جیلوں کا نیا دور؟

پاکستان میں جب بھی جیلوں کا ذکر آتا ہے تو ذہن میں کوئی اچھی تصویر نہیں ابھرتی ، ایک ایسی تصویر نظر آتی ہے جس میں گنجائش سے کہیں زیادہ آبادی ، خستہ حال عمارتیں، ناقص طبی سہولتیں اور صاف پانی کی عدم دستیابی ، طویل عرصے سے مقدمات کا سامنا کرنے والے انڈر ٹرائل حوالاتی اور صرف سزا پاتے قیدی ، بدقسمتی سے ہماری جیلیں کئی دہائیوں سے انہی مسائل کا شکار ہیں، ایسے میں سپریم کورٹ میں منعقد ہونے والی “جیل اصلاحات کانفرنس” اور اس میں چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سمیت چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کی شرکت اور “اسلام آباد ڈیکلریشن آن پریزن ریفارمز” پر دستخط یقیناً ایک خوش آئند پیش رفت ہے، تاہم اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ اعلان محض ایک دستاویز ثابت ہوگا یا واقعی پاکستان کے جیل نظام میں ایک نئے دور کا آغاز کرے گا؟

چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا کہنا بجا کہ جیلوں کی حالت بہتر بنانا آئینی طور پر صوبوں کی ذمہ داری اور انصاف صرف عدالتی فیصلوں سے نہیں بلکہ ان پر مؤثر عمل درآمد سے مکمل ہوتا ہے، یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کی جا سکتی کہ آئین پاکستان ہر شہری کو، خواہ وہ زیرِ سماعت ملزم حوالاتی ہو یا سزا یافتہ مجرم قیدی ، زندگی، وقار اور انسانی سلوک کا بنیادی حق دیتا ہے،جیل آزادی سے محرومی کی سزا ہے ، انسانیت سے دوری کی نہیں،وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے جیلوں میں جدید اصلاحات متعارف کرانے کی بات کی جبکہ دیگر صوبوں نے بھی اصلاحات، نئی جیلوں کی تعمیر اور انسانی وقار پر مبنی نظام قائم کرنے کے عزم کا اظہار کیا، یہ اعلانات اپنی جگہ لیکن پاکستان میں اصلاحات کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ پالیسیوں سے زیادہ اہم ان پر مسلسل اور دیانتدارانہ عمل درآمد ہے۔

اگر ترقی یافتہ ممالک کے جیل نظام پر نظر ڈالیں تو ایک بنیادی فرق سامنے آتا ہے، وہاں جیل کو صرف سزا کا مقام نہیں بلکہ اصلاح اور بحالی کا ادارہ سمجھا اور بنایا جاتا ہے، ناروے کی مثال دنیا بھر میں دی جاتی ہے جہاں قیدیوں کو تعلیم،کھیل فنی تربیت، نفسیاتی مشاورت، اور روزگار کی مہارت سکھائی جاتی ہے ،فن لینڈ اور نیدرلینڈز نے بھی یہی فلسفہ اپنایا، ان ممالک میں معمولی جرائم کے مرتکب افراد کے لیے پروبیشن، کمیونٹی سروس اور الیکٹرانک مانیٹرنگ جیسے متبادل طریقے اختیار کیے گئے، کینیڈا اور جرمنی میں ذہنی صحت کو جیل اصلاحات کا لازمی حصہ سمجھا جاتا ہے، اس کے برعکس پاکستان کی بیشتر جیلوں میں صورت حال مختلف ہے، ہزاروں انڈر ٹرائل حوالاتی قیدی ایسے ہیں جن کا جرم ابھی عدالت میں ثابت بھی نہیں ہوا لیکن وہ برسوں سے سلاخوں کے پیچھے ہیں، کئی افراد معمولی جرائم میں ضمانت نہ ہونے یا وکیل کی عدم دستیابی کی وجہ سے قید کاٹ رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ حالیہ کانفرنس میں مفت قانونی امداد، ضمانت کے نظام کو مؤثر بنانے، پروبیشن اور پیرول کے دائرہ کار کو بڑھانے پر زور دیا گیا، جو درست سمت میں ایک اہم قدم ہے۔

