوال جیسے واقعات سب ہمارے سامنے ہیں،،، پھر مشہورز مانہ شاہ زیب قتل کیس میں طاقتور خاندان نے اپنے سپوت شاہ رخ خان جتوئی اور دیگر ملزمان کو باعزت بری کر والیا ۔آپ اس کیس کو بھی چھوڑیں، ناظم جوکھیو کیس کو ہی دیکھ لیں، جس میں ناظم جوکھیو کو ممبران اسمبلی جام اویس اور جام عبدالکریم نے مبینہ طور پر قتل کیا، مگر دیت کا قانون سامنے آیا اور معاملات لے دے کے ساتھ ختم ہوگئے اور ملزمان باعزت بری ہوگئے۔ پھر کوئٹہ میں مجید اچکزئی کیس کا تو سب کو علم ہوگا، اگر نہیں یا د تو میں بتاتا چلوں کہ20جون 2017کو موصوف نشے میں دھت گاڑی چلا رہے تھے، اسی اثنا میں ٹریفک پولیس انسپیکٹر عطا اللہ کو روند ڈالا، عبدالمجید اچکزئی اُس وقت بلوچستان کی اسمبلی کے رکن اور اس وقت پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین تھے ، مقدمہ چلا لیکن 4 ستمبر کو بلوچستان کی ماڈل کورٹ نے عبدالمجید خان اچکزئی کو عدم ثبوت پربری کر دیا۔یقین مانیں مجھے اُس وقت اتنی حیرت ہوئی اور بے اختیار ہنسی بھی آئی کہ کیا اب ہمارے ملک میں ایسا بھی ہوگا۔ قاتل اپنے کیے پر شرمندہ بھی نہیں ہوگا، معافی بھی نہیں مانگے گا، دیت کی رقم بھی نہیں دے،،، اور تب بھی وہ بری ہو جائے گا۔
خیر چھوڑیں جیسا کہ میں نے اوپر ذکر کیا کہ سانحہ ساہیوال کو کون بھلا سکتا ہے؟ اس واقعے نے سب کو جھنجوڑ کر رکھ دیا تھا، اُس کے بھی تمام ملزمان کو بری کر دیا گیا۔ اس کیس کے ملزمان کو بھی شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کیا گیا۔ اور حد تو یہ ہے کہ جس پولیس آفیسر پر سانحہ ساہیوال پر ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ،اسی کو ہم نے گزشتہ 23مارچ کو تمغہ شجاعت سے بھی نواز دیا۔ پھر سانحہ ماڈل ٹاﺅن سے کون واقف نہیں اُس کے بھی تمام ملزمان کو اعلیٰ عہدوں پر تعینات کر دیا گیا۔ پھر اسامہ ستی کیس میں بھی کسی ملزم کو ابھی تک سزا نہیں دی گئی ، حد تو یہ ہے کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے شرجیل میمن کے کمرے سے جب وہ دوران قید ہسپتال داخل تھے، شراب کی بوتلیں پکڑیں تو کچھ ہی دیر بعد وہ شہد کی بوتلوں میں تبدیل ہوگئیں! پھر راؤ انوار کو آج تک کون بھولا ہے جس نے 4سو سے زائد افراد کو جعلی پولیس مقابلوں میں مارا مگر وہ آج بھی شایان شان گھوم پھر رہا ہے۔
مطلب! جب یہ سب کچھ ”بریت “ پر ہی ختم ہونا ہے تو ریاست خود ہی ایک ایسا ادارہ بنا دے جس کا نام ”بریت اتھارٹی “ رکھ دے۔ جس میں ہر قتل کا ملزم، ہر کرپٹ ملزم پیش ہو اور لے دے کر بری ہو جائے! ورنہ تو یقین مانیں جن طاقتوروں پر الزامات لگتے ہیں، ایسے لوگ تو ریاست کے ہی گلے پڑ جاتے ہیں۔ یعنی ریاست کو اُن کے تمام پروٹوکول کا خیال رکھنا پڑتا ہے، اُن کے اُٹھنے، بیٹھنے، سونے ، جاگنے کا دھیان رکھنا پڑتا ہے۔ نہیں یقین؟ تو آپ خود دیکھ لیں کہ چند ماہ قبل جب اسی کیس میں یعنی شاہزیب قتل کیس میں شاہ رخ خان جتوئی کو پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی تو اُس کے بعد ڈھائی سال تک ملزمان ایک نجی ہسپتال کو اپنا ”گھر“ بنا کر رہتے رہے اور لگژری لائف سٹائل کے ساتھ وہاں رہائش پذیر رہے۔ مطلب! یہ تو بالکل ایسے ہی ہوا جیسے بقول بہادر شاہ ظفر
