سفید فام قوم پرست گروپ کینیڈا میں شدت پسندی کو معمول پر لانے کی کوشش کر رہا ہے:رپورٹ

ٹورنٹو (سی بی سی)سابق نیو نازی اور نفرت انگیزی کیخلاف سرگرم کارکن ٹونی مک ایلیر نے خبردار کیا ہے کہ سفید فام قوم پرست گروپ مقامی مسائل کو بنیاد بنا کر معاشرے میں اپنی ساکھ بنانے، انتہا پسند نظریات کو فروغ دینے اور نئے ارکان بھرتی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

وینکوور میں مقیم ٹونی مک ایلیر نے یہ بات ’سیکنڈ سنز کینیڈا‘ کی شمالی اونٹاریو میں حالیہ دو سرگرمیوں کے بعد سی بی سی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کوئی نیا طریقہ نہیں بلکہ انتہا پسند تنظیموں کی جانب سے خود کو قابلِ قبول اور باوقار ظاہر کرنے کی کئی دہائیوں پرانی حکمت عملی ہے۔

ٹونی مک ایلیر 1998 میں انتہا پسند تحریک چھوڑنے سے قبل تقریباً 15 سال تک سفید فام بالادستی اور نیو نازی گروپوں سے وابستہ رہے اور ’آریئن ریزسٹنس موومنٹ‘ کے منتظم کے طور پر کام کرتے رہے۔ انہوں نے اپنے تجربات پر 2019 میں کتاب ’دی کیور فار ہیٹ‘ بھی لکھی۔

’سیکنڈ سنز کینیڈا‘ اپنی ویب سائٹ پر خود کو ’کینیڈین مردوں کا قوم پرست کلب‘ قرار دیتا ہے، تاہم کینیڈین اینٹی ہیٹ نیٹ ورک کے مطابق یہ سفید فام مردوں کے لیے محدود رکنیت رکھنے والی تنظیم ہے، جس کے نظریات دیگر ممالک میں سرگرم عسکریت پسند سفید فام قوم پرست گروپوں سے متاثر ہیں۔

سیکنڈ سنز کینیڈا کو گزشتہ ماہ سڈبری میں منشیات کی زائد مقدار سے ہلاک ہونے والے افراد کی یاد میں قائم ’کراسز فار چینج‘ یادگار پر حاضری کے بعد منتخب نمائندوں کی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ گروپ اس سے قبل ہیلی فیکس اور نیاگرا ریجن سمیت دیگر علاقوں میں بھی سرگرمیاں کرچکا ہے۔

سڈبری میں گروپ کے ارکان نے یادگار کے مقام پر تقریباً دو میٹر بلند صلیب نصب کی اور سوشل میڈیا پوسٹس میں اوور ڈوز کے بحران کا الزام نئے آنے والے تارکین وطن پر عائد کیا۔ بعد ازاں گروپ کی جانب سے نصب کی گئی صلیب ہٹا دی گئی۔

گروپ کے ارکان کوچرین میں ہائی وے 11 پر حفاظتی خدشات سے متعلق ایک ریلی میں بھی شریک ہوئے تھے، جہاں انہوں نے اشتعال انگیز زبان پر مبنی ایک پوسٹر اٹھایا اور شاہراہوں پر ہونے والی اموات کا ذمہ دار حال ہی میں کینیڈا آنے والے ٹرک ڈرائیوروں کو قرار دیا۔

ٹونی مک ایلیر نے کہا کہ سفید فام بالادستی کی تنظیمیں ماضی میں بھی اسی طرح مقامی اور سماجی سرگرمیوں کو اپنی ساکھ بہتر بنانے کے لیے استعمال کرتی رہی ہیں۔ ان کے مطابق 1970ء اور 1980ء کی دہائی میں امریکا میں کو کلاکس کلان نے ’اڈاپٹ اے ہائی وے‘ پروگرام میں حصہ لیا تھا، جس کے ذریعے وہ شاہراہوں کے حصے صاف کرتے تھے، تاہم مقصد صرف صفائی نہیں بلکہ تنظیم کا نام اجاگر کرنا اور اسے معاشرے میں زیادہ قابلِ قبول ظاہر کرنا تھا۔

سی بی سی نیوز نے سیکنڈ سنز کینیڈا سے شمالی اونٹاریو میں اس کی سرگرمیوں کے حوالے سے متعدد مرتبہ مؤقف لینے کیلئے رابطہ کیا، تاہم گروپ کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

