سیاسی شعور یا اندھی سیاسی عقیدت؟

سیاست میں اصول اگر صرف اپنے لئے ہوں تو وہ اصول نہیں، سیاسی مصلحت اور دوہرا معیار ہوتے ہیں۔

کیا سیاسی شعور صرف اس وقت بیدار ہوتا ہے جب ریاستی طاقت ہمارے خلاف استعمال ہو؟ کیا فوج کی سیاست میں مداخلت صرف اس وقت غلط ہوتی ہے جب اس کا نقصان ہماری پسندیدہ جماعت کو پہنچے؟ کیا سیاسی گرفتاری صرف اپنے رہنما کی ہو تو ظلم اور مخالف کی ہو تو قانون کی حکمرانی اور احتساب ہوتی ہے؟ اور کیا آزادیِ اظہار کا حق صرف اس آواز کو حاصل ہے جو ہماری تائید میں بلند ہو؟

اگر ان سوالوں کے جواب جماعت اور شخصیت کے ساتھ بدل جائیں تو پھر مسئلہ شعور کا نہیں، اندھی سیاسی عقیدت کا ہے۔

پاکستان کی تقریباً آٹھ دہائیوں کی سیاسی تاریخ کا شاید سب سے بڑا المیہ یہی دوہرا معیار ہے۔ یہاں جماعتیں اقتدار میں کچھ اور اصول اپناتی ہیں اور حزبِ اختلاف میں کچھ اور۔ جو ادارہ کل ان کے حق میں کھڑا ہو، اس کی حمایت قومی مفاد قرار پاتی ہے؛ وہی ادارہ جب مخالف سمت میں کھڑا ہو تو جمہوریت خطرے میں نظر آنے لگتی ہے۔ مخالف گرفتار ہو تو قانون اپنا راستہ لے رہا ہوتا ہے، اپنا رہنما گرفتار ہو تو سیاسی انتقام شروع ہوجاتا ہے۔

یہ رویہ صرف کسی ایک جماعت تک محدود نہیں۔ پاکستان کی تقریباً تمام چھوٹی بڑی سیاسی جماعتیں کسی نہ کسی دور میں اس تضاد کا شکار رہی ہیں۔ البتہ آج یہ سوال تحریک انصاف کے حوالے سے اس لیے زیادہ اہم ہے کہ اس جماعت کے سیاسی بیانیے کی بنیاد ہی “شعور اور تبدیلی” پر رکھی گئی۔

تحریک انصاف کے حامیوں، حتیٰ کہ زندگی کے کئی سیاسی ادوار دیکھنے والے عمر رسیدہ ووٹروں سے بھی جب پوچھا جائے کہ عمران خان کی سب سے بڑی سیاسی خدمت کیا ہے تو ایک جواب بار بار سننے کو ملتا ہے:

“عمران خان نے لوگوں کو شعور دیا۔”

پوچھا جائے کہ وہ شعور کیا ہے تو عموماً دو باتیں سامنے آتی ہیں: پہلی یہ کہ اپنے نمائندے منتخب کرنا عوام کا حق ہے، اور دوسری یہ کہ فوجی جرنیلوں یا کسی غیر منتخب ادارے کو سیاست میں مداخلت کا حق نہیں۔

دونوں باتیں بالکل درست ہیں۔ جمہوریت میں ایسا ہی ہونا چاہیے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ اصول 2022 کے بعد درست ہوئے، یا اس سے پہلے بھی اتنے ہی درست تھے؟

اگر فوجی مداخلت آج غلط ہے تو کل بھی غلط تھی۔ اگر عوامی مینڈیٹ آج مقدس ہے تو 2018 میں بھی مقدس تھا۔ اگر آج پارلیمان کے معاملات میں کسی غیر منتخب ادارے کی مداخلت ناقابلِ قبول ہے تو عمران خان کی حکومت کے زمانے میں بھی ناقابلِ قبول ہونی چاہیے تھی۔

