ٹورنٹو(نمائندہ خصوصی) انٹاریو کی سپیرئیر کورٹ آف جسٹس میں پاکستانی کینیڈین نسلی میڈیا سے متعلق مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں بیرسٹر ذوہیب الرحمان نے مدعی کی جانب سے دائر درخواست کی مخالفت میں کامیاب قانونی دلائل پیش کیے۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق ایک شخص نے ایک میڈیا ادارے، ایک فرد اور دیگر متعدد افراد و اداروں کے خلاف بھاری ہرجانے کے دعووں پر مشتمل مقدمہ دائر کیا تھا۔
عدالت میں سماعت کے دوران بیرسٹر ذوہیب الرحمان نے مؤقف اختیار کیا کہ مدعی مختلف شخصیات کے خلاف بار بار مقدمات دائر کرنے کا عادی ہے اور بعد ازاں سوشل میڈیا پر گمراہ کن انداز میں یہ تاثر دیتا ہے کہ اسے عدالت سے فیصلہ اپنے حق میں مل گیا ہے۔
سپیرئیر کورٹ آف جسٹس نے مدعی کو حکم دیا ہے کہ وہ مدعا علیہان کو ایک ہزار کینیڈین ڈالر بطور عدالتی اخراجات ادا کرے۔ عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ سابقہ عدالتی ہدایات پر عمل درآمد ہونے تک مقدمے کی کارروائی معطل (اسٹے) رہے گی۔
عدالتی دستاویزات اور سماعت کا ریکارڈ عدالتی ریکارڈ کا حصہ ہیں اور متعلقہ ٹرانسکرپٹس میں دستیاب ہیں۔قانونی حلقوں کی جانب سے عوام کو مشورہ دیا گیا ہے کہ عدالتی کارروائیوں سے متعلق سوشل میڈیا پر کیے جانے والے غیر مصدقہ دعوؤں پر یقین کرنے سے گریز کریں اور صرف مستند عدالتی ریکارڈ پر انحصار کریں۔

