پانچ جولائی 1977 ء ملکی تاریخ کا ایک باب

جب پانچ جولائی آیا تھا تو اس وقت ملک سیاسی لحاظ سے لاقانونیت اور افراتفری کا شکار تھا، آئینی مشینری ملک میں امن و امان برقرار رکھنے میں پوری طرح ناکام ہوچکی تھی، وجہ یہ تھی کہ مارچ 1977ء کے عام انتخابات کے یک طرفہ نتائج کے خلاف پوری قوم سراپا احتجاج تھی، پوری قوم یہی کہہ رہی تھی کہ حکومت کی سطح پر عام انتخابات میں منظم دھاندلی ہوئی ہے، 1970ء کے انتخابات کے نتائج صرف ایک سیاسی جماعت پیپلز پارٹی نے تسلیم نہیں کیے تھے اور 1977ء کے عام انتخابات کے نتائج پوری قوم نے مسترد کردیے تھے، یہی حقائق ہیں جو 5جولائی1977ء کے فیصلے کا باعث بنے، اس فیصلے پر قوم نے اس روز جشن اور یوم نجات منایا تھا، اس فوجی اقدام سے متعلق بہت کچھ کہا اور لکھا بھی گیا،بہت کچھ لکھا بھی جارہا ہے، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ملک میں صدر جنرل محمد ضیاء الحق شہید کی سیاسی لیگیسی نہ صرف موجودہے بلکہ ان کے دور حکومت میں ملک کی ترقی، سلامتی، خوشحالی اور اس ملک کے دفاع کو مضبوط بنانے کے ناقابل تسخیر اقدامات کیے جانے پر عوام میں ان کی سیاسی مقبولیت اور قبولیت کا ایک وسیع حلقہ موجود ہے، جب بھی ملکی دفاع کو مضبوط بنانے اور ملک میں اسلامی نظام حیات کے عملی نفاذ کیلئے کیے گئے اقدامات کا ذکر ہو گا تو صدر جنرل محمد ضیاء الحق شہید کے بغیر یہ ذکر مکمل نہیں ہوسکتا، پانچ جولائی کے اقدام کو اب تقریبا ًنصف صدی ہونے کو ہے، اس بارے میں جمہوریت کا نکتہ نظر مختلف ہوسکتا ہے مگر قومی سلامتی کے حوالے سے یہ اقدام اس وقت ناگزیر ہوچکا تھا، اگر کوئی سیاسی تعصب کی نگاہ سے دیکھے تو اس کی مرضی، مگر یہ اقدام ملکی سلامتی کے حقائق کے ساتھ دیکھا جائے تو ہمیں معلوم ہوگا کہ پاک افواج ہی ملکی سلامتی اور دفاع کے لیے ناقابل تسخیر قوت ہے اور گذشتہ سال مئی میں معرکہ حق میں یہ بات ایک بار پھر ثابت بھی ہوئی ہے ہمارا آئین وفاقی پارلیمانی نظام کی بات کرتا ہے مگر جب آئین پر عمل ہی نہ کیا جائے، عوام کی رائے کو اہمیت نہ دی جائے تو پھر ریاست اور آئین دونوں ہی کو تحفظ دینے کی بات ہو گی۔

بھٹو صاحب کے پورے دور میں سیاسی مخالفین خواجہ محمد رفیق، ڈاکٹر نذیر احمد جیسے لوگ قتل ہوئے، اور ان کے قاتل ملک میں سیاسی تقسیم کے باعث گرفتار نہیں کیے جاسکے، خود پیپلزپارٹی کے وہ لوگ جنہوں نے بھٹو صاحب کے ساتھ پارٹی کی بنیاد رکھی اور ان کا ساتھ دیا، ان میں بیشتر ایسے تھے جنہیں اختلاف رائے کے باعث بدترین اذیتیں دی گئیں، پارٹی سے نکال دیا گیا۔ انتخابات سے پہلے بھی ملکی سیاست کاعالم یہ تھا کہ اس وقت بھٹو صاحب کی حکومت اور اپوزیشن اتحاد ایک دوسرے کو دیکھنے اور برداشت کرنے کے روادار نہیں تھے، انتخابات کے بعد تو حالات بھٹو صاحب کے ہاتھ سے نکل گئے، ملک کی انتظامی مشینری عوامی احتجاج کے نتیجے میں تقریباً مفلوج ہوچکی تھی۔