پاکستان کی سیاست سے واقف ہر شخص جانتا ہے کہ تحریک انصاف کے عروج کے دوران جنرل شجاع پاشا، جنرل ظہیرالاسلام، جنرل قمر جاوید باجوہ، جنرل فیض حمید اور دیگر فوجی شخصیات کے سیاسی کردار کے حوالے سے مسلسل سوالات سامنے آتے رہے۔ متعدد واقعات، بیانات اور شواہد کی بنیاد پر تحریک انصاف اور اس وقت کی فوجی قیادت کے غیر معمولی قرب سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ خود تحریک انصاف کی حکومت اس تعلق کو فخر سے “ایک صفحے” پر ہونے سے تعبیر کرتی رہی۔

زیادہ اہم بات یہ ہے کہ عمران خان بعد میں خود تسلیم کرچکے ہیں کہ کمزور پارلیمانی اکثریت کی وجہ سے ان کا انحصار فوجی قیادت پر بڑھ گیا تھا اور فوجی اثرورسوخ بجٹ اور دوسرے بل منظور کرانے جیسے معاملات میں بھی حکومت کے کام آتا تھا۔

یہ اعتراف اپنے اندر ایک پورا سوال نامہ رکھتا ہے۔

اگر آج شعور یہ ہے کہ پارلیمان آزاد ہونی چاہیے تو اس وقت یہ سوال کیوں نہ اٹھا کہ ایک منتخب حکومت کو اپنا بجٹ منظور کرانے اور قانون سازی تک کیلئے فوجی اثرورسوخ کی ضرورت کیوں پڑ رہی ہے؟ اگر آج ارکانِ اسمبلی پر غیر منتخب قوتوں کا دباؤ جمہوریت کیخلاف ہے تو کل وہی دباؤ قابلِ قبول کیسے تھا؟

2019 میں چیئرمین سینیٹ کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک اس تضاد کی ایک نمایاں مثال تھی۔ قرارداد پیش کرنے کے مرحلے پر چونسٹھ ارکان اس کے حق میں کھڑے ہوئے۔ کامیابی کیلئے صرف ترپن ووٹ درکار تھے، لیکن چند گھنٹوں بعد خفیہ رائے شماری ہوئی تو قرارداد کے حق میں پچاس ووٹ نکلے اور پانچ ووٹ مسترد ہوگئے۔

اپوزیشن کی واضح اکثریت چند گھنٹوں میں شکست میں بدل گئی، جس پر عمران خان سمیت ان کی پوری جماعت نے خوشی کے شادیانے بجائے۔

اس وقت اپوزیشن کے امیدوار مرحوم حاصل بزنجو نے جنرل فیض حمید کے کردار کا سرِعام ذکر کیا۔ اگر آج ایسی کوئی مبینہ مداخلت جمہوریت کیخلاف ہے تو اس وقت تحریک انصاف کے حلقوں میں وہ تشویش کیوں دکھائی نہیں دی جو آج دکھائی دیتی ہے؟

یہی سیاسی شعور کا اصل امتحان ہے۔ اصول کی قدر اس وقت ثابت نہیں ہوتی جب اس سے فائدہ ہو؛ اصول کا امتحان تب ہوتا ہے جب اس پر قائم رہنے کی قیمت ادا کرنا پڑے۔

قانون کی حکمرانی کے معاملے میں بھی یہی سوال سامنے آتا ہے۔

آج تحریک انصاف کا بنیادی مطالبہ ہے کہ سیاسی مخالفین کو مقدمات، گرفتاریوں اور طویل حراست کے ذریعے دبایا نہ جائے۔ یہ مطالبہ درست ہے۔ سیاسی وابستگی کسی شہری کو بنیادی قانونی حقوق سے محروم نہیں کرتی۔ منصفانہ مقدمہ، بروقت ضمانت اور عزتِ نفس ہر شہری کا حق ہے۔