پنجاب کے لیے یہ موقع ایک نئے ماڈل کی بنیاد رکھنے کا ہے،جیل کے تمام معاملات میں جیل افسران اور عملہ بنیادی کردار ادا کرتے ہیں،چند ہفتے قبل پنجاب کے سابق آئی جی جیل میاں فاروق نذیر کی ریٹائرمنٹ کے موقع موجودہ آئی جی میاں سالک جلال ،پنجاب کی جیلوں میں ہونے والی اب تک کی اصلاحات کا ذکر کر رہے تھے ،اس میں کوئی شک نہیں کی جیل سروس کے آئی جیز نے اب تک جیل ریفارمز میں اچھا کردار ادا کیا ہے ، میاں فاروق نذیر ،ملک مبشر ،ندیم وڑائچ،کیپٹن سرفراز مفتی نے اپنے اپنے ادوار میں نمایاں کام کیے،اب یہ ذمہ داری میاں سالک جلال کے کندھوں پر ہے تو ان سے بھی یہی امید ہے کہ وہ اپنےحصے کا کام بخوبی انجام دیں گے ، انہیں سوچنا ہو گا کہ اگر واقعی جدید اصلاحات متعارف کرائی جا رہی ہیں تو ان کا مرکز صرف نئی عمارتیں نہیں ایک نئی سوچ ہونی چاہیے، جیل میں داخل ہونے والا ہر شخص ایک جیسا نہیں ہوتا، کوئی پہلی بار جرم کرتا ہے، کوئی غربت کے ہاتھوں مجبور ، کوئی نشے کا شکار اور کوئی ذہنی بیماری میں مبتلا، ان سب کے ساتھ ایک جیسا سلوک انصاف ہے نہ دانشمندی،وقت آ گیا ہے کہ پنجاب کی جیلوں میں باقاعدہ ٹیکنیکل ٹریننگ سینٹر قائم کیے جائیں جہاں قیدی الیکٹریشن، پلمبر، ویلڈر، کمپیوٹر آپریٹر، ٹیلرنگ، قالین بافی، فرنیچر سازی، زرعی ٹیکنالوجی اور دیگر ہنر بہتر طریقے سے حاصل کر سکیں، رہائی کے بعد اگر ان کے ہاتھ میں ہنر ہوگا تو ان کے دوبارہ جرم کی طرف لوٹنے کے امکانات کم ہوں گے۔اسی طرح جیلوں میں جدید طبی مراکز، ذہنی صحت کے یونٹس، صاف پانی، معیاری خوراک اور ڈیجیٹل ریکارڈ کا نظام بھی ناگزیر ہے، عدالتوں کے ساتھ ویڈیو لنک کے ذریعے پیشیوں کا دائرہ وسیع کیا جائے تاکہ اخراجات اور سکیورٹی کے مسائل کم ہوں اور مقدمات کی سماعت بھی تیز ہو،ایک اور اہم پہلو خواتین اور بچوں کا ہے، خواتین قیدیوں کے بچوں کی تعلیم، صحت اور نفسیاتی نشوونما کے لیے الگ منصوبہ بندی ہونی چاہیے، ذہنی مریضوں اور معذور قیدیوں کے لیے خصوصی مراکز قائم کیے جائیں،یہ بھی ضروری ہے کہ جیلوں کے اندر موجودہ صنعتوں اور تربیتی مراکز کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے، اگر قیدی اپنی محنت سے معقول آمدنی حاصل کریں اور اس کا کچھ حصہ ان کے خاندان تک پہنچے تو ایک طرف ان کے اہل خانہ کی مشکلات کم ہوں گی اور دوسری طرف قیدی میں عزتِ نفس بھی پیدا ہوگی۔

اسلام آباد ڈیکلریشن اپنی روح کے اعتبار سے ایک مثبت اور تاریخی دستاویز ہے، لیکن اس کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ آئندہ چند برسوں میں صوبائی حکومتیں اس پر کتنا عمل کرتی ہیں، اگر یہ محض اجلاسوں، تصویروں اور بیانات تک محدود رہا تو جیلوں کی دیواروں کے اندر کچھ نہیں بدلے گا، لیکن اگر حکومتیں سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر اس اصلاحاتی ایجنڈے کو مستقل پالیسی بنائیں، بجٹ مختص کریں، نگرانی کا مؤثر نظام قائم کریں اور نتائج عوام کے سامنے رکھیں تو پاکستان بھی ان ممالک کی صف میں شامل ہو سکتا ہے جہاں جیلیں صرف سزا گاہ نہیں بلکہ اصلاح گاہ ہوتی ہیں۔