آئین کے تحت قومی اسمبلی کی مدت14 اگست 1977ء کو ختم ہونے والی تھی، بھٹو صاحب نے 1975ء میں ہی ایک سال قبل ملک میں عام انتخابات کرانے عندیہ دے دیا تھا، یہ فیصلہ بھی پیپلز پارٹی کا اپنا ہی تھا کہ قبل از وقت انتخابات کرائے جائیں، بھٹو صاحب پر کوئی دباؤ نہیں تھا، اس بارے میں پیپلزپارٹی کے راہنماء بھٹو صاحب کے ساتھی رانا شوکت محمود کی اپنی کتاب میں لکھی ہوئی کہانی ہی گواہی کیلئے کافی ہے،ملک میں قبل از وقت عام انتخابات کرانے کا اعلان کرکے بھٹو صاحب نے انتخابی مہم بھی شروع کردی اور 5 جنوری 1977ء کوملک میں مزید زرعی اصلاحات کر کے مالیہ ختم کردیا اس کے علاوہ 25 ایکڑ نہری اور50 ایکڑ بارانی اراضی کے مالکان کیلئے انکم ٹیکس بھی معاف کردیا،سول اور فوجی ملازمین کی پنشن میں دوگنا اضافہ کر کے مراعات دی گئیں اور10 جنوری 1977ء کو صدر فضل الٰہی چوہدری نے قومی اسمبلی تحلیل کردی، اعلان کیا کہ عام انتخابات 7مارچ کو ہونگے اور 10 مارچ کو صوبائی اسمبلی کیلئے پولنگ ہو گی، انتخابات کا اعلان کرتے ہوئے بھٹو صاحب نے کہا تھا کہ مجھے یقین ہے کہ انتخابات شفاف ہونگے، انتخابات کا اعلان ہوتے ہی 11جنوری کو اپوزیشن کی نو جماعتوں پر مشتمل ”پاکستان قومی اتحاد“ کی تشکیل کا اعلان کردیا گیا، کہا جاتا ہے کہ بھٹو صاحب کے انتہائی قریبی لوگ جن میں رفیع رضا شامل تھے، انہیں اپوزیشن کی خاموش تیاری کا علم تھا مگر انہوں نے اپنی قیادت کو بے خبر رکھا۔بھٹو صاحب کے سیاسی حریف مولانا جان محمد عباسی کو اغواء کرکے انہیں کاغذات نامزدگی داخل نہ کرنے دیے گئے، اور یوں بھٹو صاحب کی بلامقابلہ کامیابی کا اعلان کردیا گیا، اور ان کی کابینہ کے بیشتر وزراء بھی بلامقابلہ کامیاب قرار پائے، بہر حال عام انتخاب کیلئے بیالیس روزہ انتخابی مہم تلخ اور ہنگامہ خیز واقعات سے بھرپور تھی، انتخابی نتائج آئے تو پیپلزپارٹی نے 155 نشستوں پر کامیابی حاصل کی اور پاکستان قومی اتحاد کو صرف36 نشستوں پر کامیابی ملی، کچھ آزاد امید وار کامیاب ہوئے،انتخابی نتائج پر ملک میں عوامی سطح پر رد عمل بہت شدید ہوا اور پاکستان قومی اتحاد نے صوبائی انتخابات کا بائیکاٹ کردیا اور الیکشن کمیشن توڑنے، فوج اور عدلیہ کی نگرانی میں از سر نو انتخابات کرانے کا مطالبہ کردیا اور دھمکی دی کہ اگر14مارچ تک مطالبات تسلیم نہ کئے تو ملک گیر تحریک چلائی جائے گی،12 مارچ کو بھٹو صاحب نے پاکستان قومی اتحاد کو مذاکرات کی پیش کش کی مگر اتحاد کے سربراہ مولانا مفتی محمود نے اسے مسترد کردیا اور بھٹو صاحب کو خط لکھا کہ نئے انتخابات کرائے جائیں، بھٹو صاحب نے19 مارچ کو خط کا جواب دیا کہ از خود انہوں نے شکایات کا جائزہ لینے کا عمل شروع کر دیا ہے۔