لیکن کیا یہی حق تحریک انصاف کے دورِ حکومت میں اس کے مخالفین کو بھی حاصل تھا؟

اس دور میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی سمیت حزبِ اختلاف کے متعدد مرد و خواتین رہنما گرفتار ہوئے۔ کئی طویل عرصے تک جیلوں میں رہے۔ احتسابی عمل کے سیاسی استعمال کے الزامات مسلسل سامنے آئے اور بعض مقدمات میں عدالتوں نے بھی احتسابی اداروں کے طریقۂ کار پر سخت سوالات اٹھائے۔

اگر آج کسی سیاسی رہنما کو مہینوں یا برسوں قید رکھنا، مقدمات پر مقدمات قائم کرنا اور ضمانت کے بعد کسی دوسرے مقدمے میں گرفتار کرنا ظلم ہے تو یہی اصول کل بھی درست تھا۔

شعور کا مطلب یہی ہے کہ انسان قانون صرف اپنے لئے نہیں، سب کیلئےچاہیے۔

ذرائع ابلاغ کا معاملہ بھی مختلف نہیں۔

آج تحریک انصاف آزادیِ اظہار، صحافیوں کے حقوق اور ذرائع ابلاغ پر پابندیوں کیخلاف آواز اٹھاتی ہے اور اسے ایسا کرنے کا پورا جمہوری حق حاصل ہے۔ مگر عمران خان کے دور میں بھی صحافتی اور انسانی حقوق کی تنظیمیں ذرائع ابلاغ پر دباؤ، نشریات میں رکاوٹ، صحافیوں کو ہراساں کیے جانے اور مخالف سیاسی آوازوں کو محدود کرنے پر مسلسل تحفظات ظاہر کرتی رہیں۔

اگر آج کسی سیاسی رہنما کی تقریر دکھانے سے روکنا غلط ہے تو کل بھی غلط تھا۔ اگر آج کسی صحافی کو تنقید کی قیمت ادا کرنا پڑے تو یہ آزادیِ اظہار پر حملہ ہے، تو کل بھی یہی تعریف ہونی چاہیے تھی۔

یہیں سیاسی شعور اور اندھی سیاسی عقیدت کے درمیان لکیر کھینچی جاسکتی ہے۔
سیاسی شعور کسی انسان کو معصوم عن الخطا سمجھنے کا نام نہیں۔
یہ نہیں ہوسکتا کہ میرا پسندیدہ رہنما جو کرے وہ درست اور وہی کام اس کا مخالف کرے تو ناقابلِ برداشت ہوجائے۔
یہ شعور نہیں کہ مخالفین گرفتار ہوں تو تالیاں بجائی جائیں اور اپنے لوگ گرفتار ہوں تو انسانی حقوق یاد آجائیں۔
یہ شعور نہیں کہ مخالف سیاست دانوں کے نام بگاڑنا، ان کی تضحیک کرنا، ان کے خاندانوں کو نشانہ بنانا، گالم گلوچ اور کردار کشی کرنا سیاسی جدوجہد سمجھا جائے۔
اور سیاسی شعور ہرگز یہ نہیں کہ اختلاف پہلے نفرت اور پھر تشدد میں تبدیل ہوجائے۔
سیاست سوچ، دلیل، برداشت اور سوجھ بوجھ کا نام ہے؛ اندھی تقلید کا نہیں۔
سیاسی کارکن اور اندھے سیاسی عقیدت مند میں بنیادی فرق یہی ہے کہ کارکن اپنے رہنما سے سوال کرسکتا ہے، جبکہ عقیدت مند ہر غلطی کا جواز تلاش کرتا ہے۔
باشعور شہری یہ نہیں پوچھتا کہ کام کس نے کیا ہے؛ وہ پوچھتا ہے کہ کام درست تھا یا غلط؟
فوج کی سیاسی مداخلت غلط ہے تو ہر جماعت کے خلاف غلط ہے۔
انتخابات میں مداخلت غلط ہے تو 2018 میں بھی غلط اور 2024 میں بھی۔
سیاسی انتقام غلط ہے تو اپنے مخالف کے خلاف بھی غلط اور اپنے رہنما کے خلاف بھی۔
ذرائع ابلاغ پر پابندی غلط ہے تو ہر حکومت میں غلط ہے۔
اور تشدد غلط ہے تو کسی جماعت کے جھنڈے تلے جائز نہیں ہوسکتا۔

