سعودی حمایت یافتہ یمنی فورسز کا 30 حوثی جنگجوؤں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ

تعز (اناطولیہ نیوز، سعودی گزٹ، اے ایف پی) سعودی حمایت یافتہ یمنی فورسز نے دعویٰ کیا ہے کہ مغربی یمن کے صوبہ تعز کے ضلع الوازعیہ میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران جھڑپوں اور فضائی کارروائیوں میں انصار اللہ کے 30 جنگجو ہلاک اور 60 سے زائد زخمی ہوگئے۔

یمنی مسلح افواج کے میڈیا مرکز کے مطابق الوازعیہ کے مختلف محاذوں پر حوثیوں کے خلاف کارروائی کی گئی، جس میں ان کے جنگجوؤں، گاڑیوں اور اجتماع کے مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔ یمنی فوج کا کہنا ہے کہ حوثیوں کی کمک اور رسد کی لائنوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

یمنی فوج کے مطابق تعز اور بحیرہ احمر کے ساحلی شہر المخا کے اطراف حوثیوں کے ٹھکانوں اور کمک پر بھی فضائی حملے کیے گئے، جبکہ سرکاری فورسز نے حوثیوں کے متعدد حملے پسپا کرنے اور بعض علاقوں میں پیش قدمی کا دعویٰ کیا ہے۔

دوسری جانب حوثیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی جنگی طیاروں نے 24 گھنٹوں کے دوران یمن کے مختلف صوبوں میں 54 فضائی حملے کیے۔ حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع کے مطابق حملے تعز، لحج، الجوف، مآرب اور حجہ کے علاقوں میں کیے گئے۔ سعودی عرب نے حوثیوں کی جانب سے فضائی حملوں کی اس تعداد کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔

حوثیوں نے دعویٰ کیا کہ سعودی طیاروں نے تعز کے خادِر ضلع میں سرکاری کمپلیکس کو بھی نشانہ بنایا، جبکہ حوثی ذرائع ابلاغ نے تعز کے بعض علاقوں میں شہری ہلاکتوں اور زخمیوں کی اطلاعات دی ہیں۔ ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق نہیں ہوسکی۔

یمن میں حالیہ لڑائی کے دوران سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان براہ راست حملوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ حوثیوں نے سعودی عرب میں خمیس مشیط، ابہا اور طائف سمیت مختلف مقامات پر میزائل اور ڈرون حملوں کا دعویٰ کیا، جبکہ سعودی قیادت میں اتحاد نے کہا کہ حوثیوں کے حملوں سے 13 شہری زخمی ہوئے اور بعض مکانات و گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔

گزشتہ روز طائف میں سعودی سول ڈیفنس کے مطابق حوثیوں کے ایک ڈرون کو فضا میں تباہ کیے جانے کے بعد اس کا ملبہ گرنے سے ایک یمنی شہری جاں بحق جبکہ سعودی خاتون اور پاکستانی شہری زخمی ہوگئے۔ پاکستانی شہری کی حالت تشویش ناک بتائی گئی ہے۔

یمن میں جاری لڑائی نے انسانی بحران بھی سنگین کردیا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق رواں ماہ لڑائی کے نتیجے میں کم از کم ایک لاکھ 25 ہزار افراد بے گھر ہوچکے ہیں، جبکہ مغربی ساحلی علاقوں سے نقل مکانی کرنے والے ہزاروں افراد محفوظ مقامات کی تلاش میں ہیں۔ بین الاقوامی تنظیم برائے مہاجرت کے مطابق ستمبر کے آغاز سے مغربی ساحلی صوبوں میں 82 ہزار سے زائد افراد نقل مکانی کرچکے ہیں۔

حالیہ لڑائی میں حوثیوں نے یمن کے بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں میں اہم پیش قدمی کی ہے اور المخا سمیت بعض تزویراتی علاقوں اور جزیروں پر قبضے کا دعویٰ کیا ہے۔ باب المندب آبنائے کے قریب حوثیوں کی پیش قدمی نے عالمی بحری تجارت اور خلیجی تیل کی ترسیل کے حوالے سے بھی تشویش بڑھا دی ہے۔

رائٹرز کے مطابق باب المندب اور آبنائے ہرمز دونوں اہم بحری گزرگاہوں میں کشیدگی کے باعث عالمی توانائی اور تجارتی راستوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ جمعرات کو باب المندب سے 23 مال بردار اجناس بردار جہاز گزرے، جو گزشتہ 10 روز کی اوسط تعداد سے کچھ کم تھے۔

تازہ کشیدگی ایسے وقت میں بڑھی ہے جب سعودی عرب نے حوثیوں کے حملوں کا ’’مؤثر اور سخت‘‘ جواب دینے کا اعلان کیا ہے، جبکہ خطے میں پاکستان اور دیگر ممالک سے سفارتی رابطے بھی جاری ہیں۔ سعودی عرب کی جانب سے چین سے سفارتی کردار ادا کرنے کی درخواست کے بعد چین نے ایران پر حوثیوں کو سعودی عرب کے خلاف حملے روکنے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنے پر زور دیا ہے۔