عیدمیلادؐجلوس اور غیر شرعی حرکات!

محسن انسانیت، پیغمبر آخرالزمان، حضرت محمد مصطفی احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یوم ولادت آیا اور گذر گیا۔ اسلامیانِ پاکستان نے آمد مصطفی ؐ کی خوشی بھرپور طریقے سے منائی۔ گلیوں اور بازار سجائے گئے۔ سرکاری طور پر بھی سجاوٹ کی گئی اور یوں سارا ملک روشنیوں سے جگمگاتا رہا، لاہور میں بھی چراغاں ہوا، تاہم زیادہ زور تقسیم تبرک تھا، میں نے اپنے بچوں کے ساتھ شمال سے جنوب کی طرف سفر کیا۔ حیرت ہوئی کہ جدید آبادیوں میں اس بار روشنی کہیں کہیں نظر آئی البتہ مساجد سجائی گئی تھیں۔ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ زیادہ تر حضرات نے لبرزم کا مظاہرہ کیا ہے البتہ نیازیں ضرور بانٹی گئیں۔ جہاں تک الیکٹرونک میڈیا کا تعلق ہے تو حیرت انگیز طور پر جشن میلادؐ کی کوریج کم تھی حتیٰ کہ عیدمیلاد کے جلوسوں کو بھی پوری طرح نہیں دکھایا گیا۔ یہ تو میڈیا مینجمنٹ بہتر جانتی ہوں گی کہ کوریج میں ایسی کمی کی وجہ کیا تھی، بہرحال جتنا بھی دکھایا جا سکا وہ غنیمت تھا۔ اس کے علاوہ دل میں آیا کہ شمالی علاقے اور اندرون شہر میں صورت حال کیا ہوگی تو وحدت روڈ سے کینال روڈ سے ہوتے ہوئے علامہ اقبال روڈ اور گڑھی شاہو پل کے راستے شادباغ کی طرف چلے۔ علامہ اقبال روڈ پر جلوس کے استقبال کی تیاریاں نظر آئیں اور تبرک تقسیم ہو رہا تھا تاہم ماضی کی نسبت اس بار بازار کی سجاوٹ نہیں تھی۔ کئی حضرات نے اپنی اپنی عمارتوں پر روشنیاں لگائیں لیکن اجتماعی کاوش نہیں تھی۔ ایسا ہی چوک ناخدا سے تاج پورہ موڑ تک کی کیفیت تھی اور پورا بازار بھرپور روشنیوں سے منور ہوتا تھا لیکن اس بار ایسا نہیں تھا۔ یہ اداسی آگے بڑھتے ہی دور ہوگئی جب تاج پورہ اور شادباغ کے بازاروں اور گلی کوچوں میں روشنیاں جگمگ کررہی تھیں اور تبرک تقسیم کیا جا رہا تھا۔ اس کے لئے ماضی والی روایت میں فرق تھا اور نشستوں کا اہتمام کم جگہوں پر تھا البتہ زردہ، پلاؤ، باربی کیو اور پٹھوروں سے لے کر کولڈ ڈرنکس اور بسکٹوں تک کی تقسیم نظر آ رہی تھی۔ان علاقوں میں میلے جیسا سماں تھا اور لوگ جوق در جوق چلے آ رہے تھے۔ یہ سلسلہ شب بھر جاری رہا اور شہری مستفید ہوتے رہے۔

روشنیاں دیکھنے اور تبرک کے حصول کے لئے موٹرسائیکلوں اور لوڈررکشوں کا عالم ہی کچھ اور تھا۔ گزرنا مشکل اور گاڑی لے کر جانا تو پہاڑ کی چوٹی سر کرنے کے مترادف تھا لوگ معمول کے مطابق اپنی مرضی کررہے تھے جس کی وجہ سے گلیاں اور بازار ہجوم کے باعث بھرے ہوئے تھے۔یہاں سے اپنے پرانے شہر کا احوال جانا تو معلوم ہوا کہ پرانے شہر نے اپنی روایت برقرار رکھی ہے جبکہ غازی آباد، ہربنس پورہ اور فتح گڑھ وغیرہ کے بازار بھی سجائے گئے تھے۔