ایک شاخ گل پہ بیٹھ کے بلبل ہے شادمان
کانٹے بچھا دیے ہیں دل لالہ زار میں
خیر واپس آتے ہیں سانحہ بلدیہ ٹاؤن پر تو جب یہ سانحہ ہوا تھا تو میں نے اُسی وقت کالم میں یہ بات کہہ دی تھی کہ ملزمان خاصے طاقتور ہیں،،، اس لیے اُن کا کچھ نہیں ہوگا،،، اور آج یہ بات 14سال بعد سچ ثابت ہو گئی ہے،،، لہٰذایہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ کیا یہ حیوانوں کا ملک ہے؟ کیا یہاں جنگل کا قانون ہے؟ یہاں تو یہ حال ہے کہ ابھی کچھ دن پہلے لاہور میں ایک مزدور فیکٹری میں کام کرتے ہوئے لوہا پگھلانے والے ڈرم میں گر کر ہلاک ہوگیا۔گاﺅں سے آنے والے غمزدہ باپ کو اس کے جوان سال بیٹے کی میت کی جگہ جلی ہوئی ہڈیوں کی ایک چھوٹی سی گھٹری پکڑادی دی گئی۔ دوسرے ہاتھ میں اس کی جان کی قیمت دو لاکھ دے کر باپ سے کہلوا دیا گیا وہ فیکٹری مالکان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کروانا چاہتا۔ پھر ایک اور جگہ فیکٹری مالکان نے ظلم کی انتہا کر دی اور ایک ملازم کو کسی غفلت پر اُسی فیکٹری کے ملازمین کے ذریعے پاخانے کی جگہ پر ہوا بھر دی جس سے جواں سال ملازم کے پیٹ کی انتڑیاں پھٹ گئیں، اور وہ نیم مردہ حالت میں ہسپتال میں زندگی و موت کی کشمکش میں مبتلا ہے جبکہ اُس کے باپ کو فیکٹری مالکان نے 10ہزار روپے تھما دیے کہ خرچہ پانی رکھ لو! کیا ہم انسانوں کی دنیا میں رہتے ہیں؟ نہیں ناں! کیوں کہ اگر رہتے ہوتے تو ہم بھی اس ظلم کے خلاف آواز بلند کرتے کہ جہاں 20کروڑ روپے بھتہ نہ ملنے کی صورت میں 264مزدوروں کو موت کی نیند سلا دیا گیا۔
تصور کریں کہ سانحہ مہران ٹاﺅن میں17مزدور یا سانحہ بلدیہ ٹاؤن میں سینکڑوں مزدور یا اس طرح کے واقعات میں جاں بحق ہونے والے مزدور جب اس طرح کے واقعات کا شکار ہوتے ہوں گے تو اُن پر کیا گزرتی ہوگی؟ پل بھر کو سوچیں کہ وہ تو لمحاتی تکلیف سے گزر گئے، اللہ اُن کی اگلی منزلیں آسان کرے، مگر اُن کے خاندان کس اذیت سے گزرتے ہوںگے؟ کیا کبھی کسی نے یہ بات سوچی؟ کیا کسی نے اس طرف توجہ نہیں دلائی کہ سانحہ بلدیہ ٹاؤن آخر کسی نے تو کیا ہے، جہاں حادثے کے وقت تمام دروازے بند کر دیے گئے تھے۔ اور حیرت تو اس بات پر ہے کہ ریاست بھی اس ”بریت“ کے بعد حرکت میں نہیں آئی! پھر لوگ صحیح کہتے ہیں کہ اس ملک میں کونسی ریاست؟ کونسے ہیومن رائیٹس؟ کونسے بلڈنگ بائے لاز، کونسے لیبر قوانین؟ الغرض یہ معاملہ سنگین تشویش کا ہے کہ وطن عزیز میں مزدور کی جان کی کوئی وقعت نہیں ہے۔مزدوروں کی زندگی اتنی ارزاں ہے کہ درجنوں کی تعداد میں رک پلیس پر لگنے والی آگ میں جل کر خاکستر ہو جائیں تو بھی ذمہ داروں ملک کے کرتا دھرتاﺅں طویل اور مختصر پالیسیاں بنانے والے اعلی حکومتی عہدیداروں کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔
بہرکیف سوال یہ ہے کہ پھر ریاست کہاں ہے؟ ریاستی ادارے کہاں ہیں؟ حکومتی قائدین کہاں ہیں؟ کہاں ہیں صاحب اختیار لوگ؟ کیا یہ با اختیار لوگ کسی نئے سانحہ بلدیہ ٹاؤن کے انتظار میں ہیں؟ یا پھر اُنہیں اس مبینہ بھتے میں سے حصہ ملتا ہے، جس کے ناملنے سے پوری فیکٹری مزدوروں سمیت جلا دی جاتی ہے؟

