طاہر اشرفی سے کینٹربری کا ایوارڈ واپس، لابی میرے خلاف سرگرم ہوگئی تھی: طاہر اشرفی

لندن (لامبیتھ پیلس، اے ایف پی، ایسوسی ایٹڈ پریس) آرچ بشپ آف کینٹربری کے دفتر نے پاکستان علما کونسل کے چیئرمین حافظ محمد طاہر محمود اشرفی کو دیا گیا بین المذاہب ہم آہنگی کا ایوارڈ واپس لے لیا۔

لامبیتھ پیلس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ حافظ طاہر اشرفی کو گزشتہ ہفتے ہیوبرٹ والٹر ایوارڈ برائے مفاہمت و بین المذاہب تعاون دیا گیا تھا، تاہم ان کے سابقہ بیانات سامنے آنے کے بعد ایوارڈ پر نظرثانی کی گئی اور اسے واپس لینے کا فیصلہ کیا گیا، اس فیصلے سے طاہر اشرفی کو آگاہ کردیا گیا ہے۔ لامبیتھ پیلس کے مطابق ایوارڈ پاکستان میں مذہبی اقلیتوں، خصوصاً مسیحی برادری کے لیے طاہر اشرفی کی طویل عرصے سے جاری حمایت کے اعتراف میں دیا گیا تھا۔

طاہر اشرفی کو یہ ایوارڈ 11 ستمبر کو لندن کے لامبیتھ پیلس میں آرچ بشپ آف کینٹربری سارہ ملی نے پیش کیا تھا۔ تقریب 11 ستمبر کے حملوں کی 25 ویں برسی کے موقع پر ہوئی تھی۔

ایوارڈ واپس لیے جانے کے بعد حافظ طاہر اشرفی نے کہا کہ ایوارڈ ملتے ہی بھارت، اسرائیل اور پاکستان میں موجود مخصوص لابی ان کے خلاف سرگرم ہوگئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے 2007 کے اسامہ بن لادن سے متعلق ریمارکس کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا جارہا ہے۔

حافظ طاہر اشرفی نے کہا کہ دو تین روز قبل انہیں آرچ بشپ کے دفتر کی جانب سے بتایا گیا کہ توہین ناموس رسالت کے قانون اور توہین مذہب کے قوانین کے حوالے سے ان کا موقف بہت سخت ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنا موقف تبدیل نہیں کرسکتے، تاہم توہین ناموس رسالت کے قانون کے غلط استعمال کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ان کا موقف واضح ہے کہ توہین ناموس رسالت کے قانون کا غلط استعمال نہیں ہونا چاہیے، تاہم ان کے بقول یہ قانون برقرار رہنا چاہیے کیونکہ اس قانون کی وجہ سے بہت سی جانیں محفوظ ہوئی ہیں۔

طاہر اشرفی نے بتایا کہ امن، بین المذاہب اور بین المسالک ہم آہنگی کے لیے ان کی کوششوں کے حوالے سے خود آرچ بشپ آف کینٹربری نے تقریباً دو ماہ قبل ان سے رابطہ کیا تھا اور انہیں بتایا تھا کہ انہیں لامبیتھ ایوارڈ کے لیے منتخب اور نامزد کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایوارڈ ملنے کے فوراً بعد ایک لابی ان کی اہلیہ اور بیٹی کے حجاب میں تقریب میں شرکت پر اعتراضات اٹھانے لگی، جس کے بعد ان کے پرانے بیانات کو بھی سامنے لایا گیا۔

2007 میں برطانوی حکومت کی جانب سے مصنف سلمان رشدی کو سر کا خطاب دیے جانے پر احتجاج کرتے ہوئے اس وقت پاکستان علما کونسل کے سربراہ طاہر اشرفی نے القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو ’’سیف اللہ‘‘ کا لقب دینے کا اعلان کیا تھا۔ سیف اللہ کے معنی ’’اللہ کی تلوار‘‘ ہیں۔

طاہر اشرفی کے ترجمان نے کہا کہ ان کے پرانے بیانات کا جائزہ لیتے ہوئے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف ان کی طویل عرصے سے جاری خدمات کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے۔ ترجمان نے کہا کہ 2007 کے ریمارکس سلمان رشدی کو برطانوی حکومت کی جانب سے سر کا خطاب دیے جانے کے تناظر میں تھے اور انہیں طاہر اشرفی کے مؤقف کی مکمل ترجمانی کے طور پر پیش نہیں کیا جانا چاہیے۔

طاہر اشرفی نے خودکشی کے حملوں کی حمایت سے متعلق الزامات کی بھی تردید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان علما کونسل نے ان کی سربراہی میں خودکش حملوں اور بے گناہ افراد کے قتل کے خلاف فتویٰ جاری کیا تھا اور اس کا ریکارڈ موجود ہے۔

ایوارڈ واپس لیے جانے کے بعد چرچ آف پاکستان کے آرچ بشپ ڈاکٹر آزاد مارشل نے بھی جمعرات کو طاہر اشرفی کو عالمی امن ایوارڈ پیش کیا۔

لامبیتھ پیلس نے اپنے بیان میں کہا کہ بین المذاہب مکالمے اور تعاون کا اصول مختلف اور گہرے اختلافات رکھنے والے لوگوں کے ساتھ رابطے میں رہنا ہے، تاہم طاہر اشرفی کے سابقہ بیانات سامنے آنے کے بعد ایوارڈ واپس لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