پروفیسر تیمور الحسن شکر ہے آپ ایک استاد ہیں

میں نے فیس بک پر ایک پوسٹ پڑھی تو چونک گیا۔ ابھی چند دن پہلے تو اُس سے ڈھیروں ملاقاتیں تھیں اور وہ ایک ہنستا مسکراتا خوبرو لڑکا تھا۔ اب اُس نے لکھا ہے کہ وہ تقریباً 40برس تک پیشہ ورانہ خدمات انجام دینے کے بعد ریٹائر ہو رہا ہے۔ میں نے ٹھٹک کر اپنی یادوں میں دوبارہ جھانکا۔ میں بھی صحیح تھا اور وہ بھی صحیح ہے۔ پنجاب یونیورسٹی میں سال 1983ء کے جرنلزم ڈیپارٹمنٹ میں ہم سب کلاس فیلو بنے اور اُس وقت تیمور الحسن وہی تھا جو میں نے اوپر لکھا اور اب 40برس بعد وہ لڑکا یونیورسٹی کی فیکلٹی سے پروفیسر ڈاکٹر تیمور الحسن کی حیثیت سے ریٹائر ہو رہے ہیں۔ بیشک یہ لمبا عرصہ مجھے چند دن پہلے کی بات ہی لگی لیکن جب غور کیا تو پتا چلا کہ تیمور الحسن نے پروفیسر ڈاکٹر بننے اور بعد کے سفر میں ایسے میدان مارے ہیں جنہیں پڑھ کر ایک دم یقین کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ وہ اس لیے کہ علمی گراف میں اتنا اضافہ ایک اکیلی شخصیت کی بجائے ایک بڑے ادارے کا کام ہوتا ہے لیکن یہ سچ ہے کہ وہ ادارہ اکیلے پروفیسر ڈاکٹر تیمور الحسن ہیں۔

یونیورسٹی کے جنرلزم ڈیپارٹمنٹ سے جانے کے بعد تیمور الحسن نے وہ سب کچھ کیا جو تعلیمی ڈگری حاصل کرنے کے بعد اُس میدان میں روزگار جاری رکھنے کے لیے سب ہی کرتے ہیں مگر تیمور نے علم کے حصول اور اُسے دوسروں تک پہنچانے کے عشق میں کیا کیا نہیں کیا۔ انہوں نے جواں سال صحافی کی حیثیت سے پاکستان ٹائمز میں اسسٹنٹ ایڈیٹر اور نیوز ایڈیٹر، ایسوسی ایٹڈ پریس آف امریکہ میں رپورٹر، ڈیلی سن میں مینجنگ ایڈیٹر اور گروپ مینجنگ ایڈیٹر، فرنٹیئر پوسٹ میں ایگزیکٹو ایڈیٹر، نظریہ پاکستان فائونڈیشن میں ایڈیٹر ویب ریسرچ پورٹل، ڈیلی پوسٹ میں جوائنٹ ایڈیٹر اور ہیرالڈ، دی نیوز، دی نیشن میں فری لانس رائٹر کے طور پر کام کیا۔ لگتا ہے کہ اس صحافت گردی کے بعد تیمور نے کچھ اور سوچنا شروع کیا کہ وہ اپنی صلاحیتوں کی روشنی دوسروں تک براہِ راست پہنچائیں۔

اس کے تجربے کے طور پر انہوں نے بزنس ریکارڈر اور آج ٹی وی میں بطور ٹرینر، کنیئرڈ کالج میں وزیٹنگ فیکلٹی ممبر، سوشل اینڈ ڈیویلپمنٹ سیکٹر میں بطور کنسلٹنٹ اور میڈیا سپیشلسٹ طبع آزمائی کی اور اپنے آپ کو منوایا۔ ان تمام مصروفیات کے ساتھ ساتھ وہ اپنے علم میں اضافہ اور اپنی پی ایچ ڈی کے لیے ریسرچ بھی کرتے رہے۔ اب تیمور ایک فیصلے پر پہنچ چکے تھے اور وہ تھا ایک ہمہ وقت استاد بننا۔ پھر انہوں نے پیچھے مڑکر نہیں دیکھا۔ انہوں نے بیکن ہائوس یونیورسٹی میں سکول آف میڈیا اینڈ ماس کمیونی کیشن قائم کیا اور اس کے بانی ایسوسی ایٹ پروفیسر پھر پروفیسر اور بعد میں ڈین بنے۔ بعد ازاں یوسی پی یونیورسٹی میں پروفیسر اور فیکلٹی آف میڈیا اینڈ ماس کمیونی کیشن کے ڈین کے طور پر اب تک ذمہ داریاں نبھاتے رہے۔

اس دوران انہوں نے اِس یونیورسٹی میں ڈیپارٹمنٹ آف فلم، ٹی وی اینڈ ڈیجیٹل میڈیا کا ایک نیا شعبہ شروع کیا اور دو نئے ڈگری پروگرامز کا آغاز بھی کروایا۔ پروفیسر تیمور الحسن نے اپنے 40برس کے میڈیا و ایجوکیشن اور ریسرچ کیرئیر میں 2ہزار سے زائد نیوزپیپر آرٹیکل و ایڈیٹوریل لکھے اور 70 سے زائد ریسرچ پبلی کیشنز بھی سامنے لائے۔ اُن کی ایک کتاب ’’پریس اینڈ سول سوسائٹی اِن پاکستان‘‘کے ٹائٹل سے شائع ہوچکی ہے جبکہ دو کتابیں ابھی اشاعت کے مراحل میں ہیں۔ وہ ایچ ای سی میں پی ایچ ڈی سپروائزر، ممبر ماس کمیونی کیشن نصابی کمیٹی، ممبر ٹیکسٹ بک اور مونوگراف ایویلیوایشن کمیٹی سمیت پنجاب پبلک سروس کمیشن میں ممبر سلیکشن کمیٹی اور ممبر نصابی کمیٹی بھی رہے۔ ڈاکٹر تیمورالحسن ملکی اور بین الاقوامی تحقیقی جرنلز کے ممبر رہنے کے ساتھ بہت سی ملکی اور بین الاقوامی کانفرنسوں میں بطور محقق اور میڈیاماہر شرکت کرچکے ہیں۔

