غیر ملکی خواتین واپس روانہ، کیس کی تحقیقات لاہور پولیس کر رہی ہے: ڈی آئی جی آپریشنز

لاہور(نمائندہ خصوصی)ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران نے کہا ہے کہ غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغوا اور جنسی زیادتی کے مقدمے کی تحقیقات لاہور پولیس کر رہی ہے، کیونکہ یہ مقدمہ کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے دائرۂ کار میں نہیں آتا۔

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فیصل کامران نے کہا کہ پنجاب پولیس کا ریپ سیل اس کیس کا جائزہ لے رہا ہے، جبکہ پولیس نے واقعے کی اطلاع ملتے ہی موبائل فون نمبرز، گاڑی کی رجسٹریشن، سفری ریکارڈ اور سیف سٹی کیمروں کی مدد سے تحقیقات کا آغاز کیا اور مختلف علاقوں میں چھاپے مارے۔

انہوں نے بتایا کہ تحقیقات کے دوران ملزم محمد رضا ڈار کی شناخت ہوئی، جس کے خاندان کے بعض افراد کا تعلق نائب وزیرِ اعظم کے خاندان سے ہونے کی معلومات سامنے آئیں۔ اس حوالے سے حکومت اور اعلیٰ پولیس حکام کو فوری آگاہ کیا گیا، تاہم حکومت کی جانب سے واضح ہدایات دی گئیں کہ ملزم کے ساتھ کسی بھی دوسرے ملزم سے مختلف سلوک نہ کیا جائے۔

ڈی آئی جی آپریشنز کے مطابق ملزم دونوں خواتین کو گاڑی میں ایئرپورٹ لے جا رہا تھا کہ بھٹہ چوک کے قریب ان کے درمیان ہاتھا پائی ہوئی، جس کے دوران گاڑی ایک مقام پر ٹکرا گئی۔ دونوں خواتین گاڑی سے نکل کر قریبی فلٹر ہاؤس پہنچ گئیں، جہاں سے پولیس نے انہیں بحفاظت بازیاب کر لیا۔

فیصل کامران نے بتایا کہ طبی معائنے کے لیے عدالتی اجازت درکار تھی، جس کے لیے رات گئے ایک ایس ایچ او کو جوڈیشل مجسٹریٹ کی رہائش گاہ بھیجا گیا، جس پر انہوں نے معذرت کا اظہار کیا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اسپین اور ہالینڈ کے سفارتخانوں سے رابطے کے بعد دونوں خواتین طبی معائنے اور مجسٹریٹ کے سامنے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت بیان ریکارڈ کرانے پر آمادہ ہوئیں۔ بعد ازاں سفارتخانوں کی درخواست پر دونوں خواتین اپنے ممالک واپس روانہ ہو گئیں۔

ڈی آئی جی آپریشنز کا کہنا تھا کہ پولیس واقعے کے تمام پہلوؤں، بشمول ممکنہ طور پر ایک سے زائد افراد کے ملوث ہونے کے امکان، کی مختلف زاویوں سے تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے۔