اس بار سوشل میڈیا پر بڑے مہذب انداز میں میلاد کے جلوسوں پر تنقید کی گئی کہ ان جلوسوں میں ناچ گانے ہوتے رہے اس سلسلے میں کوئی ویڈیو تو نظر نہیں آئیں لیکن اعتراض موجود تھے،حالانکہ جلوسوں کے منتظمین نے بقدر ہمت نظم بحال رکھا تھا، کوریج کم ہونے کے باعث یہ نظم کم دکھایا گیا، بہرحال اس امر سے کسی کو کوئی اختلاف نہیں کہ محافل میلاد اور جلوس بہت مکمل پاکیزگی کے حامل ہونا چاہئیں۔ اس سلسلے میں، میں قارئین کو پھر سے ماضی میں لے جاتا ہوں اور جلوسوں کے آغاز کی تاریخ کا ذکر کرتا ہوں۔قیام پاکستان سے قبل شاتم رسولؐ کو قتل کرکے شہادت کا درجہ پانے والے غازی علم الدین شہید کا تعلق اندرون شہر کشمیری (کسیرا)بازار سے تھا، ان دنوں ہندوؤں کی طرف سے اپنی مذہبی رسوم کے حوالے سے مختلف نوع کے جلوس نکالے جاتے تھے۔ غازی علم الدین کی جرائت والا دور اندرون شہر میں تقسیم کا تھا اور ہندوؤں کے یہ جلوس گراں گزرتے تھے۔ انہی دنوں تکیہ سادھواں اندرون اکبری دروازہ کے ایک ابھرتے ہوئے نوجوان عنائت اللہ قادری نے بارہ وفات کے عنوان سے 12ربیع الاول کے جلوس کی ابتداء کی ابتداء چند نوجوانوں سے ہوئی جو سفید براق کپڑوں اور سبز چادروں سے ملبوس تکیہ سادھواں کی جامع مسجد میں دعا کے بعد روانہ ہوئے۔ چوہٹہ مفتی باقر، بازار نوہریاں اور اندرون اکبری دروازہ سے ہوتے چوک نئی کوتوالی آئے اور یہاں سے اندرون دہلی دروازہ، کشمیری بازار، تالاب پانی والا، ٹبی چوک اور اندرون بھاٹی گیٹ سے ہوتے ہوئے دربار حضرت علی ہجویری المعروف داتا گنج بخشؒ پہنچے اور یوں ان کا پیدل جلوس اختتام پذیر ہوا۔ یہ نوجوان راستے بھر درود و سلام اور نعتیں پڑھتے جاتے تھے۔ ان کی یہ کوشش بہت جلد بار آور ہونے لگی اور نوجوانوں کی تعداد بڑھتی رہی اور جلوس کی پاکیزگی بھی برقرار رکھی گئی۔ تعداد میں اضافہ جوش کے اضافے کا سبب بنا اور جلد ہی تعداد ایک بڑے باوقار جلوس کی ہوگئی یہ نوجوان ٹولیوں کی صورت میں پیدل ہی رواں دواں رہے۔

پھر عنائت اللہ قادری اور ان کے ہمراہیوں نے خطیب جامع مسجد وزیرخان علامہ ابوالحسنات کو دعوت دے کر راہنمائی کے لئے مدعو کیا وہ جلوس کی پاکیزگی کے بارے میں تسلی کے بعد آمادہ ہو گئے، ان کے لئے تانگے کا انتظام کیا گیا اور یہ سواری پہلی مرتبہ شامل ہوئی۔ علامہ ابوالحسنات راستے میں شان رسالتؐ بیان کرتے جاتے اور جس مقام پر جس نماز کا وقت آتا وہاں قریبی مسجد میں باجماعت نماز ادا ہوتی اور یوں یہ جلوس معمول بن گیا اور بارہ وفات کے نام سے موسوم رہا۔

حضرت علامہ ابوالحسنات ہی نے جید علماء کرام کا اجلاس بلایا اور اس میں بحث کے بعد طے ہوا کہ حضورؐ کی ولادت اور یوم وصال کی تاریخ اور دن بھی ایک ہی ہے اور یہ بارہ ربیع الاول ہے اس لئے یوم وفات کی بجائے یوم ولادت منایا جائے۔ متفقہ فیصلے کے بعد طے ہوا کہ 12ربیع الاول جشن آمد مصطفےٰ ؐ ہوگا او ریہ یوم میلاد النبیؐ کہلائے گا اس کے بعد یہ جلوس میلاد النبیؐ کے عنوان سے نکلتا چلا آ رہا ہے۔ زمانے نے بتدریج ترقی کی اور آج ہر علاقے سے الگ الگ جلوس نکلتے ہیں۔

یہ عرض کرنے کا مقصد جہاں میلادالنبیؐ اور جلوس کی تاریخ اور پس منظر بیان کرنا تھا، وہاں یہ بھی بتانا تھا کہ ہمارے بزرگ علماء کرام نے جلوس میں غیر شرعی حرکات کو بردداشت نہیں کیا جب جلوس کے شرکاء کی تعداد بڑھی، لاؤڈ سپیکر کا استعمال ہونے لگا اور غیر شرعی حرکات نوٹس ہوئیں تو علامہ ابوالحسنات اور علماء نے شرکت بند کر دی لہٰذا یہ بات متفق علیہ ہے کہ غیر شرعی حرکات نہیں ہونا چاہئیں، بہرحال اس بری علت میں بھی بتدریج کمی آتی گئی اور اب بڑی حد تک جلوس پاکیزگی لئے ہوتے ہیں۔