خاص طور پر انہوں نے جرمنی میں گلوبل میڈیا فورم میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ اُنہوں نے کئی ملکی اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ ایم او یوز بھی سائن کئے۔ اُن کی خدمات کے اعتراف میں انہیں ’’بیسٹ ٹیچر ایوارڈ‘‘ بھی دیا گیا۔ سقراط نے کہا تھا کہ ’’میں کسی کو کچھ نہیں پڑھا سکتا، میں صرف انہیں سوچنے کے قابل بناسکتا ہوں‘‘۔ پروفیسر تیمور اسی بات کو ماننے والے ہیں اور کہتے ہیں کہ ’’ہمارے ہاں ایسی تعلیم کو پسند نہیں کیا جاتا جو ذہنوں کو آزاد کرے‘‘۔ اُن کی ریٹائرمنٹ کا سنا تو خیال آیا کہ استاد کو ملازمتوں اور ریٹائرمنٹ کا پابند نہیں کرنا چاہئے۔ جن معاشروں میں استاد کو ریٹائرمنٹ کا پابند کردیا جاتا ہے اُن معاشروں کو صدیوں بعد آرکیالوجسٹ آکر دبی ہوئی مٹی سے نکالتے ہیں۔ جن معاشروں میں استاد کو ریٹائرمنٹ کا پابند نہیں کیا جاتا وہاں وہ سدابہار درختوں کی مانند ہوتے ہیں جن کی جڑیں مزید سدابہار درخت پیدا کرتی رہتی ہیں اور پورا خطہ سرسبز رہتا ہے۔

اس کے علاوہ ہمارے ہاں آج کل ایک اور معاشرتی بدبختی سرچڑھ کر بول رہی ہے۔ وہ یہ کہ اب ہمارے ہیرو ٹک ٹاکرز ہیں۔ لہٰذا ’’کوئی بتلائو کہ ہم بتلائیں کیا‘‘ کہ استاد کا کیا رتبہ ہے؟ لیکن میرا ایمان ہے کہ استاد ایک مسلمہ ہیرو ہے۔ پروفیسر تیمور الحسن کے بیشمار شاگرد اپنے استاد سے حاصل ہونے والی علم کی روشنی کو پھیلاتے رہیں گے۔ یعنی پروفیسر تیمور الحسن سے اُن کے شاگرد اور پھر اُن کے شاگردوں کے شاگردوں کا یہ سلسلہ بہت دور تک چلے گا۔ انگریزی ادب میں ’’گڈبائے مسٹر چپس‘‘ ایک شاندار ناول ہے۔ اِس کے مرکزی کردار مسٹر چپس جوکہ ایک استاد ہے کے جذبات اور اُس کی محبوبہ کا مکالمہ کچھ یوں ہے۔

’’شروع شروع میں جب اُس نے کیتھی کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا شروع کیا تھا تو اُسے ایک خوف لاحق ہوا کہ نیلی آنکھوں والی پریوں جیسی دلفریب انگلستان کی یہ لڑکی جس کے ایک اشارے پر اُمراء کا جلسہ عام منعقد کیا جاسکتا ہے کو جب معلوم ہوگا کہ وہ ایک استاد ہے تو وہ کیا ردعمل ظاہر کرے گی؟ آخر ایک دن اس نے ہمت کرکے کیتھی سے کہہ ہی دیا۔ یہ سن کر کیتھی اُس کی طرف مڑتے ہوئے جان کھینچ لینے والی مسکراہٹ اور بدن کو ڈھیر کردینے والی نگاہوں سے تکتے ہوئے بولی اوچپس! پیارے چپس! میں بہت خوش ہوں کہ تم جو ہو۔ میں جب پہلی مرتبہ تم سے ملی تھی تو خوفزدہ تھی کہ کہیں تم ایک وکیل یا سٹاک ایکسچینج میں حصص کا کاروبار کرنے والے ایجنٹ یا ایک ڈینٹل سرجن یا مانچسٹر میں کاٹن کا بڑا کاروبار کرنے والے ایک بزنس مین نہ ہو لیکن شکر ہے کہ تم ایک استاد ہو۔ استاد ہونا ایک بہت ہی مختلف کام ہے، بہت اہم کام ہے، بہت معزز کام ہے۔ کیا تمہیں معلوم ہے چپس! ایک استاد اُن بچوں پر اثرانداز ہوتا ہے جو بڑے ہو رہے ہوتے ہیں اور جنہوں نے کل دنیا پر اثرانداز ہونا ہوتا ہے‘‘۔ نوجوان تیمور نے بھی ایک استاد بننا پسند کیا اور آج اُن کے دوست اُن پر نازاں ہیں اور کہتے ہیں پروفیسر ڈاکٹر تیمور الحسن شکر ہے آپ ایک استاد ہیں۔