لیکن اگر سب کو ماضی کی غلطیوں سے سیکھ کر آگے بڑھنا ہے تو پھر یہاں ایک دوسری حقیقت کو بھی اسی وضاحت سے تسلیم کرنا ضروری ہے۔تحریک انصاف کی ماضی کی غلطیاں آج اس کے ساتھ ہونے والی کسی ناانصافی کو جائز نہیں بناتیں۔

یہ کہنا کہ “انہوں نے ہمارے ساتھ بھی یہی کیا تھا، اب ان کے ساتھ ہونے دو” انصاف نہیں، انتقام ہے۔

2024 کے انتخابی عمل اور بعض نتائج کے بارے میں سنگین اعتراضات سامنے آئے۔ ان اعتراضات کا جواب ماضی کی غلطیوں کی فہرست نہیں ہوسکتی۔ اگر کسی امیدوار کا مینڈیٹ چھینا گیا ہو تو اس کا حق اسے ملنا چاہیے، خواہ اس کا تعلق کسی بھی جماعت سے ہو۔ اگر کسی بے گناہ کارکن کو صرف سیاسی وابستگی کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا ہو تو اسے رہا ہونا چاہیے۔ اگر کسی رہنما کے خلاف مقدمہ کمزور ہو تو اسے صرف اس لیے برقرار نہیں رہنا چاہیے کہ ماضی میں اس نے اپنے مخالفین کے ساتھ انصاف نہیں کیا تھا۔

قانون بدلہ لینے کا نام نہیں۔

یہی اصول مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور باقی تمام جماعتوں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ اگر وہ سمجھتی ہیں کہ 2018 میں ان کے ساتھ زیادتی ہوئی تھی، اسلئے آج تحریک انصاف کے ساتھ ہونے والی زیادتی جائز ہے، تو وہ بھی اسی غلطی کو دہرا رہی ہیں جس کا کل خود شکار تھیں۔پاکستان کا المیہ یہی چکر ہے۔

ایک جماعت مقتدر حلقوں کے قریب آتی ہے اور دوسری زیرِ عتاب چلی جاتی ہے۔ پھر وقت بدلتا ہے، کردار بدل جاتے ہیں۔ کل کا منظورِ نظر آج مزاحمت کی علامت بن جاتا ہے اور کل کا زیرِ عتاب آج اقتدار کے قریب آجاتا ہے۔چہرے بدلتے رہتے ہیں، نظام نہیں بدلتا۔

تحریک انصاف کے سامنے آج بھی سیاسی راستہ موجود ہے۔ اسے یہ طے کرنا ہوگا کہ اس کی اصل طاقت مسلسل محاذ آرائی میں ہے یا ایک بالغ، منظم اور جمہوری سیاسی جماعت بننے میں۔

ایک سیاسی جماعت کا راستہ پارلیمان، مذاکرات، دوسری جماعتوں سے مکالمے، تنظیم سازی اور سب سے بڑھ کر عوام کو حکمرانی کے نتائج دینے سے گزرتا ہے۔

خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کو طویل عرصے سے حکومت کا موقع حاصل ہے۔ وہاں اس کی سیاست کا معیار صرف اسلام آباد کیخلاف احتجاج نہیں ہوسکتا۔ عوام کو یہ پوچھنے کا حق ہے کہ امن کہاں ہے؟ تعلیم اور صحت میں کیا بہتری آئی؟ روزگار کے کتنے مواقع پیدا ہوئے؟ پولیس اور بلدیاتی نظام کتنا مضبوط ہوا؟ صوبے کی مالی حالت کیا ہے؟ اور عام شہری کی زندگی کتنی آسان ہوئی؟

