سیاستدانوں، بیوروکریسی، ججوں اور میڈیا مالکان سب کا احتساب ہونا چاہیے: گورنر پنجاب

لاہور (این ایل آئی) گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے کہا ہے کہ ملک میں مہنگائی کے باعث عام آدمی مشکلات کا شکار ہے، نظام کی تبدیلی کی باتیں تو بہت کی جاتی ہیں لیکن جب چہرے وہی رہیں تو تبدیلی کیسے آئے گی؟ سیاستدانوں، بیوروکریسی، عدلیہ اور میڈیا سمیت تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد اور اداروں کا یکساں احتساب ہونا چاہیے۔ موجودہ ٹیکس نظام درست نہیں، تنخواہ دار طبقے کو نچوڑا جا رہا ہے جبکہ میڈیا ورکرز کو آج بھی تنخواہیں نہیں ملتیں۔

وہ لاہور پریس کلب میں معروف صحافی اور قلم کار ستار چوہدری کی چھ کتابوں کی تقریبِ رونمائی سے خطاب کر رہے تھے۔ تقریب سے لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری اور افضال طالب نے بھی خطاب کیا۔

گورنر پنجاب نے ستار چوہدری کو چھ کتابیں تحریر کرنے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ صحافیوں کے ساتھ ان کا بھائی چارے کا تعلق ہے۔ انہوں نے تقریب کے حوالے سے دلچسپ انداز میں کہا کہ انہیں بتایا گیا تھا کہ کتابوں کی تقریبِ رونمائی کیلئے آنے والے مہمان بھاگ گئے تھے، لیکن وہ اٹک سے لاہور آ کر نہیں بھاگے، اسلئے انہیں داد دینی چاہیے۔

ملک کے سیاسی اور معاشی حالات پر گفتگو کرتے ہوئے سردار سلیم حیدر خان نے کہا کہ پاکستان میں نظام کی بہتری کے لیے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔ 1973ء کا آئین ذوالفقار علی بھٹو نے دیا جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی اٹھارویں آئینی ترمیم لے کر آئی۔

انہوں نے ٹیکس نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جس کا نام ٹیکس کیلئے سامنے آ جائے، اسے نچوڑ لیا جاتا ہے۔ تنخواہ دار طبقے پر ٹیکسوں کا بوجھ مسلسل بڑھ رہا ہے اور ضروری اخراجات کے بعد اس کے پاس کچھ نہیں بچتا۔ ٹیکس نظام کو منصفانہ بنانے کی ضرورت ہے تاکہ صرف تنخواہ دار اور دستاویزی آمدن رکھنے والے افراد ہی سارا بوجھ برداشت نہ کریں۔

احتساب کے حوالے سے گورنر پنجاب نے کہا کہ سیاستدانوں کا احتساب عوام کے ساتھ ساتھ مختلف ادارے بھی کرتے ہیں، تاہم اس کا دائرہ تمام طاقتور طبقات تک بڑھایا جانا چاہیے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد بعض اعلیٰ افسران اور ان کے اہل خانہ بیرون ملک پُرتعیش زندگی کیسے گزارتے ہیں؟ اسی طرح ججوں کے ریٹائرمنٹ کے بعد بیرون ملک منتقل ہونے کے معاملات پر بھی سوالات اٹھنے چاہئیں۔

انہوں نے میڈیا مالکان کے احتساب کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ بھی پوچھا جانا چاہیے کہ میڈیا مالکان کے پاس اربوں روپے کہاں سے آئے، جبکہ دوسری جانب میڈیا ورکرز کو آج بھی تنخواہیں نہیں مل رہیں۔ احتساب کا عمل کسی ایک طبقے تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ سیاستدانوں، بیوروکریسی، عدلیہ اور میڈیا سمیت تمام شعبوں میں یکساں طور پر ہونا چاہیے۔

بیوروکریسی کے نظام پر بات کرتے ہوئے سردار سلیم حیدر خان نے کہا کہ سرکاری دفاتر میں فائل آگے بڑھوانے کے لیے بھی مشکلات اور رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ نظام میں ایسی اصلاحات ضروری ہیں جن سے عوام کو سرکاری امور کی انجام دہی میں آسانی ہو اور بدعنوانی کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔

دہشت گردی اور ملکی دفاع کے حوالے سے گورنر پنجاب نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتیں دہشت گردی کے خلاف مکمل طور پر متحد نہیں ہو سکیں، حالانکہ ملک کا امن اور استحکام مشترکہ قومی ذمہ داری ہے۔ پاکستان نے بے شمار قربانیوں اور شہادتوں کے بعد اپنا وجود برقرار رکھا ہے۔ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے باعث حالات خراب ہیں اور اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے قومی یکجہتی ضروری ہے۔

انہوں نے ملکی دفاعی صلاحیتوں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دفاعی محاذ پر پاکستان بہت آگے ہے اور معرکۂ حق میں بھارت کو بھرپور جواب دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملکی دفاع اللہ تعالیٰ کی رحمت اور سکیورٹی اداروں کی قربانیوں کا نتیجہ ہے۔

گورنر راج کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے سردار سلیم حیدر خان نے کہا کہ گورنر راج وزیراعظم کی سمری پر نافذ کیا گیا ہے اور یہ آئین کے مطابق اٹھایا جانے والا اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے کا سارا ملبہ پاکستان پیپلز پارٹی پر ڈالنے کے بجائے دیگر متعلقہ فریقوں کو بھی اپنے حصے کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔

تقریب کے اختتام پر ستار چوہدری کی ادبی و صحافتی خدمات کو سراہا گیا اور ان کی چھ کتابوں کی اشاعت کو علمی و ادبی حلقوں کیلئےاہم پیش رفت قرار دیا گیا۔