’یہ لوگ کوئی نئی بات نہیں کر رہے‘اونٹاریو ٹیک یونیورسٹی کے سینٹر آن ہیٹ، بائس اینڈ ایکسٹریمزم کے کوآرڈینیٹر بریڈ گالوے کے مطابق سیکنڈ سنز کی جانب سے ظاہر کیے جانے والے نظریات سفید فام بالادستی اور انتہائی دائیں بازو کی سوچ کے دائرے میں آتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گروپ کا بنیادی مؤقف امیگریشن اور اسے فینٹانائل کے بحران سے جوڑنے کے گرد گھومتا ہے، جبکہ ایسے ہی بیانیے امریکا میں بھی بڑے پیمانے پر سامنے آچکے ہیں۔گالوے نے کہا کہ سیکنڈ سنز کے ارکان مختلف مسائل کے حوالے سے مقامی آبادی میں موجود حقیقی خدشات کو نئے آنے والے تارکین وطن کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگرچہ ایسے گروپوں کے بعض ارکان محض اپنی موجودگی کا اظہار اور تشہیر کر رہے ہوتے ہیں، تاہم سفید فام بالادستی کی بعض سنجیدہ تنظیمیں تشدد کیلئےتربیت بھی حاصل کر رہی ہیں۔

’نوجوان مردوں میں تنہائی کا فائدہ اٹھایا جاتا ہے‘ٹونی مک ایلیر کے مطابق سیکنڈ سنز کینیڈا خود کو ایسے برادرانہ گروپ کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے جس میں جسمانی فٹنس اور باہمی رفاقت کو نمایاں کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ گروپ پہلے سے موجود مردانگی کے بحران کو ہدف بنا رہا ہے کیونکہ بہت سے نوجوان مرد خود کو تنہا اور بے سمت محسوس کرتے ہیں اور انہیں بظاہر ایک صحت مند سرگرمی اور تعلق کا احساس فراہم کیا جاتا ہے۔

مک ایلیر نے اپنے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انتہا پسند تحریک میں داخل ہونے کیلئےاکثر واضح نظریاتی انتہا پسندی بنیادی محرک نہیں ہوتی بلکہ تعلق، قبولیت اور طاقت کا احساس زیادہ اہم کردار ادا کرتا ہے۔ان کے مطابق انتہا پسند گروپ چھوڑنا ان میں شامل ہونے سے زیادہ مشکل ہوتا ہے کیونکہ نظریات وقت کے ساتھ رکن کی مکمل شناخت کا حصہ بن جاتے ہیں، جس میں دوست، موسیقی، کتابیں اور لباس تک شامل ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خاندان اکثر ایسے افراد کو صرف ان کے انتہا پسند نظریات پر بحث کے ذریعے قائل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، حالانکہ اصل مسئلہ غصے، عدم اطمینان اور خود سے نفرت کی ان وجوہات کو سمجھنا بھی ہوتا ہے جو دوسروں کے خلاف نفرت کی صورت میں سامنے آتی ہیں۔

گریٹر سڈبری پولیس سروس کے میجر کرائم یونٹ سے وابستہ جاسوس کانسٹیبل مارک بیلانجر نے کہا کہ توہین آمیز یا ناگوار اظہارِ رائے اور مجرمانہ کارروائی کے درمیان واضح فرق موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ سیکنڈ سنز کینیڈا بذاتِ خود غیر قانونی تنظیم نہیں اور اسی نوعیت کے دیگر گروپ بھی صرف اس بنیاد پر غیر قانونی قرار نہیں دیے جا سکتے کہ ان کے خیالات ناگوار ہیں۔

ان کے مطابق پولیس بنیادی طور پر یہ دیکھتی ہے کہ کسی گروپ کا پیغام کیا ہے اور آیا وہ کسی قابلِ شناخت کمیونٹی کے خلاف تشدد پر اکسانے یا تشدد کو فروغ دینے کی کوشش کر رہا ہے۔مارک بیلانجر نے کہا کہ شہریوں کو سیکنڈ سنز کو کسی فوری خطرے کے طور پر دیکھ کر گھبرانے کی ضرورت نہیں، تاہم پولیس گروپ کی سرگرمیوں سے آگاہ ہے اور اگر اس کی سرگرمیاں مجرمانہ نوعیت اختیار کرتی ہیں تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