حکومت میں رہ کر مسلسل حزبِ اختلاف کی نفسیات، جذباتی تقریروں، محاذ آرائی، سوشل میڈیا پر گالم گلوچ اور اداروں کے خلاف نفرت پھیلانے کے ساتھ سیاست نہیں کی جاسکتی۔

تحریک انصاف کو یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ پاکستان میں وہ اکیلی سیاسی حقیقت نہیں۔ مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی، جمعیت علمائے اسلام، جماعت اسلامی اور دوسری جماعتوں کے بھی لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں ووٹر ہیں۔ اختلاف کا مطلب یہ نہیں کہ دوسرے کے سیاسی وجود کو تسلیم کرنے سے ہی انکار کر دیا جائے۔

محاذ آرائی کے بجائے مذاکرات کرنا شکست نہیں ہوتی۔
مخالف کو برداشت کرنا کمزوری نہیں ہوتی۔
اور اپنی غلطی تسلیم کرنا ذلت نہیں ہوتی۔
یہی سیاسی پختگی ہے۔

دوسری طرف حکومت اور ریاستی اداروں کو بھی سمجھنا ہوگا کہ کسی مقبول سیاسی جماعت کو انتظامی طاقت، گرفتاریوں، مقدمات یا پابندیوں کے ذریعے مستقل طور پر ختم نہیں کیا جاسکتا۔ پاکستان کی تاریخ بھی اس کی گواہ ہے۔ سیاسی مسئلے کا پائیدار حل صرف سیاست سے نکلتا ہے۔

پاکستان کو اب ایسے سیاسی اتفاقِ رائے کی ضرورت ہے جس میں چند اصول ناقابلِ سودے بازی ہوں: عوام کے ووٹ کا احترام، غیر منتخب اداروں کی سیاست سے دوری، آزاد اور منصفانہ انتخابات، آزاد عدلیہ، آزاد ذرائع ابلاغ، بلاامتیاز احتساب، پرامن احتجاج کا حق اور سیاسی مخالف کے وجود کا احترام۔

یہ اصول کسی عمران خان، نواز شریف، آصف زرداری یا کسی جنرل کیلئے نہیں ہونے چاہئیں۔
یہ اصول پاکستان کیلئےہونے چاہئیں۔

ہمیں شخصیات سے وفاداری کے بجائے اصولوں سے وفاداری سیکھنا ہوگی۔ شخصیات آتی جاتی رہتی ہیں۔ جماعت آج اقتدار میں ہے تو کل حزبِ اختلاف میں ہوسکتی ہے، لیکن جو سیاسی روایت ہم آج قائم کریں گے وہ آنے والی نسلوں کو ورثے میں ملے گی۔

کسی قوم کو شعور دینے کا دعویٰ کرنا آسان ہے۔
اصل امتحان یہ ہے کہ کیا وہ شعور اپنے محبوب رہنما سے بھی سوال کرسکتا ہے؟
کیا وہ اپنے مخالف کے حق کے لیے بھی آواز اٹھا سکتا ہے؟
کیا وہ اپنی جماعت کی زیادتی کو بھی زیادتی کہہ سکتا ہے؟
اگر جواب ہاں ہے تو وہ سیاسی شعور ہے۔
اگر جواب یہ ہے کہ “ہمارا کرے تو درست، دوسرا کرے تو ظلم” تو اسے شعور نہیں، سیاسی عقیدت کہا جائے گا۔

اصل سیاسی شعور یہ نہیں کہ ہم ظلم کو اس وقت پہچانیں جب وہ ہمارے خلاف ہو؛ اصل سیاسی شعور یہ ہے کہ ہم اسے ظلم کہیں، خواہ وہ ہمارے بدترین سیاسی مخالف کے ساتھ ہی کیوں نہ ہو۔