قومی خبر رساں ادارے نے اسلام آباد سے اپنی اس رپورٹ میں ایک عالم کو چونکا دیا ہے کہ گذشتہ تین برسوں کے دوران 18 لاکھ71ہزار سے زائد اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد پاکستان چھوڑ گئے۔اس حوالے سے قومی اسمبلی میں جو دستاویز پیش کی گئی ہیں ان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ برطانیہ سے اس عرصے کے دوران 10لاکھ 17ہزار اور امریکہ سے پانچ لاکھ سے زائد سیاحوں نے پاکستان کے مختلف مقامات کی سیر کی جبکہ روزگار کے لئے پاکستان سے بیرون ملک جانے والوں میں جو اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ چلے گئے اُن میں ڈاکٹرز، انجینئرز،ماہر تعلیم اور آئی ٹی پروفیشلنز شامل تھے قومی اسمبلی میں پیش کی گئی دستاویز کے مطابق سال 2024ء میں 45 ہزار 830 اعلیٰ تعلیم یافتہ پاکستانیوں کو ملک چھوڑ کر جانا پڑا جبکہ سال 2025ء میں 28ہزار726 ملک کے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کو بیرونی ممالک میں ملازمتیں نصیب ہوئیں،وجوہ کچھ بھی ہوں مگر ارضِ وطن سے ایسے اعلیٰ تعلیم یافتہ اور وہ بھی ملک کے انتہائی اہم ترین شعبوں کے تربیت یافتہ ماہرین فن کا ملک چھوڑ کر چلے جانا کسی صورت بھی نیک شگون قرار نہیں دیا جا سکتا۔ مختلف شعبوں کے ماہرین کو تیار کرنے میں قوم و ملک کا زرِ کثیر صرف ہوتا ہے وہ کوئی پوچھنے کی بات نہیں یقینا پاکستان ہی ایسا بدقسمت ملک ہے۔ جس کے نتیجے میں قوم اور ملک کے کثیر اخراجات سے تیار ہونے والے ماہرین ِ فنون کو بیرون ملک ملازمت کے لئے مجبور ہونا پڑتا ہے ارباب بست و کشاد کو قومی سرمایہ اس طرح قوم و ملک کے دائمی مفاد کی بجائے ترقی یافتہ ممالک کی خدمات کے لئے مخصوص کئے جانے کے معاملے پر پہلی فرصت میں غور کرنا ہو گا اور جن اعلیٰ تعلیم یافتہ ماہرین فن کی اپنے وطن میں اشد ضرورت ہے،اُنہیں یہاں کھپانے کا صدق دِل سے اہتمام کرنا ہو گا۔ ہمیں ملک و قوم کے معاملات کو صحیح نہج پر ڈالنے کی ضرورت ہے۔
قومی اور ملکی مسائل سے عہد برآء ہو نے کے معاملات پر اربابِ حل و عقصد کی سوچ و فکر کا عالم یہ ہے کہ وفاقی وزیر برائے توانائی اویس لغاری نے روسی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ روسی کمپنیاں پانی ذخیرہ کرنے اور بجلی پیدا کرنے میں مدد دیں۔خدا معلوم کس بنیاد اور کس برتے پر اربابِ اختیار کی طرف سے دیگر ممالک سے بجلی پیدا کرنے کے لئے مدد کے حصول کی اپیل کرنے کا حوصلہ کیا جا رہا ہے اس ملک کا بچہ بچہ اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے کہ ایوان اقتدار میں اربابِ اختیار سمیت وہاں کی غلام گردشوں تک راہ و رسم رکھنے والے بھی عوام کے خون پسینے کی کمائی سے بجلی کے بلوں کی جان لیوا مہنگائی کی بدولت انڈی پینڈنٹ پاورز کے مالکان کو کیپسٹی پیمنٹ کے نام نہاد حوالے سے ماہوار لاکھوں ڈالر ادا کرتے ہیں جو آئی پی پی چاہے ایک یونٹ بھی بجلی نہ بناتے ہوں۔
یہاں تو اونٹ رے اونٹ تیری کون سی کل سیدھی والا معاملہ ہے۔ وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ نے اسلام آباد میں ملائیشیا کے ہائی کمیشن میں منعقدہ ملائیشیا پاکستان بزنس آن پیمنٹ 2026ء تجارت سرمایہ کاری اور کاروباری روابط کا فروغ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ملائیشین سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی تمام سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔ بلاشبہ انہوں نے اپنی طرف سے اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانے اور دو طرفہ تجارت کے حجم میں اضافے اور سرمایہ کاری کے لئے نئے مواقع تلاش کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔درحقیقت یہ کوئی پہلا موقع یا اس قسم کی یقین دہانی نہیں ہے بلکہ جب سے موجودہ اربابِ اختیار صاحب اقتدار ہوئے ہیں اُن کی طرف سے اَن گنت ممالک سے پاکستان میں سرمایہ کاری کی بڑی فراخدلی سے دعوت دینے کا سلسلہ جای ہے مگر اس حقیقت کا اعتراف کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہے کہ سردست ابھی تک اس سلسلے میں کوئی موثر اور ملک کے لئے نفع بخش نتیجہ نہیں نکل سکا۔اربابِ بست و کشاد میں سے ایسی صاحبانِ ثروت کی کمی نہیں جو خود ملک میں سرمایہ کاری میں ایک دوسرے سے بڑھ کر حصہ لینے کی بھرپور استطاعت رکھنے کی طاقت سے بہرہ ور ہیں۔ بات صرف حوصلہ، عزم اور حبِ وطن و جذبے سے تعلق رکھتی ہے اور ایسا ہونے کی صورت میں پاکستان کے کسی بھی پرچم بردار کو کسی ملک کے آگے ہاتھ پھیلانے کی نوبت نہیں آئے گی بلکہ پاکستان خود دوسری قوموں کی مدد کرنے کے قابل ہو جائے گا۔