اس وقت پاکستان قومی اتحاد میں شامل جماعتیں کوئی زیادہ منظم نہیں تھیں، ان کے پاس وسائل بھی نہیں تھے اور قیادت بھی کوئی کرشماتی نہیں تھی لیکن عوام کی اکثریت بھٹو صاحب کی حکومت سے تنگ تھی لہٰذا حکومت کیخلاف غصے اور نفرت میں عوام نے پاکستان قومی اتحاد کی تحریک کا ساتھ دیا،عوامی تحریک آگے بڑھی تو بھٹو حکومت بھی چاروں صوبائی اسمبلیاں توڑنے اور نئے انتخابات کیلئے تیار ہو گئی اور اعلان کیا کہ اگر پاکستان قومی اتحاد صوبائی اسمبلیوں میں اکثریت حاصل کرلے تو وہ قومی اسمبلی توڑدیں گے تاکہ قومی اسمبلی کے بھی ازسر نو انتخابات ہوسکیں، لیکن عوام کی حمائت کے باعث قومی اتحاد نئے انتخابات کے سوا کسی چیز پر راضی نہ ہوا، یہی وہ موڑ ہے جہاں کہانی نے ایک نیا رخ اختیار کیا کہ10 اپریل کو بھٹو صاحب نے اس وقت کے آرمی چیف جنرل محمد ضیاء الحق سے ملاقات کی، اور کہا کہ ”ان کی حکومت انصاف کے تقاضے پورے کریگی اور انتخابی مسائل کے حل کیلئے مذاکرات کے دروازے بند نہیں کریگی، تاہم فوج کسی بھی ناگہانی صورت حال کے مقابلے کیلئے خود کو تیار رکھے،یہ پہلا حکم تھاجو بھٹو صاحب نے اس صورت حال میں فوج کودیا تھا، اس ملاقات کے بعد جنرل ضیاء الحق نے اپنے رفقاء کار کو اعتماد میں لیا تاہم بھٹو صاحب کی حکومت کیلئے عوام کی حمائت بہت کم ہوتی جارہی تھی وزیراعظم بھٹو صاحب اصل صورت حال سے بھی آگاہ کیا گیا کہ عوام میں ان کی حکومت کے بارے میں کیا ردعمل ہے تاہم فیصلہ یہی ہوا کہ فوج سیاست سے دور رہے گی۔

یہاں 1977ء کے مارشل لاکے کچھ حقائق بیان کرنا ضروری ہیں تاکہ سیاسی تاریخ کے طالب علم اس سے رہنمائی لے سکیں اور وہ اس وقت کے سیاسی حالات کے تناظر میں واقعات کو پرکھ اور سمجھ سکیں، جب ملک میں فوج نے نظم و نسق سنبھالا تو عوام بھی خوش ہوئے، اوراس وقت کے صدر جناب فضل الٰہی چوہدری نے بھی اطمینان کا سانس لیا اور مارشل لا حکومت کے ساتھ کام جاری رکھنے کی درخواست بھی قبول کرلی،بلکہ انہوں نے جنرل ضیاء الحق کو متعدد قیمتی مشورے بھی دیے، یہ ایک نہایت مختصر سا پس منظر ہے جس کی یہاں نشاندہی کی گئی ہے ان کی گواہی کیلئے خود پیپلزپارٹي کے راہنماء رانا شوکت محمود کی کتاب انقلاب اور رد انقلاب سے بھی مل سکتی ہے اس سارے پس منظر کو بیان کرنے کا مقصد صرف یہی ہے کہ ہم آج اپنے سیاسی حالات کا بھی جائزہ لیں، سیاسی جماعتیں مل کر اس پارلیمنٹ کو مضبوط بنانے کی کوشش کریں، اگر عوام مطمئن نہ ہوئے تو حالات ہاتھ سے نکل بھی سکتے ہیں اہم نقطہ جسے سمجھنے کی ضرورت ہے، ہر حکومت آئین کے ذریعے پابند بنائی گئی ہے کہ وہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ کرنے کی پابند ہوگی، اور ملک میں امن و امان قائم رکھے گی ملکی سلامتی کو یقینی بنائے گی،پانچ جولائی1977ء کے اقدام کا جواب تلاش کرنے کے لیے ہمیں سچ بولنا اور سچ سننا ہوگا، مستقبل میں مارشل لاء کی راہ روکنے کیلئے آئین میں آٹھویں ترمیم کے ذریعے نیشنل سیکورٹی کونسل تشکیل دینے کی تجویز بھی جنرل محمد ضیاء الحق نے ہی دی تھی اور آئین میں آرٹیکل58/2b متعارف کرایا مگر یہ دونوں تجاویز سیاسی راہنماؤں اور پارلیمنٹ نے ہی رد کیں، سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ ملک میں سیاسی استحکام لائیں، پارلیمنٹ کو مضبوط بنائیں اور ملکی سلامتی کو مقدم رکھیں اور عوام کو ان کے بنیادی حقوق دیں ایسا کرنے سے ہی جمہوریت مضبوط ہوگی اور ملک میں مستحکم سیاسی نظام تشکیل پائے گا۔